|

وقتِ اشاعت :   May 7 – 2018

کوئٹہ: کوئٹہ میں کوئلے کی کانوں میں دو حادثات میں جاں بحق مزدوروں کی تعداد 23ہوگئی۔لاشوں کو تقریباً دس گھنٹے بعد نکال کر آبائی علاقوں کو روانہ کردیا گیا۔ ساتھیوں کی ہلاکت کے خلاف کوئٹہ میں کانکنوں کی تنظیم نے احتجاج کیا اور چیف جسٹس آف پاکستان سے آئے روز کوئلہ کانوں میں مزدوروں کی ہلاکت کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ 

تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو کوئٹہ سے تقریباً50کلومیٹر دور مارواڑ اور تقریباً 35کلومیٹر دور سورینج میں دو مختلف کوئلہ کانوں میں حادثات پیش آئے۔ چیف انسپکٹر مائنز کے مطابق حادثات کان میں گیس بھر جانے سے دھماکے کے بعد مٹی کے تودے گرنے سے پیش آئے۔ 

مارواڑ میں16کانکنوں کی موت ہوئی جبکہ12زخمی ہوئے ۔ لاشوں کو نکال کر آبائی علاقوں کو روانہ کردیا گیا۔ زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ لے جایا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی گئی جبکہ پی ایم ڈی سی کے قریب سورینج کے علاقے میں کوئلہ کان میں9کانکن پھنس گئے تھے جن میں سے تین کی لاشیں ابتدائی کوششوں میں نکال لی گئی تھیں اور دو کو زخمی حالت میں زندہ نکالا گیا جبکہ چار کانکنوں کی لاشیں تقریباً دس گھنٹے کی کوششوں کے بعد رات گئے نکالی گئیں۔

اس طرح دونوں حادثات میں مجموعی طور پر جاں بحق ہونیوالے کانکنوں کی تعداد23ہوگئی۔ تمام کانکنوں کا تعلق خیبر پشتونخوا کے شہر سوات اور شانگلہ سے بتایا جاتا ہے جن کی متیں رات کو ہی آبائی علاقوں کو روانہ کی گئیں۔ اتوار کو کانکنوں کی لاشیں آبائی علاقے پہنچنے پر کہرام مچ گیا ۔ پورا علاقہ سوگوار رہا۔ 

چیف مائنز انسپکٹر کا کہنا ہے کہ کانکن تین سے چار ہزار فٹ کی گہرائی میں پھنسے تھے اس لئے انہیں زندہ نہیں نکالا جاسکا۔ جبکہ کانکنوں کا مؤقف ہے کہ امدادی سرگرمیاں انتہائی تاخیر سے شروع کی گئیں۔ 

چیف انسپکٹر مائنز کے مطابق مارواڑ اور سورینج حادثات کی تحقیقات کے لیے انکوائری کی جائے گی جس کی منظور سیکرٹری معدنیات دیں گے اور دونوں حادثات کی علیحدہ علیحدہ تحقیقات ہوں گی ۔دونوں متاثرہ کانوں کو سیل کردیا گیا ہے۔ چیف انسپکٹر مائنز افتخار احمد خان کا کہنا ہے کہ حادثات کی دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ کان کنوں کی اپنی غفلت ہے۔ 

کانوں میں حادثات اکثر تب پیش آتے ہیں، جب کان کن چھٹی کے دن کے بعد ہفتے کی صبح کان میں اترتے ہیں۔ کان کن ہر جمعرات کی شام سے کام بند کرکے جمعہ کے دن بھی مکمل چھٹی کرتے ہیں، عموما اس دوران کان میں گیس جمع ہوتی ہے۔ 

ہفتے کی صبح جب وہ کان میں اترتے ہیں تو کان میں گیس چیک کرنے سے پہلے ہی کام شروع کردیتے ہیں۔ اسی طرح کان حادثات کی بڑی وجہ مالکان کی جانب سے کوئلہ کانیں ٹھیکے پر دینا بھی ہے۔ ٹھیکیدار ٹھیکے کی مدت کے دوران کانکن کی جان کی قیمت پر زیادہ سے زیادہ کوئلہ نکالتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کما سکیں۔ 

مائنز ایکٹ بھی تقریبا ایک صدی پرانا ہے اس میں غفلت بھرتنے پر سزائیں بہت کم ہیں۔دوسری جانب کان حادثات میں مزدوروں کی ہلاکت کے خلاف کوئٹہ میں کانکنوں کی تنظیم سینٹر ل مائنز لیبر فیڈریشن کی جانب سے ریلی نکالی گئی اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کو بیس بیس لاکھ روپے فی کس امداد دینے ، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ 

انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹسے بھی اپیل کی کہ وہ کوئلہ کانوں میں آئے روز پیش آنیو الے حادثات کا نوٹس لیکر ذمہ داروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے اور مزدوروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کو اقدامات کرنے کا حکم دیں۔ 

کانکنوں کا کہنا تھا کہ کوئلہ کانوں میں حفاظت کے جدید اور مناسبت انتظامات کا بندوبست نہ ہونے کے باعث ہر سال درجنوں کانکن موت کے منے میں چلے جاتے ہیں۔فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل لالہ سلطان کا کہنا تھا کہ سیفٹی کے انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ان کانوں میں حادثات اب معمول بن گئے ہیں۔

انھوں نے کوئلے کی کانوں میں حادثات کی ایک بڑی وجہ ٹھیکیداری نظام کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیکیدار اپنے آپ کو سیفٹی یا مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے ذمہ دار نہیں سمجھتے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2010 سے لیکر اب تک بلوچستان میں کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے واقعات میں 200 سے زائد کان کن ہلاک ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ معدنیات بھی سیفٹی اور مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو اس کا ازخود نوٹس لینا چائیے تاکہ حادثات کے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو کی ٹیمیں میں کوئلہ کانکنوں کو شامل کیا جائے کیونکہ حادثات پیش آنے کی صورت میں یہی کانکن ہی فوری طور پر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اور کان کے اندر اتر کر لاشوں اور زخمیوں کو نکالتے ہیں۔ پی ڈی ایم اے، ریسکیو ٹیمیں اور دیگر متعلقہ ادارے بروقت نہیں پہنچتیں اور نہ ہی ان کے اہلکار کان کے اندر اترتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مائنز ایکٹ کو مؤثر بناکر مزدوروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں، حادثہ میں جان بحق افراد کا تعلق شانگلہ کے علاقوں زڑہ شلاؤو،پیرآباد سے ہیں۔ انتظامیہ کی طویل کوششو ں کے بعد میتوں کو نکالا گیا جس کی ابائی علاقوں میں اجتماعی نماز جنازوں کے بعد سپردخاک کر دئے گئے ۔ 

مارواڑ مارگٹ کائلہ کان جان بحق ہونے والوں میں عبداللہ، عبدالحق پسران عبدالقیوم۔لیاقت علی ولد خان زادہ،رحیم ولد بخت زر،جاوید ولد محمد علی،نصراللہ ولدجہان ملک،محمد وحیدولدقب،حضرت نبی ولد گل وہاب،فوجون ولد شیر افضل،محمدخالدولدشیرمحمد،عبدالطیف ولد اکرام اللہ،نصیب اللہ ولد علی،جہان زر ولداضرخان،دلاورولددلبرخان ان سب محنت کشوں کا تعلق زڑہ ،شلاؤو،دولو یونین کونسل ڈھیری سے ہیں ۔

کاریز پی ایم ڈی سی میں کائلہ کان جان بحق ہونے والوں میں گل فرین ولد روزر،شیربازولددواخان،فیاض ولدمحمدشیر،خان بادشاہ ولدفاتح مند،ابراہیم ولد جمشید،عبدالحلیم ولد شہاب الدین،منور ولد دلاور شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں بخت زمان ولد باروز،انعام الحق ولد محمد منیر،گل نیروزولدگل محمد،ممتاب شامل ہیں ۔

جس کے حالت خاطر ے سے باہر بتائی جارہی ہے رواں ماہ کوئلہ کانوں میں یہ بہت بڑا سانحہ ہے جس میں ہر ایک میں بدقسمتی سے شانگلہ کے محنت کش لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔ تدفین کے دوران علاقے میں سخت غم کا سماں تھا ، ہر آنکھ اشکبار رہی ۔افسوسناک واقعے پر مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں نے اظہار افسوس کیا۔