|

وقتِ اشاعت :   May 10 – 2018

کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری ،سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ وسینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاہے کہ 2013کاالیکشن کسی کی ضرورت تھی اور مخصوص لوگ اور قوم پرستوں کو لانا تھا۔

اب ایسا نہیں ہونا چاہیے ،ہمارے ووٹ اور بکس چوری کئے گئے اور نتائج تبدیل ہوئے ،الیکشن کمیشن نے کمرے میں بیٹھ کر آنکھیں بند کر کے حلقہ بندیاں کی ہیں، حلقہ بندیوں میں شکوک شبہات کیساتھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیسے انتخابات ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ قلات ،خضدار اور چاغی کو ایک حلقہ بنایاگیا ہے جس کے درمیان 11سو کلو میٹر کا فاصلہ ہے ایک امیدوار اتنے بڑے حلقے کو کیسے دورہ کرسکے گا ،انہوں نے کہاکہ میں سیکرٹری الیکشن کمیشن سے بھی اس سلسلے میں بات کی تھی کہ آپ خود چیف سیکرٹری بلوچستان رہ چکے ہیں آپ کو بلوچستان کے تمام حلقوں کے بارے میں معلومات تھی مگر نئی حلقہ بندی میں آپ نے یہ کیسا کیا ۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ واقعی غلطی ہوئی ہے ،مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ موسی خیل ،شیرانی ،آوران کہاں پر ہے اور انکا ایک حلقہ بنانے کی جو کوشش کی گئی ہے وہ ہمارے سمجھ سے بالاتر ہیں،گزشتہ سال 12 مئی کو مستونگ میں جلسے کے بعد جاتے ہوئے میرے قافلے پر حملہ ہوا ،جس میں 26 جوان زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 50 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

جن سے اظہار یکجہتی کیلئے 11 مئی کو منگوچر میں شہداء کانفرنس منعقدکی جارہی ہے،جو کہ بلوچستان کی تاریخ کاسب سے بڑا اجتماع ہوگااور یہ بلوچستان کی سیاسی تاریخ متعین کرے گا،انہوں نے یہ بات بدھ کے روز کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر جمعیت کے صوبائی جنرل سیکرٹری ملک سکندرایڈووکیٹ ،سابقہ صوبائی وزیر وکونسلر یحی ناصر ،جمعیت علماء اسلام کے رہنماء حافظ خلیل ،اقلیتی رہنماء ناصر مسیح اور دیگر پارٹی کے صوبائی عہدیداران بھی موجود تھے۔

سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدے سے فارغ ہونے کے بعد میری سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے ،اورہم پر اگر کوئی حملہ ہوا تواپنانقصان کس کے دامن میں تلاش کریں،صوبائی وزیر داخلہ بڑی چالاکی کیساتھ ایک بیان داغ دیتے ہیں اور بعد میں کچھ بھی نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ہونے والے دھماکے کی کوئی رپورٹ اب تک انہیں پیش نہیں کی گئی کہ اس میں کون ملوث تھا اور کس نے ہم پر حملہ کیا، انہوں نے کہاکہ شہداء کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے 11 مئی کومنگوچر میں عظیم الشان کانفرنس منعقد کریں گے،جس میں ہم اپنے موقف اور عزم کااظہار کریں گے کہ ہم ایسے بزدلانہ کاروائیوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔

اپنے عقیدہ اور مشن کو آگے بڑھانے کیلئے جان کی بازی لگا کر اسلام اور ریاست دشمنوں کا مقابلہ کرتے رہیں گے، مولانا عبدالغفورحیدری نے کہاکہ ملک میں جلسے تو بہت ہوئے ،عمران خان نے بھی لاہور میں دو جلسے کئے نام ایک تھا پہلے جلسے میں قوم کی بچیوں کو نچوایا گیا اور دوسرے میں جلسہ کیا گیاجلسے میں بچیوں کو نچاکراسلامی مشرقی روایات کو تباہ کردیا۔

انہوں نے کہاکہ ایجنسیوں کی رپورٹی کے مطابق جلسے میں 15سے 20ہزار افراد نے شرکت کی تھی ،13مئی کومینار پاکستان لاہورمیں ہمارا جلسہ اتنا بڑاہوگا کہ میدان کم پڑجائے گا،انہوں نے کہا کہ پشاور، سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں سمیت بلوچستان میں بھی جلسے منعقد کئے ہمارے جلسوں کامقابلہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ہمارے ووٹ اوربکس چوری کرکے نتائج تبدیل کئے گئے، ایک سوال کے جواب میں مولانا حیدری نے کہا کہ 2013کاالیکشن کسی کی ضرورت تھی اور مخصوص لوگ قوم پرستوں کولاناتھا،جہاں ان کا حلقہ نہیں تھا وہاں بھی جیت گئے اسی کو کرامت کہتے ہیں،اب ایسا نہیں ہوناچاہئے،شاہد 2018ء اکے الیکشن میں بھی کسی کو ضرورت ہوسکتی ہے اور ہمارے بکس چوری ہوسکتے ہیں ۔

انہوں نے کوئٹہ میں رونما ہونے والے واقعات کی مذمت کرتے ہیں اور جاں بحق افراد کے پسماندگا کیساتھ اظہاریکجہتی کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ریاست کے اندر ریاست کی ہمیشہ مخالفت کی ،جمعیت واحد جماعت ہے جس نے خودکش حملوں سمیت ایسے واقعات کیخلاف اپنابیانیہ دیا جس کے نتیجے میں ہم پر حملے ہوئے ، مولانا فضل الرحمن پر بھی 3مرتبہ حملے کئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ مرکز میں نواز شریف کیساتھ اتحاد تھا مگر بدقسمتی سے ان کا صوبے کی قوم پرست جماعتوں کیساتھ بھی تھاجو یہاں جمعیت کو برداشت نہیں کرتے،اور ان قوم پرستوں نے بلوچستان کی دولت کو بے دریغ لوٹا جو سب کے سامنے ہے، سینٹ انتخابات میں ایک ووٹ 10سے 15 کروڑ روپے میں بک رہاتھا مگر سینٹ انتخابات میں ہمارے غریب مولوی نے اپنے منتخب اور اتحادی نمائندوں کو ووٹ دیا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن میں تاخیر سے نقصان اور افراتفری ہوگی اور شکوک وشبہات بڑھیں گے، جس مقصد کیلئے آئینی ادارے بنتے ہیں اسی کے اندر رہتے ہوئے انتخابات ہونے چاہئیں۔

ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہاکہ 2013ء کے الیکشن میں ہمیں ہرایا جاتا ہے اور ہمارے بکس چوری ہوجاتے ہیں جبکہ 2013ء کے بلدیاتی انتخابات میں پورے بلوچستان میں سب سے زیادہ ہمارے پارٹی کے کونسلر منتخب ہوتے ہیں جہاں پر جن کو ضرورت ہوتی ہے وہ خود فیصلہ کرلیتے ہیں یہ عجیب اتفاق ہے کہ جنرل الیکشن ہارجاتے ہیں اور بلدیاتی الیکشن ہم جیت جاتے ہیں۔

اس موقع پر جمعیت علماء اسلام کے صوبائی جنرل سیکرٹری ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ حلقہ بندیوں میں پیچیدگیاں کرکے لوگوں کو تشویش میں ڈال دیا گیا ہے،اور لوگ شکوک و شہبات کا شکار ہیں ،الیکشن کمیشن کو لوگوں کی پریشانی کااندازہ بھی نہیں ہے۔

ایسا رو ش اختیار کیا گیا ہے جو الیکشن کمیشن کو خود سمجھ میں نہیں آرہا، ہمیں حالیہ حلقہ بندیوں میں شفافیت نظر نہیں آرہی دریں اثناء مدارس دین ،ملک قوم اور امن کے محافظ ہیں پاکستان میں لادین طبقہ ان مدارس کوخطرہ سمجھتے ہوئے ان کے خلاف سازش کررہے ہیں جن کے پشت پرامریکہ اوراسرائیل جیسے سازشی طاقتیں کارفرماہیں ان مدارس سے علماء وحفاظ کرام علم سے بہرمندہوکردین کی فروغ کے لیے کرداراداکرتے ہوئے اسلامی معاشرے کی تشکیل دینے کے لیے کردارداکرتے ہیں ۔

ان خیالات کااظہار جمیعت علمائے اسلام کے مرکزی جنرل سیکریٹری سینیٹر مولاناعبدالغفورحیدری ، جے یوآئی قلات کے امیر مولانا آغا محمودشاہ،سردارنوراحمدبنگلزئی، میرنظام الدین لہڑی، مولاناالہی بخش مستونگ، حافظ قاسم لہڑی،سردارشاہ زمان عالیزئی، آغا عبدالصمد، مولانانظام الدی نیچاری،ڈاکٹرعبدالمالک نیچاری، حافظ خلیل احمدسارنگزئی مولوی حماداللہ،قاری عبداللطیف درکزئی لانگو،اوردیگرنے مدرسہ دارلھدیٰ جوہان کراس میں دستاربندی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہاکہ خالق آبادمنگچرمیں 12مئی کاجلسہ شہدائے اسلام کانفرس ان شہدائے کے مشن کوجاری رکھنے میں ایک سنگ میل ہوگی یہ جلسہ عام علاقہ اورصوبے کے سیاست میں ایک بہت بڑی تبدیلی کاپیش خیمہ بن جائے گا اورسیاسی رخ کومتعین کرے گی کیونکہ اس سے مولانافضل الرحمن قائد جمیعت سمیت اس سے دیگرمذہبی قائدین خطاب کریں گے ۔

یہ جمیعت کی جانب سے سیاسی طاقت کامظاہرہ کرے گی ان شہداء جوگدرسے کوئٹہ تک جمیعت کے لیے اپنے لہوکی قربانی دیکراس چمن کی آبیاری کی ان کی لہورنگ لائے گی انہوں نے کہاکہ ہم مدارس اورمساجد کی حفاظت اپنے خون کے آخری قطرے دیکرکریں گے آج کایہ جلسہ دستاربندی منعقدکرانے پرمہتمم دارلھدیٰ مولوی دادخدا لہڑی اوردیگرمنتظمین کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ لاہورکے جلسے میں شرکت کے لیے بھی تیاریاں تیز کردیں جمیعت ہرسطح پرغیراسلامی سازشوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوارثابت ہوئی ہے آج تک پارلیمنٹ اورایوان بالا میں مغربی قوانین لانے کی کوشش کے خلاف مذہبی قائدین نے سامناکرکے ان کوناکام بنایاہے اوربناتے رہیں گے ۔

علم ایک روشنی ہے جس کوپھیلانے میں ہمیں ان علماء ،مدارس اورمساجدکی تحفظ کے لیے ہرسطح پرکرداراداکرناچاہیے ہم انبیاء کے وارث علماء کرام ہی ہے جوان کے دین کی ترقی اورترویج کے لیے ہراول دستے کاکرداراداکررہے ہیں اس لیے ہمیں جمیعت علمائے اسلام کے قائدین کے ہاتھ مضبوط کرتے ہوئے اسلامی قوانین کی عملی نفاذ کے لیے جدوجہد میں شامل ہوجائیں ۔