کوئٹہ: بلوچستان کابینہ سے منظوری نہ ملنے کے باعث بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش نہ کیا جاسکا۔ صوبائی اسمبلی کا بجٹ اجلاس آخری لمحوں میں 14مئی شام چار بجے تک کیلئے مؤخر کردیا گیا۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ صوبائی کی حکومت حکومتی امور چلانے میں ناکام ہوچکی ہے، آپس کے اختلافات کے باعث بجٹ پیش نہ کیا جاسکا تاہم صوبائی وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ آپس کے اختلافات نہیں، پی اینڈ ڈی کی جانب سے تیاری نہ ہونے اور غلطیوں سے بچنے کیلئے بجٹ پیش نہ کیا جاسکا۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان کا آئندہ مالی سال کیلئے تقریبا تین کھرب باون ارب روپے کا بجٹ جمعہ کی شام چھ بجے صوبائی اسمبلی میں پیش ہونا تھا تاہم صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے قبل وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اختلافات پیدا ہوگئے۔
کابینہ سے بجٹ منظور نہ ہونے کے باعث صوبائی اسمبلی کا بجٹ اجلاس بھی آخری لمحوں میں چودہ مئی تک مؤخر کردیا گیا حالانکہ بجٹ اجلاس کیلئے میڈیا کی ٹیمیں اور اپوزیشن ارکان بھی اسمبلی پہنچ چکے تھے۔ اپوزیشن جماعت پشتونخواملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے ارکان کو بھی اجلاس مؤخر ہونے کے بعد معلوم ہواکہ بجٹ آج صوبائی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جائیگا۔
اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال ، سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے صوبائی اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بجٹ اجلاس مؤخر کرنے سے متعلق اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا۔

صوبائی اسمبلی کا بجٹ اجلاس چھ بجے ہونا تھا اور ہمیں چھ بجکر دس منٹ پر اطلاع ملی کہ اجلاس مؤخرہوگیا۔ا یسا پہلی بار ہوا ہے اور ہم صوبائی حکومت کے اس عمل کی مذمت کرتے ہیں۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ موجودہ صوبائی حکومت اپنے امور چلانے میں ناکام ہوچکی ہے اور ان سے بجٹ بھی نہیں بن پارہا۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ تیار کرنے پر ہی پیش کرنے کی تاریخ کا اعلان کیا جانا چاہیے تھا۔ ہماری اطلاعات ہیں کہ آپس کے اختلافات کی وجہ سے کابینہ میں بجٹ کی منظوری نہیں دی جاسکی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ عوامی نمائندوں کی خواہشات کی بجائے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اپنی مرضی سے بنارہے ہیں۔
بجٹ بنانے والے یہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری عوامی نمائندوں کی تضحیک چاہتے ہیں۔ آج بجٹ مؤخر ہونا بھی اسی شخص کا کارنامہ ہے۔ عبدالرحیم زیارتوال نے کہ اکہ موجودہ حکومت کے اآتے ہی امن وامان کی صرورتحال بگڑ گئی۔
انہوں نے کہا کہ نگراں وزیراعلیٰ کیلئے صوبائی حکومت نے ابھی تک اپوزیشن سے رابطہ نہیں کیا۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کے باوجود اپوزیشن موجودہ صوبائی حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کررہی ہے۔ اگرچہ بجٹ میں ہمارے منصوبوں کو بند کای گیا اور ہماری کی گئیں بھرتیاں ختم کی گئیں۔ موجودہ صوبائی حکومت حکومتی امور چلانے کی اہل نہیں۔
بجٹ پیش نہ کرنا پانا اس حکومت کی ناکامی ہے۔ نہیں معلوم کہ کس قانون کے تحت وزیراعلیٰ نے اتنے مشیر اور معاون لگارکھے ہیں اور ہم نے سنا ہے کہ بجٹ میں ان کیلء بھی خطیر رقم رکھی جارہی ہے۔ دوسری جانب وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اختلافات کی خبروں کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ پی اینڈ ڈی کی تیاری نہ ہونے کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جاسکا۔
انہوں نے صوبائی اسمبلی کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتای اکہ کابینہ اجلا سکے دوران پتہ چلا کہ محکمہ پی اینڈ ڈی کی جانب سے تیاری مکمل نہیں۔ پرنٹنگ بھی مکمل نہیں تھی اس لئے ہم نے طے کیا کہ مکمل تیاری ہونے پر ہی بجٹ پیش کیا جائیگا۔ ہم چاہتے تھے کہ چیزوں کو ٹھیک کرکے بجٹ پیش کریں اور اس میں کسی بڑی غلطی کی گنجائش نہ ہو۔ ہم نہیں چاہتے تھے کہ لنگڑا لولا بجٹ پیش کریں۔
انہوں نے کہا کہ آپس میں کوئی اختلاف نہیں تھا سب چاہتے تھے کہ آج ہی بجٹ پیش ہو مگر فیصلہ نے فیصلہ کیا کہ مکمل تیاری پر ہی بجٹ پیش کرینگے اور ایسا بجٹ پیش کرینگے جو متفقہ طور پر منظور ہو۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ سے متعلق نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار اسلم بزنجو کو وزیراعلیٰ بلوچستان نے ملاقات کے دوران اعتماد میں لیا۔
انہون نے کہا کہ نگران وزیراعلیٰ سے متعلق ابھی ہمیں کوئی جلدی نہیں۔وقت آنے پر نام سامنے آجائایگا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق نیہمیں کچھ دیا ہی نہیں اس لیے اس بجٹ سے وفاق کا کوئی تعلق نہیں۔
دریں اثناء بلوچستان کے نئے مالی سال کا بجٹ اب 14مئی کو شام چار بجے پیش کیا جائیگا۔ تین کھرب52ار ب30کروڑ روپے کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 88ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔
بجٹ میں61ارب خسارہ ظاہر کیا جائیگا۔8ہزار نئی آسامیوں اور1200کلومیٹر نئی سڑکیں بنانے ،کوئٹہ میں کینسر ہسپتال، ڈینٹل کالج،نصیرآباد میں زرعی یونیورسٹی اورمیڈیکل کالج قائم کرنے کا اعلان کیا جائیگا۔
سول ہسپتال کوئٹہ کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کیلئے تین ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی جائے گی۔ ایک ارب روپے کی لاگت سے وزیراعلیٰ ہیلتھ انشورنس پروگرام شروع کیا جائیگا۔چھت سے محروم سکولوں کو عمارات کی فراہمی کیلئے ڈیڑھ ارب ،معذوروں کو وظیفہ دینے کیلئے پچاس کروڑ اورلیپ ٹاپ اسکیم کیلئے پچاس کروڑ روپے مختص کئے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کی شام کو مشیر خزانہ برائے وزیراعلیٰ ڈاکٹر رقیہ سعید ہاشمی نے بجٹ پیش کرنا تھا تاہم کابینہ کی جانب سے بجٹ منظو رنہ ہونے کے باعث اب بجٹ چودہ مئی کی شام چار بجے پیش کیا جائیگا۔ ڈاکٹر رقیہ سعید ہاشمی کی بجٹ تقریر کے متن کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کا کل تخمینہ 3کھرب52ارب 30کروڑ مختص لگایا گیا ہے۔
غیرترقیاتی بجٹ کا حجم 264 ارب روپے اور ترقیاتی بجٹ کا حجم 88ارب 30کروڑ روپے ہوگا۔صوبے کی کل آمدن کا تخمینہ 2کھرب90 ارب 30کروڑ روپے ہے اس طرح بجٹ خسارہ 61 ارب 90کروڑ روپے ہوگا۔
وفاق سے حاصل ہونیوالی آمدن 2کھرب43ارب اورصوبے کے اپنے وسائل سے آمدن کا تخمینہ 15 ارب روپے ہے۔ قابل تقسیم پول سے 224ارب روپے ملیں گے ۔براہ راست منتقلی 9ارب روپے جبکہ گیس سرچارج کی مد میں دس ارب روپے ملیں گے۔ریونیو اخراجات کا تخمینہ 223ارب روپے ،سرمایہ جاتی اخراجات کیلئے 40ارب 99کروڑ ہوں گے۔
بجٹ تقریر متن کے مطابق صوبے کے سرکاری محکموں میں آٹھ ہزار 35 نئی آسامیاں پیدا کی جائیں گی ۔امن وامان کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 34ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔ سیکورٹی فورسز کیلئے اسلحہ کی خریداری کیلئے 2ارب روپے اورسیکورٹی اہلکاروں کی تربیت کیلئے چار کروڑ مختص کئے جائیں گے ۔
دہشتگردی کے متاثرین میں ایک ارب روپے تقسیم کئے گئے ۔ محکمہ تعلیم کیلئے غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں43 ارب 90کروڑ اورمحکمہ ہائیر ایجوکیشن کیلئے 8ارب50کروڑ مختص کئے جائیں گے۔ کوئٹہ میں نسٹ یونیورسٹی کیمپس کیلئے 1ارب20کروڑ خرچ ہوں گے۔100نئے پرائمری اسکول بنائے جائیں گے ۔200پرائمری اور مڈل اسکولوں کو اپگریڈ کیا جائیگا۔
خصوصی افراد کیلئے انٹر کالج قائم کیا جائیگا۔محکمہ زراعت کیلئے 8ارب 70کروڑ روپے کئے جائیں گے۔ نصیرآباد میں ڈھائی ارب روپے کی لاگت سے زرعی یونیورسٹی بنائی جائے گی۔ گوادر میں سمندر کا پانی صاف کرنے کے پلانٹ پر 8ارب روپے خرچ ہوں گے۔کوئٹہ کی اسٹریٹ لائٹس کیلئے 13کروڑ مختص ہوں گے۔500طلباء کیلئے انٹرن شپ پروگرام پر 10کروڑ خرچ ہوں گے۔
تقریر کے متن کے مطابق رواں مالی سال 1200کلومیٹر سڑکیں بنائی گئیں ۔نئے مالی سال میں 1200کلومیٹر نئی سڑکیں بنائی جائیں گی۔بلدیاتی اداروں کو ترقیاتی منصوبوں کیلئے 5ارب روپے دیئے جائیں گے ۔
صوبے بھر میں اہم شاہراہوں پر ایمرجنسی ہیلتھ سینٹرز تعمیر کئے جائیں گے۔بجٹ تقریر کے مطابق نئے بجٹ میں دو ارب روپے کی لاگت سے بلوچستان کے کینسر ہسپتال تعمیر کیا جائیگا۔ جبکہ امراض قلب کے ہسپتال کیلئے ڈھائی ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔
نئے بجٹ میں سول ہسپتال کوئٹہ کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی شامل کیا جائیگا جس پر تین ارب روپے خرچ ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایک ارب روپے کی لاگت سے وزیراعلیٰ ہیلتھ انشورنس پروگرام شروع کیا جائیگا۔ویکٹر بورن ڈیزیز کیلئے ڈھائی ارب روپے اورمفت ادویات کی فراہمی کیلئے دو ارب روپے ،کینسراورہیپٹائٹس کے علاج کیلئے ایک ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔
کوئٹہ میں ایک ارب روپے صوبے کا پہلا ڈینٹل کالج بھی قائم کیا جائیگا۔نصیرآباد میں تین ارب روپے کی لاگت سے میڈیکل کالج بنایا جائیگا۔نئے مالی سال کے بجٹ میں پبلک پرائیوٹ پارٹنٹر شپ کے تحت سرکاری ملازمین کو سولر سسٹم فراہم کرنے کا منصوبہ شامل کیا جائیگا جس سے دو لاکھ 88ہزار ملازمین اور پنشنرز استفادہ حاصل کرسکیں گے۔اس کے علاوہ گوادر میں 50میگا واٹ سولر پاور پلانٹ تعمیر کیا جائیگاجبکہ گوادر میں سمندر کا پانی صاف کرنے کے پلانٹ پر 8ارب روپے خرچ ہوں گے۔