|

وقتِ اشاعت :   May 13 – 2018

کوئٹہ: متحدہ مجلس عمل کے نائب صدراورجماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹرسراج الحق کا کہنا ہے کہ ایم ایم اے آئندہ انتخابات میں مرکز اور صوبوں میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گی، ہم اقتدار میں آکرجاگیردارانہ اور ظالمانہ نظام کا خاتمہ کریں گے۔

ریاستی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ حکومت کی اپنی وجہ سے ہے ،ذاتی انا کو پس پشت ڈال دیا جائے تو مسئلہ حل ہو جائے گا ،ریاستی اداروں اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ آئینی حدود میں چلیں۔یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں جماعت اسلامی کے صوبائی دفتر الفلاح ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔ 

اس موقع پر جماعت اسلامی بلوچستان اور متحدہ مجلس عمل کے عہدیداران مولاناعبدالحق ہاشمی ،مولاناہدایت الرحمن ،مولاناعبدالکبیر شاکر ،سابق اسپیکر سید مطیع اللہ آغا ،علامہ جمعہ اسدی ،عبدالقدوس ساسولی اور مولاناانوارالحق حقانی بھی موجود تھے۔ 

سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ سال اور مہینے بدلے مگر کوئٹہ کے حالات نہیں بدلے بجٹ میں امن و امان کیلئے خطیر رقم رکھی جاتی ہے مگر کارکردگی نظر نہیں آرہی حکومت بتائے اس کے پاس امن وامان کے مسئلے کا کیا حل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے امریکی سفارت کاروں پرعائد سفری پابندی کو بھرپوحمایت کرتے ہیں امریکہ ناقابل اعتبار ہے ہمیشہ پاکستان کو دھوکہ دیا ہم غیرت مند اورخوددارقوم ہے امریکہ کے ساتھ آقا اور غلام والا نہیں بلکہ برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مینار پاکستان میں تاریخ ساز جلسہ ہوگا جس میں ایم ایم اے کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ آئندہ انتخابات میں متحدہ مجلس عمل مد مقابل تمام جماعتوں کو شکست فاش دے گی،متحدہ مجلس عمل کا قیام ظالم جاگیرداروں اور کرپٹ سرکار کے مقابلے کیلئے عمل میں لایاگیاہے ۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ دو عشروں سے حکومت میں رہنے والی سیاسی جماعتوں کا کردار اور طرز سیاست عوام پر عیاں ہوچکاہے ،متحدہ مجلس عمل کا ایک بھی رہنماء اور عہدیدار بھی نیب زدہ نہیں ہے نہ ہی کوئی کرپشن میں ملوث ہے ۔

سینیٹرسراج الحق کاکہناتھاکہ وہ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور متحدہ مجلس عمل کے رہنماء مولاناعبدالغفور حیدری کی دعوت پر منگچر آئے اور جلسے میں شرکت کی ۔انہوں نے کوئٹہ میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اربوں روپے سیکورٹی کیلئے مختص ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی کوئٹہ شہر میں امن وامان کا قیام عمل میں نہیں لیاجاسکاہے افسوس ہے کہ سال مہینے بدلتے ہیں مگر کوئٹہ کے حالات نہیں بدلے اور یہاں کی شہریوں کو امن نصیب نہیں ہوا ۔

انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس آف پاکستان کہاں کہاں جائیں گے پشاور ہو یا کوئٹہ کراچی ہو یا لاہور سمیت اور شہر تمام میں ہسپتالوں سمیت دیگر اداروں میں اوے کا اوا ہی بگڑا ہواہے انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے بلوچستان میں قبائلی دشمنیوں اور جھگڑوں کے باعث امن وامان کی صورتحال خراب ہے لیکن تمام تر صورت حال پر حکومت خاموش تماشائی کاکرداراداکررہاہے ۔

انہوں نے کہاکہ ہر طرف کرپشن کا دوردورہ نظرآتاہے آپ سیاست کو دیکھیں تو کرپشن اور اداروں پر نظر ڈالیں تو کرپشن ہوتانظرآتاہے ،انہوں نے کہاکہ کوئٹہ میں حالیہ واقعات میں 23افراد لقمہ اجل بنے ہیں لیکن حکومت نے افسوسناک واقعات کی روک تھام کیلئے کسی قسم کا کردارادانہیں کیا ۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے بڑے مسائل میں پانی کی قلت اور بے روزگاری شامل ہے یہ صوبہ معدنیات سے مالامال ہے لیکن کرپٹ قیادت کی وجہ سے سب سے زیادہ غربت اور بے روزگاری بلوچستان میں ہی موجود ہے بہت زیادہ معدنیات کے باوجود بھی بلوچستان کی پسماندگی کو دور نہیں کیاجاسکاہے اس کے علاوہ مس مینجمنٹ کے باعث بلوچستان میں وعدے وفا نہیں ہوسکے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی اداروں کی سروے کے مطابق سب سے زیادہ بے روزگاری یہاں ہے ۔بلکہ سب سے زیادہ بچے بھی بلوچستان میں ہی سکولوں سے باہر ہیں عوام کو تعلیم ،علاج اور دیگر ضروریات زندگی تک میسر نہیں ۔

انہوں نے کہاکہ ملکی خارجہ پالیسی میں بہت زیادہ نقائص اور بڑی دراڑیں موجود ہیں پہلے تو 4سال تک ملک کا وزیر خارجہ نہیں تھا جب خواجہ آصف کو وزیر خارجہ بنادیاگا تو وہ عدالت کے ذریعے نااہل ہوگیاہے ۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ انہیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہواہے کہ خرم دستگیر کووزیردفاع کے ساتھ پاکستان کا وزیر خارجہ بھی بنادیاگیاہے ان کی جانب سے عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان تناؤ کے متعلق بیان پر کچھ نہیں کہہ سکتا اس سلسلے میں ان کو ہی معلوم ہو گا ۔

ریاستی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ حکومت کی اپنی وجہ سے ہے ،ذاتی انا کو پس پشت ڈال دیا جائے تو مسئلہ حل ہو جائے گا ،ریاستی اداروں اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ آئینی حدود میں چلیں۔

دریں اثناء متحدہ مجلس عمل پاکستان کے جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سنیٹر سراج الحق سے کہا ہے کہ متحدہ مجلس کی قیام سے پاکستان میں اسلام کے عادلانہ نظام کا نفاذ ممکن ہوگا ۔

پاکستان میں گذشتہ 70 سالوں سے لادین طبقہ نے اس لئے پاکستان پر حکمرانی کی کہ دینی جماعتیں متحد نہیں تھے بلکہ بین الاقوامی سازش کے تحت دینی جماعتوں کو آپس میں دست و گریبان کرکے ان پر دین اسلام سے دور رہنے والا طبقہ نے حکمرانی کی متحدہ مجلس عمل نے جنر ل مشرف کے زمانے دینی جماعتوں مدارس پر آنے والے خطرات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگچر میں خضدار کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ان کا کہنا تھا کہ علماء کرام دینی اداروں کو تقدس کو بر قرار رکھا ضرورت اس بات کی تھی کہ اس اتحاد کو جو ں کا توں بر قرار رکھا جاتا لیکن بد قسمتی یہ ہوئی کہ یہ اتحاد اس کے بعد بر قرار نہیں رکھا جا سکا جس کے مضر اثرات سے ہم سب دینی جماعتیں دوچار ہوئے لیکن اب جبکہ ایک مرتبہ پھر دینی جماعتوں کا اتحاد قائم ہو چکا ہے یہ ایک عظیم انقلابی اقدام ہے ۔

اس کے بہتر اثرات پاکستان سمیت پورے دنیا پر مرتب ہونگیں انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس پاکستان میں اسلام کے نظام کی طرف ایک مضبوط قدم ہے پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں اسلام کے نظام کے قیام میں روکاوٹیں کھڑی کی گئیں ۔

اس اسلام دشمنی کے لئے ہمارے سیاسی و مذہبی فرقہ واریت کو استعمال کیا گیا شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی کی تقسیم کی بنیاد پر ہمیں آپس میں لڑایا گیا جب ہم نے اسلام کے نظام کے نفاذ کی بات کی تو اسی طرح کے اختلافات کو جواز بنا کر اسلام کے نظام سے انحراف کیا گیا ۔

اس بارے میں ہماری کوشش یہ تھی کہ ان طبقات کے اس سازش ناکام بنادیا جائے ہم الحمد اللہ اس کوشش میں کامیاب ہوگئے ہیں متحدہ مجلس عمل مولانا فضل الرحمن کی صدارت میں باقاعدہ عمل میں آچکی ہے ۔

اس اتحاد میں شامل 5 جماعتیں ایک ہی نشان کے تحت الیکشن لڑیں گے جب کہ اس اتحاد میں دیگر دینی جماعتوں کو شامل کرنے کی کاوشیں ہو رہی ہیں ہم انشاء اللہ اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے پاکستان کے تما م صوبوں اور مرکز میں حکومتوں کا قیام کرکے اسلام کے عادلانظام کا نفاذ کریں گے ۔