|

وقتِ اشاعت :   May 19 – 2018

کوئٹہ : کیڈٹ کالج مستونگ میں سینئر طلباء کے تشدد سے متاثرہ طلباء کے والدین نے تشدد میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے کوئٹہ پریس کلب میں سابق اساتذہ رہنما عبدالغفار کدیزئی ، حافظ غلام محمد کھوسہ ، محمد امین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سینئر طلباء کے جونیئر پر تشدد انہیں اپاہج بنانے کی مذموم کوشش ہے ۔

کیڈٹ کالج مستونگ میں طلباء پر بد ترین تشدد میں ملوث افراد کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ کی طرف سے نوٹس لینے کے واقعہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کالج میں انتظامی نا اہلی کے باعث سینئر طلباء نے جونیئر طلباء کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا سینئر طلباء سر عام سگریٹ نوشی کرتے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کے لیے موزوں ، باصلاحیت اور تجربہ کار منتظمین تلاش کرنے کی بجائے بااثر شخصیات کے چہیتوں کو نواز کر انہیں اداروں پر مسلط کیا جاتا ہے ان کا کہنا تھا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشنل انکوائری کرائی جائے پرنسپل ، ویڈیو میں نظر آنے والے افراد سینئر پروفیسرز اور مستونگ کیڈٹ کالج کے میڈیکل آفیسر سے تحقیقات کی جائے ہفتہ گزرنے کے باوجود پرنسپل کے علاوہ باقی ایک درجن سے زائد افراد پولیس کی گرفت سے آزاد ہیں ۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ واقعہ میں ملوث افراد کے ضمانت منظور نہ کریں پریس کانفرنس میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ادارہ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں اس قسم کے واقعات اس سے قبل بھی رونما ہوچکے ہیں جنہیں دانستہ خفیہ رکھا گیا ہے۔