|

وقتِ اشاعت :   May 26 – 2018

کوئٹہ: مولانا حبیب اللہ مینگل کی شہادت کیخلاف جمعیت کا کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان احتجاجی مظاہرے وریلیاں نکالی گئیں، کوئٹہ مستونگ ،نوشکی ، قلات میں مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیاہے۔

کوئٹہ میں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان حافظ حسین احمد ‘ ممبرقومی اسمبلی انجینئرعثمان بادینی ‘ ضلع کوئٹہ کے امیر حافظ حمد اللہ ‘ ولی محمد ترابی ‘ حاجی صادق نورزئی ‘ مولوی خدائے دوست ‘ میر اسحاق ذاکر شاہوانی ‘ حاجی سعدالدین اور دیگر نے مولوی حبیب اللہ مینگل کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف نکالی گئی احتجاجی ریلی کے بعد مظاہرے میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

مقررین نے کہا کہ آج پاکستان میں مسجد اور مولوی محفوظ نہیں ہیں بے گناہ مسلمانوں کو مارا جارہا ہے بدقسمتی سے ہمارے حکمران خواب خرگوش میں ہیں آج تک کسی بھی عالم دین کے قاتلوں کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک نہیں پہنچایا گیا اگر بے گناہ قتل کئے جانے والے کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا تو ان کے قتل کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کسی قسم کی فرقہ واریت نہیں ہے جمعیت علماء اسلام کے اکابرین اور کارکنوں نے ہمیشہ امن کا علم اٹھائے رکھا ہے ہم نے کبھی بھی فرقہ وارانہ تنظیموں کا ساتھ نہیں دیا اس کے باوجود ہمیں مارا جارہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں امن وامان کے لئے 35 ارب روپے رکھے گئے ہیں اس کے باوجود مسجد کے اماموں سے یہ کہا جاتا ہے کہ اپنی سیکورٹی کے لئے محافظ رکھیں ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر ہم نے ذاتی محافظ رکھنے ہیں تو اتنی خطیر رقم بجٹ میں مختص کرنا کی کیا ضرورت ہے یہ غریب عوام کے ٹیکسوں سے بنایا گیا بجٹ ہے ۔

اس رقم کا بوجھ نہ ڈالا جائے مولوی حبیب اللہ کی شہادت پر اگر ہم چاہتے تو پورے شہر کو جلا کر راکھ کردیتے مگر ہم نے صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے شہید ساتھی کی تدفین کی ہمارے اس صبر و تحمل کو کمزوری یا بزدلی کا نام نہ دیا جائے انہوں نے کہا کہ مارا بھی ہمیں جاتا ہے اور آپریشن کے ذریعے چادر اور چاردیواری کی پامالی کرکے ہمارے ذمہ دار ساتھیوں کو لاپتہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو خود کو محب وطن سمجھتے ہیں وہ آئیں اور ہمارے مولویوں کے ساتھ بیٹھیں اور موازانہ کریں کہ کس نے ملک کے لئے قربانیاں دی ہیں انگریزوں نے مولویوں کی قربانیوں کی بدولت ملک کو چھوڑا 1971ء میں ملک کو توڑنے والوں میں کوئی مولوی نہیں تھا بلکہ جو خود کو محب وطن کہتے ہیں وہ تھے ۔

انہوں نے کہا کہ ریمنڈویس کو ملک سے باعزت جانے کے لئے کس نے ساتھ دیا ریمنڈویس نے دو بندوں پر نہیں بلکہ پوری ریاست پر حملہ کیا تھا انہوں نے کہا کہ حالیہ بننے والے نومولود جماعت کو بلوچستان کے عوام نے یکسر مسترد کر دیا ہے کیونکہ ان کا کوئی سیاسی ویژن نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ابھی نگران سیٹ اپ بن رہا ہے اس میں بھی ماموں ‘ چاچے کے بیٹے اور بہن بہنوئی کو شامل کیا جائے گا ہم اس طرح کے نگران سیٹ اپ کو یکسر مسترد کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ 2013ء میں جس طرح ہمارا مینڈیٹ چورایا گیا 2018ء میں بھی اگر وہی پوزیشن رہی تو ہم پورے شہر کو سر پر اٹھائیں گے روڈوں اور چورہوں کو بند کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ آج کل یہ عالم ہے کہ جو کوئی ملتا ہے یہی کہتا ہے کہ بلوچستان کا اگلا وزیراعلیٰ وہی ہے پوچھنے پر خلائی مخلوق کا بتاتے ہیں انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کے اکابرین اور ورکروں نے ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا ہے جس کی پاداش میں ہمیں نشانہ بنایا جارہا ہے ہم ان پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم شہادتوں سے گھبرانے والے نہیں اگر حبیب اللہ شہید کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا گیا تو ہم شدید احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں ۔

جمعیت علماء اسلام کے صوبائی نائب امیرمولاناعبداللہ جتک، ضلعی امیرسینیٹرمفتی عبدالستارمولاناخلیل الرحمن شاہوانی قاری محمدقاسم مینگل مولانامحمدزکریاشاہوانی مولاناحماداللہ مولانامحموداحمدمولاناالہی بخش مولاناحماداللہ مولاناشکیل احمداوردیگر بھی کہناتھاکہ ماہ رمضان برکتوں والامہینہ ہے جس میں بہارہی بہارہیں لیکن اس مہینے کے تقدس کوپامال کرتے ہوئے ہمارے قائدین اورکارکنوں کے گھروں کولاشیں بھیجی جارہی ہیں ۔

مظلومیت کاداستان اورکیاہو؟کہ مولاناحبیب اللہ شہید نماز ظہرپڑھ روزے کی حالت میں اپنے گھرلوٹتاہے تو ظالم قاتل انھیں شہیدکرکے ان کی لاش گھربھیجتے ہے جو سب سے بڑی دہشت گردی ہے ۔

انھوں نے کہا کہ علماء کواس طرح بے دردی سے ٹارگٹ کرنا سفاکیت کی انتہاہے جس کے لیے ہمیں قائدین کے حکم کاانتظارہے جوبھی حکم دے ہم ان پرعمل کریں گے ۔

،جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام صوبائی کال پر نوشکی میں مولانا حبیب اللہ مینگل کے قتل کیخلاف بازار میں ریلی گل نصیر چوک پر احتجاجی مظاہر ہ ،مظاہرین نے حکومت کیخلاف شدید نعرہ بازی کی ،مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جے یوآئی کے صوبائی رہنما مولانا منظور مینگل ،حافظ عبداللہ گورگیج ،فاروق حیدر ، ضلعی ترجمان مولوی زکریا عادل ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مولانا حبیب اللہ مینگل کی قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ،متحدہ مجلس عمل کے قیام کے بعد سازش کے تحت جے یوآئی ف اور متحدہ مجلس عمل میں منسلک جماعتوں کو دیوار سے لگانے کوشش ہورہی ہیں جو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گے ۔

انہوں نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام کو باطل قوتوں کیخلاف جدوجہد کی سزا دی جارہی ہیں ، حکومت عوام کو تحفظ دینے کی بجائے اپنے کرپشن میں لگے ہوئے ہیں جو افسوس ناک اقدام ہے،قلات میں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی کال پر مولانا حبیب اللہ مینگل اور دیگر کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف علمائے کرام نے اپنی خطابات میں مذمتی قراردادیں منظور کی اور صوبائی حکومت سے علماء کرام کی ٹارگٹ کلنگ کے پسے پردہ محرکات عوام کے سامنے لا نے کا مطالبہ کیا ۔