کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے نگراں وزیراعلیٰ کے تقرر کیلئے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کو متنازع قرار دیتے اس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر نے جمعیت علمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو مشاورت میں نہیں لیا اس لئے حکومتی ممبران پارلیمانی کمیٹی میں شرکت نہیں کریں گے۔
چار ماہ کی اپنی بطور وزیراعلیٰ کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ عدلیہ نے صوبے کے منتخب نمائندوں سے صوابدیدی فنڈز اور سرکاری افسران کے تقرر و تبادلوں کا اختیار لیکر اسلام آباد سے آنیوالے بیورو کریٹس کو سونپ دیئے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جوڈیشل مارشل نافذ ہوچکا ہے۔ ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں کام رہتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاک فوج نے حکومت کی بے شمار خامیوں اور مارشل لاء کے مواقعوں کے باوجود جمہوریت کو چلنے دیا۔
وہ منگل کی شب وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر سابق صوبائی وزراء طاہر محمود خان ،سردار سرفراز چاکر ڈومکی اورآغا محمد رضا بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ حکومت کی مدت پوری ہونے پر آئینی تقاضے کے بعد اپوزیشن لیڈر سے تین ملاقاتیں کیں لیکن اس میں نگراں وزیراعلیٰ پر اتفاق رائے نہ ہوسکا کیونکہ اپوزیشن خود کسی ایک نام پر متفق نہیں تھی۔ اس کے بعد اگلے مرحلے میں معا ملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپر د کیا گیا۔
پارلیمانی کمیٹی کے ممبران کیلئے حکومت اور اپوزیشن نے تین تین نام دئیے۔اپوزیشن نے پانچ سا ل تک اپوزیشن میں رہنے والی جماعتوں جمعیت علما ء4 اسلام ، عوامی نیشنل پارٹی ، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اوربی این پی (عوامی) کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مرضی کے نام دئیے جس پر اپوزیشن جماعتوں نے اعتراض کیا اور عدالت جانے کا اعلان کر دیا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 224(A)کے تحت اپوزیشن لیڈر نگراں وزیراعلیٰ کیلئے نام تمام جماعتوں کی مشاورت سے دے گا جبکہ اپوزیشن لیڈر نے ایسا نہیں کیا اور اپوزیشن کے 13ارکان نظر انداز کیا ہے اس لئے پارلیمانی کمیٹی متنازعہ بن گئی ہے۔ہم نے سینئر ساتھیوں مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیش کردہ پارلیمانی کمیٹی کے ممبر ان آج ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ جمہوریت کے چیمپیئن بنتے ہیں انہوں نے ہی جمہوری اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں اعتماد میں نہیں لیا شاید محمود خان اچکزئی کو بھی اس تمام معاملے سے لا علم رکھا گیا ہے تبھی یہ تنازعہ کھڑا ہو ا ہے۔
اپوزیشن کا یہ اخلاقی فرض بھی تھا کہ وہ تمام جماعتوں سے مشاورت کرتی لیکن ساڑھے چار سال تک اقتدار میں رہنے والوں نے حقیقی اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا۔جے یو آئی ، بی این پی اور اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر اسپیکر کو خط لکھ دیا ہے اور شاید کل وہ عدالت بھی چلے جائیں تو ہم عدالتی حکم کا انتظار کریں گے بصورت دیگر نگراں وزیراعلیٰ کے انتخاب کا معاملہ الیکشن کمیشن میں جائے گا۔
پارلیمانی کمیٹی کو ہمارے دیئے گئے نام الیکشن کمیشن کے پاس چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مری معاہدے کے تحت بننے والے وزراء اعلیٰ کو بھی جمعیت علمائے اسلام نے ووٹ دیا۔
کسی قائد ایوان کو ووٹ دینے میں کوئی پیچیدہ بات نہیں۔انہوں نے کہا کہ پرنس علی بلوچ، بیر سٹر سیف مگسی ،امین اللہ رئیسانی کے ناموں پر اعتراض کیا گیا تھاکہ انکی سیاسی وابستگی ہے۔ہم نے اپوزیشن کے اعتراض پر یہ نام واپس لئے۔
ہم چاہتے ہیں کہ کوئی نوجوان وزیراعلیٰ آئے اسی لیے ہم نے علاؤ الدین مری کے نام دیئے لیکن اپوزیشن کی جانب سے ساٹھ سال سے اوپر کے اسلم بھوتانی اور اسی سالہ اشرف جہانگیر قاضی کے نام دیئے گئے اسی لیے ہم نے بھی ایک ساٹھ سال کے اوپر کے سردار شوکت پوپلزئی کا نام تجویز کردیا۔ بلوچستان کو نوجوان قیادت اور جذبے کی ضرورت ہے۔
سابق وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجونے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ چار ماہ کی بطور وزیراعلیٰ اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ اس نظام نے انہیں کام کرنے نہیں دیا۔
بطور وزیراعلیٰ اختیارات تھے مگر ملک میں رائج اس نظام میں کوئی بھی وزیراعلیٰ کام نہیں کرسکتا۔ ہر کوئی اپنا کام کرنے کی بجائے دوسرے کو مورود الزام ٹھہراتاہے۔ہمارے افسران صبح سے دوپہر تک عدالت میں ہوتے تھے جس کے بعد دفتری اوقات کار ختم ہو جا تے تھے۔
یوں محسوس ہوتاہے کہ ملک میں جوڈیشل مارشل لاء نافذ ہے۔حکومت سے تمام تر اختیارات لئے جارہے ہیں اگر وزیراعلیٰ کسی حلقے کی پسماندگی دور کرنے کے لئے اسکیم دیتا ہے یا کھلی کچہری میں کسی کی مددکرتا ہے تو اس کیلئے اسمبلی کی جانب سے دیئے گئے صوابدیدی فنڈز عدالت کی جانب سے بند کردئیے گئے۔
وزیراعلیٰ حکومت کا چیف ایگز یکٹو ہے اس سے ٹرانسفر پو سٹنگ کا اختیار واپس لینا وفاق کودوبارہ سے اختیارات منتقل کر نے کے مترادف ہے۔صوبے کے منتخب عوامی نمائندوں سے پولیس اوردیگر سرکاری افسران کے تقرر و تبادلوں کا اختیار لیکر اسلام آباد سے آنیوالے چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کو دینا صوبے کے اختیارات وفاق کو منتقل کرنا ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وفاق کے اختیارات صوبے کو منتقل کئے جاتے۔
کسی معاملے میں ایک انفرادی خرابی کی وجہ سیپورے معاملے کو التواء میں ڈالنے کی وجہ سے اکثریت کی حق تلفی ہوئی۔ 2002ء سے لیکر اب تک قائمقام گورنر، وزیراعلیٰ، قائمقام اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر جیسے صوبے کے بڑے آئینی عہدوں پر رہنے کے بعد یہ محسوس کیا ہے کہ اس نظام میں رہ کر کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی جب تک وزیراعظم اور وزیراعلیٰ براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر نہ آئیں اور اپنی مرضی کی ٹیم نہ بنائیں اس وقت تک تبدیلی نہیں آسکتی۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن جیتنے کیلئیمقامی قبائل کے سرداروں ،عمائدین اور گروپوں کے ہاتھوں بلیک میل ہونا پڑتا ہے وہ میرٹ کے برخلاف اپنے لوگوں کی تعیناتیاں جیسے مطالبات کرتے ہیں۔اسی طرح جب کوئی وزیراعلیٰ بنتا ہے تووہ وزیروں اور ارکان اسمبلی کے گروہوں کے آگے بے بس ہوجاتا ہے کیونکہ ان کے خلاف کچھ کیا جائے تو وہ وزیراعلیٰ کو ہٹادیتے ہیں۔
اصل جنگ اختیارات کی ہے ہمیں بھارت کی طرح اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنا ہوں گے۔ وفاق کے اختیارات صوبوں، صوبوں کے اختیارات اضلاع اور اضلاع کے اختیارات یونین کونسل کی سطح تک لانا ہوں گے۔
اب فیصلے اسلام آباد میں ہوتے ہیں اور اس کیلئے انہیں ارکان قومی اسمبلی کی اکثریت کی ضرورت پڑتی ہے اور اکثریت باقی تینوں صوبوں کے مقابلے میں صرف پنجاب کے پاس ہے اس لئے حکومت میں آنے والی ہر جماعت کی توجہ پنجاب پر ہوتی ہے۔
پھر شور اٹھتا ہے کہ باقی تینوں صوبوں کا حق پنجاب کھارہا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمار احق پنجاب لے جارہا ہے مگر سیاسی جماعتیں پنجاب کو توجہ دیتی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال کے دوران پاک فوج پر انگلیاں اٹھائی گئیں مگر جس حالت میں پاک فوج نے اس ملک کو سنبھالا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتی۔
اپنے جوانوں اور افسران کی لاشیں اٹھائیں صوبے اور ملک میں امن بحال کیا۔ اگر ہم اچھے طریقے سے کام نہیں کرتے اور پھر شور بھی کرتے ہیں۔ گھر میں بھی اگر چار بھائی ہوں اور تین بھائیوں کو حق نہ ملے تو بغاوت ہوتی ہیں۔
وفاق نے بلوچستان کو صرف کا غذات کی حد تک اسکیمات اور فنڈز دئیے زمین پر کچھ نہیں ملا۔تین سال سے این ایف سی ایوارڈ نہیں ملا جس کی وجہ سے ہمیں ہم اس سال اپنا بجٹ پیش کرنے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔88ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں 61ارب کا خسارہ تک جاپہنچا ہے۔
وفاق چار سالوں سے بلوچستان کے وہی پرانے منصوبے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں شامل کرکے میڈیا میں کہتا ہے کہ ہم نے بلوچستان کو پچاس ارب روپے کے فنڈز دیئے جبکہ ایک بھی منصوبے پر کام نہیں ہوا۔ جمہوریت کی بات کرنے والوں نے تین سال سے این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کام کرتی تو آڑمی چیف کو کیا ضرورت ہوتی ہے کہ این 85 شاہراہ بنانیکیلئے خود وزیراعظم کو لیکر آتے۔
پھر کہتے ہیں کہ پاک فوج مداخلت کرتی ہے۔ فوج نے جمہوریت کی خرابیوں اور مارشل لاء کا ماحول پیدا ہونے کے باوجود ایسا کوئی کام نہیں کیا اور جمہوریت کو چلنے دیا۔ یہ بہت اچھی بات ہے فوج کو مداخلت بھی نہیں کرنی چاہیے مگر سول حکومتوں کو اپنے معاملات ٹھیک کرنا ہوں گے اور موجودہ نظام کو بدلنا ہوگا۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو براہ راست منتخب کرنے کا نظام لانے کی ضرورت ہے۔