کوئٹہ: بلوچستان میں عوامی نمائندے نگراں وزیراعلیٰ کے نام کے انتخاب نہ کرسکے اور معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا گیا۔ اب الیکشن کمیشن آٹھ جون تک پارلیمانی کمیٹی کے بجھوائے گئے چار ناموں سے کسی ایک کا بطور وزیراعلیٰ انتخاب کرے گا۔ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں صرف اپوزیشن ارکان شریک ہوئے ۔
حکومتی ارکان نے بائیکاٹ کیا ۔بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کا کہنا ہے کہ حکومتی ارکان نے پارلیمانی کمیٹی کا بائیکاٹ کرکے غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کونگراں وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے بنائی گئی آئینی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سابق وزرائے اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ،نواب ثناء اللہ زہری اور پشتو نخوامیپ کے سابق ایم پی اے سید لیاقت آغا نے شرکت کی ۔
اجلاس میں سیکرٹری اسمبلی شریک ہوئے تاہم حکومت کی جانب سے نامزد کئے گئے پارلیمانی کمیٹی کے اراکین وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبد القد وس بزنجو کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد اجلاس میں شریک نہیں ہوئے ۔پارلیمانی کمیٹی نے حکومتی ارکان کی جانب سے شرکت نہ کرنے کے بعد نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کے انتخاب کامعاملہ الیکشن کمیشن کو بجھوانے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کو بجھوادیا۔ اسپیکر راحیلہ حمید درانی کا کہنا ہے کہ معاملہ جمعرات کی صبح الیکشن کمیشن کو بھیج دیا جائیگا۔
پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعد عبدالمالک بلوچ، نواب ثناء اللہ زہری اور سید لیاقت آغا نے میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دی اور بتایا کہ وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان نگراں وزیراعلیٰ کے تقرر کیلئے تین مرتبہ ملاقاتیں ہوئیں اور آخری ملاقات میں سینئر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے بھی شرکت کی تاہم کسی نام پر اتفاق نہیں ہوا اور معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس آیا ۔
حکومت اور اپوزیشن نے پارلیمانی کمیٹی کیلئے اپنے اپنے نام بھی دیئے اور اسپیکر نے کمیٹی قائم ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا لیکن اس کے بعد اچانک وزیراعلیٰ کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی کا بائیکاٹ سمجھ سے بالاتر ہے ۔حکومتی ممبران کے بائیکاٹ کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ۔حکومت نے نگراں وزیراعلیٰ کے لئے اپنے دو تجویز کردہ نام بھی کمیٹی کو بھیجے تھے ہم نے بھی اپنے تین میں ایک نام علی احمد کرد کا نکال کر دو نام کمیٹی کے سپرد کئے۔ حکومتی ارکان کے بائیکاٹ کے بعد ہم اسپیکر کو لکھ رہے کہ معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجا جائے کیونکہ اب آئینی طریقہ کار یہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شروع سے ہی ایک نام پر متفق نہیں ہورہی تھی وہ ہمیں کبھی ایک نام اور کبھی دوسرا نام بھیج دیتی ۔ آخر میں شوکت پوپلزئی کا نام بھی حکومت کی جانب سے شامل کرایا گیا جن کا نام ابتدائی آٹھ ناموں میں نہیں تھا ۔ اب معلوم نہیں کہ یہ شوکت پوپلزئی کون ہیں۔ ان کا تعلق کہاں سے ہے درانی پوپلزئی تو ہر جگہ ہوتے ہیں بتایا جائے ان کا تعلق کراچی سے ہے ، بلوچستان سے ہے ۔
اس موقع پر سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ حکومت کے بائیکاٹ کے باوجود اپوزیشن کے ممبران نے نواب ثناء اللہ زہری کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی کا کیا یہ آئینی تقاضا تھا جسے ہم نے پورا کیا ۔ حکومت کی جانب سے بائیکاٹ کرنا غیر سنجیدگی کا مظاہرہ ہے۔
اگر حکومتی ممبران ااجاتے تو شاید ہم منطق اور دلیل سے ایک دوسرے کو قائل کرلیتے لیکن اب یہ معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجنا پڑرہا ہے۔ قدوس صاحب شاید چاہ رہے تھے کہ دو تین روز انہیں مزید ملے لیکن اب آئین میں اس چیز کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ مزید وزیراعلیٰ رہے۔
انہوں نے کہا کہ اس میں شک نہیں جمعیت علمائے اسلام، بی این پی ، اے این پی اور بی این پی عوامی والے اپوزیشن میں تھے مگر جب تحریک عدم اعتماد آئی اور عبدالقدوس بزنجو کے حق میں ان اپوزیشن جماعتوں نے ووٹ دیا تو ہم مکمل طور پر اپوزیشن میں آگئے ۔ قدوس بزنجو کو ووٹ دینے کے بعد ان اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے رشتہ داروں کو اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا کوئی وزیر اور کوئی مشیر بنا اور انہیں مراعات اور اسکیمیں دی گئیں ۔
وہ خود کہتے تھے کہ ہمارے پاس وزارتیں ہیں۔ ہم نے اپوزیشن کی حیثیت سے اس کم عرصے میں بہت مشکلات جھلیں ۔ بی این پی مینگل اور بی این پی عوامی نے ہمارے خلاف انتقامی کارروائیاں کیں شاید جے یو آئی نے پشتونخوامیپ کے خلاف بھی ایسا کیا ۔ نواب ثناء اللہ زہری کو بھی مشکلات پیش آئیں ہم نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور کہا کہ وہ حکومت میں ہیں اور پاور انجوائے کریں۔
اب ان جماعتوں کو اپوزیشن کہہ کر پارلیمانی کمیٹی کا بائیکاٹ کرنا غیر سنجیدہ عمل ہے۔ ہم ایک دوسرے کو جمہوری انداز میں قائل کرسکتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اب بال الیکشن کمیشن کے کورٹ میں ہے۔ ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ سیاستدانوں کی جانب سے نگراں وزیراعلیٰ کا فیصلہ نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ابھی جمہوریت بالغ نہیں ہوئی اور بلوچستان میں تو جمہوریت کو بالغ ہونے میں کچھ زیادہ ہی وقت لگے گا۔
اس موقع پر پشتونخوامیپ کے رہنماء سید لیاقت آغا نے کہا کہ کمیٹی آئین کی شق224اے کے تحت تشکیل دئی گئی اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہوا جس کے بعد حکومت کے پاس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی چوائس تھی ہی نہیں ۔
کوئی راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا ۔اپوزیشن پر دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں نہ لینے کا الزام ہی درست نہیں کیونکہ جن جماعتوں کو وزیراعلیٰ اپوزیشن قرار دے رہے ہیں انہی جماعتوں کے نامزد کردہ افراد کو عبدالقدوس بزنجو نے حکومت کی جانب سے نگراں وزیراعلیٰ کے امیدواروں میں شامل کیا تھا۔ ان میں جے یو آئی کے سابق سینیٹر کامران مرتضیٰ اور اے این پی سابق سینیٹر داؤ د خان اچکزئی کے نام تھے۔
بلوچستان ،نگران وزیر اعلیٰ کا معاملہ الیکشن کمیشن کو بجھوانے کا فیصلہ
![]()
وقتِ اشاعت : June 7 – 2018