|

وقتِ اشاعت :   June 9 – 2018

کوئٹہ:  اہلسنت والجماعت اور جمعیت علماء اسلام نظریاتی کا کوئٹہ کی صوبائی اسمبلی کی نو اور قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں متفقہ امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان ۔

انتخابات کے انعقاد میں تاخیری حربوں کو ناقابل برداشت قرار دے دیا۔ دونوں جماعتوں کا کوئٹہ کی حلقہ بندیوں کو برقرار رکھنے کا مطالبہ اہلسنت والجماعت کے صوبائی صدر محمد رمضان مینگل، جمعیت نظریاتی کے ضلعی امیر قاری مہراللہ کا کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دونوں مذہبی جماعتوں نے گزشتہ انتخابات کے نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئے انتخابی اتحاد کا فیصلہ کیا ۔

تاکہ25جولائی 2018 ء کو ہونیوالے الیکشن میں قوم پرستوں اور مفاد پرستوں کو عبرت ناک شکست دی جاسکے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پانچ سالوں تک اقتدار میں رہ کر عوامی خدمت کی دعویدار جماعت کوئٹہ کی حلقہ بندیوں کی ذاتی مفادات کے تحت تشکیل کیلئے الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈال رہی ہے جس کا مقصد عام انتخابات کو تعطل میں رکھنا ہے۔ 

رہنماؤں کا کہنا تھاکہ گزشتہ عام اور ضمنی انتخابات کی طرح اس مرتبہ بھی اگر عوام ہم پر اعتماد کا اظہار کیا تو پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنائیں گے ، ان کا کہنا تھا کہ ملک اور اسلام مخالف سازشی عناصر کو شکست دینے کیلئے ہماری دیگر مذہبی جماعتوں اور علماء حق سے مشترکہ جدوجہد کرنے کی اپیل ہے۔ 

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بلوچستان ہائیکورٹ کے معزز جج صاحبان کوئٹہ کے حلقوں کو کالعدم قرار دینے سے متعلق اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کریں۔ان کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں سے مذہبی جماعتوں کو ووٹر تقسیم ہوا ہے پانچ سالوں تک اقتدار میں رہنے والی جماعت کی حلقہ بندیوں سے متعلق بوکھلاہٹ اس بات کی نشاندہی ہے کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں عوام کی فلاح وبہبود کیلئے کچھ نہیں کیا ہے۔ 

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ 2013کے الیکشن میں ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے اب 2018کے الیکشن میں قوم پرست اور مفاد پرستوں کو شکست دیں گے۔اس موقع پر جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے مولانا عبدالستار شاہ چشتی ،مولانا عبدالستارآزاد،عبیداللہ حقانی ،حاجی حبیب اللہ ،مولوی رحمت اللہ حقانی جبکہ اہلسنت والجماعت کے قاری عبدالولی ،حیات معاویہ ایڈوکیٹ ،علامہ عبدالرحیم ساجد ،حافظ ایوب معاویہ بھی موجود تھے۔