کوئٹہ: پی ٹی آئی کی ٹکٹوں کی تقسیم کی جنگ بلوچستان پہنچ گئی۔کارکنوں نے پارلیمانی بورڈ کے خلاف مظاہرہ کیا اور ٹکٹوں کی غیرمنفصانہ تقسیم کے خلاف نعرے لگائے۔کوئٹہ میں تحریک انصاف کے کارکن پارٹی ٹکٹ کی تقسیم کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔
کارکنوں کا کہنا ہے کہ نظریاتی اور پرانے کارکنوں کو چھوڑ کر باقی پارٹیوں سے آنیوالوں کو ٹکٹس دیئے جارہے ہیں۔پی ٹی آئی کوئٹہ کے جنرل سیکریٹری لالہ سلطان کا کہنا ہے کہ صوبائی پارلیمانی بورڈ کے چار ارکان نے خود اپنے لئے ٹکٹ لے لئے لیکن پارٹی کو کوئٹہ میں فعال بنانے والے ضلعی صدر کو بھی نظرانداز کیا۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے ایسی خاتون کو ٹکٹ دیا گیا جسے پارٹی میں بھی کوئی نہیں جانتا۔ پی ٹی آئی کوئٹہ کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق تحفظات دور نہ کئے گئے تو آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنیوالے کارکنوں کی حمایت کی جائیگی۔
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لالہ سلطان قریش نے کہاکہ اسوقت پارٹی پر چار کے ٹولے قبضہ کیا ہواہے جس میں قاسم سوری ،خادم وردگ ،بسم اللہ آغا اوربابر یوسفزئی شامل ہیں۔
ان چار کے ٹولے کی وجہ سے گزشتہ چند مہینوں کے اندر اندر پارٹی کے سینکڑوں ورکرز نے پارٹی کو خیر آباد کہہ دیا ہے جن میں تین سینئر صوبائی صدور بھی شامل ہیں ،ہمیشہ ان کی یہی کوشش رہی ہے کہ انکی ایک مضبوط قسم کی لابی ہوں اور پارٹی میں محض انکی اجارہ داری ہوں ۔
پارٹی کی بہتری کیلئے کام کرنیوالے ورکرز کو دیوار سے لگانے کیلئے مختلف طریقوں سے انہیں نہ صرف بلیک میل کیا جاتاہے بلکہ انکے خلاف سازشیں بھی کرتے آرہے ہیں ،اور اس لابی نے پارٹی کیساتھ ساتھ صوبائی صدر کو بھی یرغمال بنایاہواہے ۔

پارلیمانی بورڈ میں موجودہ اس لابی نے راتوں رات اپنے منظور نظر افراد کو نا صرف پارٹی میں شامل کرواکر ٹکٹ دلوائیں بلکہ صوبائی لسٹ میں نام بھی ڈالوائیں گے ،اس کے برعکس پارٹی کیلئے دن رات محنت کرنیوالے ورکرز کو ایک خاص سازش کے تحت نظر انداز کیا گیا ۔
حقیقت یہ ہے کہ خود یہ چار کا ٹولہ 2013کے الیکشن میں صوبائی وقومی اسمبلی کی نشستوں پر بری طرح شکست کھا کر پارٹی کو بدنام کرچکا ہے ،انہوں نے کہا کہ پی بی 27کا ٹکٹ لابنگ کی بجائے میرٹ پر جاری کیا جائے ۔
ورنہ کارکن بلوچستان میں تحریک انصاف کو ایک مخصوص لابی سے نجات دلانے کیلئے عنقریب صوبائی سطح پر تحریک کا اعلان کریں گے ۔پارلیمانی بورڈ کے رکن نے اپنے گھر کیلئے تین ٹکٹیں حاصل کرلی ہے ،قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کیلئے خود ٹکٹ حاصل کرلئے اور اپنے صاحبزادے کو بھی اسمبلی کی ٹکٹ جاری کروائی ہے ۔