کوئٹہ: کوئٹہ میں سیکورٹی نہ ملنے پر شہر بھر سے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو واپس بلالیاگیا۔ اہلکاروں کے ڈیوٹی انجام نہ دینے کی وجہ سے شہر میں ٹریفک کی صورتحال بے قابو ہوگئی۔ جگہ جگہ سڑکیں بند ہوگئیں۔
شہری افطاری کیلئے گھر بھی بروقت نہ پہنچ سکے۔کوئٹہ میں دہشتگرد حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے خطرے کے پیش نظربدھ کی شام تیس سے زائد مقامات پر تعینات ٹریفک پولیس اہلکاروں کو وائرلیس سیٹ کے ذریعے آگاہ کیا گیا کہ وہ ڈیوٹی نہ دیں اور اگلا حکم ملنے تک کا انتظار کریں۔
یہ حکم ملنے پر ٹریفک اہلکار شہر کی بیشتر سڑکوں اور چوراہوں سے غائب ہوگئے۔ایک ٹریفک پولیس اہلکار نے بتایا کہ ہمیں اپنے اعلیٰ آفیسران کی جانب سے بتایا گیا کہ سیکورٹی اداروں نے سیکورٹی الرٹ جاری کیا ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں کوئٹہ میں ٹریفک اہلکاروں پر حملے کی منصوبہ بندی کررہی ہیں۔
ٹریفک اہلکاروں کی عدم موجودگی کے باعث کوئٹہ کے منان چوک، باچا خان چوک، قندھاری بازار، جناح روڈ ، پرنس روڈ، زرغون روڈسمیت شہر کی دوسری اہم شاہراہوں پر شدید ٹریفک جام رہا۔ عید کی خریداری کیلئے بڑی تعداد میں شہری اپنے بچوں اور اہلخانہ کے ہمراہ بازار میں موجود تھے لیکن بے ہنگم ٹریفک اور سڑکوں کی بندش کی وجہ سے انہیں گھنٹوں گاڑیوں میں انتظار کرنا پڑا۔ بیشتر شہری افطار کیلئے وقت پر گھر بھی نہ پہنچ سکے۔
ایس ایس پی ٹریفک فاروق لہڑی نے تصدیق کی کہ ہم نے ایسے حساس مقامات سے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو واپس بلایا ہے جہاں انہیں سیکورٹی میسر نہیں تھی۔تاہم ٹریفک اہلکار وی آئی پی روٹس اور ایسے مقامات پر بدستور موجود اور ٹریفک کا نظام کنٹرول کررہے ہیں جہاں انہیں سیکورٹی میسر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ٹریفک پولیس کے اب تک 33اہلکار دہشتگرد حملوں میں ہلکار شہید ہوچکے ہیں۔ صرف گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران 10اہلکار کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ میں اپنی جانیں گنواچکے ہیں۔ ایس ایس پی ٹریفک کا کہنا ہے کہ ٹریفک اہلکار وں کا شمار محکمہ پولیس میں سب سے زیادہ ڈیوٹی دینے والوں میں ہوتا ہے۔
گرمی ہو یا سردی ، موسم کی سختی کے باوجود ٹریفک اہلکار جانفشانی سے ڈیوٹی انجام دیتے ہیں مگر یہ ڈیوٹی جان کی قیمت پر نہیں دی جاسکتی۔ اہلکار بندو ق اٹھائیں یا ٹریفک کو کنٹرول کریں۔ ہم نے ڈسٹرکٹ پولیس سے سیکورٹی مانگی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شہریوں کی جانب سے ٹریفک اہلکاروں کے ساتھ برتاؤ بھی نامناسب ہے۔ آج ہی شہر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے روکنے پر دو شہریوں نے تشدد کرکے ٹریفک اہلکار کی دو انگلیاں توڑ دیں۔ کوئٹہ کی سڑکوں پر دہشتگردی کے خطرے کی وجہ سے ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کو گلے میں بندوق لٹکائے ڈیوٹی دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
ایک اہلکار اشاروں کے ذریعے ٹریفک کنٹرول کرتا ہے تو ساتھی اہلکار بندوق سنبھالے اپنی اور اپنے ساتھی کی حفاظت کرتا ہے۔ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ٹریفک اہلکار ڈیوٹی کیوں سرانجام نہیں دے رہے یہ ایس ایس پی ٹریفک سے پوچھا جائے۔
جہاں جہاں پولیس اور ایف سی کے پوائنٹس موجود ہیں وہاں ٹریفک اہلکاروں کو اضافی سیکورٹی دینے کی ضرورت نہیں۔ جہاں سیکورٹی میسر نہیں وہاں ٹریفک اہلکاروں کی حفاظت کیلئے الگ سے ڈسٹرکٹ پولیس کے دو اہلکار تعینات کئے جارہے ہیں۔ ٹریفک اہلکار اب کلاشنکوف کی بجائے صرف پستول ساتھ رکھ کر صرف ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کی ڈیوٹی دینگے۔
کوئٹہ، سیکورٹی نہ ملنے پر شہر بھر سے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو واپس بلالیا گیا
![]()
وقتِ اشاعت : June 14 – 2018