کوئٹہ: کوئٹہ کے قریب دشت کے علاقے تیرامل میں سیکورٹی فورسز کے ایک آپریشن میں کالعدم تنظیم کا مطلوب کمانڈرعاصم محمد حسنی بیوی اور دو ساتھیوں سمیت مارا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق پولیس اور ایف سی 160پر حملوں سمیت ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کی درجنوں وارداتوں میں ملوث دہشتگرد کمانڈر عاصم محمد حسنی اپنی بیوی کے ساتھ ملکر وارداتیں کرتا تھا۔آپریشن کے دوران پانچ سالہ بچہ160 جاں بحق، خاتون اور چھ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
عاصم کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کوئٹہ میں دہشتگرد کارروائیوں کی غرض سے بنائے گئے ایک دہشتگرد گروہ کا سرغنہ تھا اور تنظیم میں استاد ڈھکن، ذکریا اور الطاف کے ناموں سے بھی پہچانا جاتا تھا۔آپریشن کوئٹہ سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور مستونگ کی تحصیل دشت کے علاقے سبی روڈ پر تیرہ مل160 160میں واقع ایک مکان میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر منگل اور بدھ کی درمیانی شب کیا گیا۔
بلوچستان پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی) اور حساس ادارے کی نگرانی میں پولیس کی انسداد دہشتگردی فورس (اے ٹی ایف)اور ریپڈرسپانس گروپ (آر آرجی)کے اہلکاروں نے مذکورہ مکان کوچاروں اطراف سے گھیرے میں لیا۔
اہلکاروں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو مکان کے اندر موجود دہشتگردوں نے شدید مزاحمت کی۔ جدید ہتھیاروں سے لیس دہشتگردوں نے دستی بم پھینکے، راکٹ کے گولے داغے ، کلاشنکوف اور لائٹ مشین گن160 سے فورسز پر حملے کئے جس میں کئی اہلکار زخمی ہوئے۔ دہشتگردوں کی جانب سے شدید مزاحمت کے بعد فرنٹیئر کور بلوچستان کے اسپیشل آپریشن ونگ ( ایس او ڈبلیو) کی مدد بھی لی گئی۔
ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کے مطابق آپریشن کلی الماس، کلی برات اور کرانی میں کئے گئے آپریشنز کی روشنی میں ملنے والے شواہد اور اپریل میں گرفتار کئے گئے ٹارگٹ کلر فضل حق عرف خاکسار کی نشاندہی پر کیا گیا۔
مکان میں موجود ایک دہشتگرد نے پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب آکر خودکودھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے کے بعد ہرطرف دھواں پھیل گیا جس کی آڑ لیکر مکان کے اندر موجود دہشتگرد نے خاتون کیساتھ ملکر بھاگنے کی کوشش کی مگر کچھ ہی قدم کے فاصلے پر واقع جھونپڑیوں میں پہنچنے سے پہلے ہی160 فورسز کے اہلکاروں کے ہاتھوں مارے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ہلاک مرد و خاتون دہشتگردوں کے ہاتھوں میں کلاشنکوف تھی۔آپریشن کے دوران نشاندہی کیلئے لایا جانیوالا گرفتار دہشتگرد فضل حق عرف خاکسار بھی مارا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ہونے سے قبل فضل حق عرف خاکسار بھی عاصم کے ٹارگٹ کلنگ گروپ کا حصہ تھااور اس نے تین اپریل کو گرفتاری کے بعداس نے کوئٹہ میں عاصم محمد حسنی کے ساتھ ملکر ٹارگٹ کلنگ کی گیارہ وارداتوں میں 160پولیس اور ایف سی اہلکاروں سمیت 16افراد کو شہید کرنے کا اعتراف کیاتھا۔
ڈی آئی جی عبدالرزاق چیمہ نے آپریشن کے بعد نگراں صوبائی وزیر اطلاعات خرم شہزاد، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورائیہ اور کمانڈنٹ ایف سی غزہ بند اسکاؤٹس کرنل رب نواز کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ میں بتایا کہ فضل حق کی گرفتاری کے بعد عاصم عرف استاد ڈھکن کی سربراہی میں دہشتگرد گروہ نے دہشتگردی کی کارروائیاں روک دی تھیں اور اب دوبارہ اس گروہ نے مزید وارداتوں کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے اور فائرنگ کے تبادلے میں سی ٹی ڈی،اے ٹی ایف اور آرآرجی کے چھ اہلکار زخمی ہوئے جن میں ایک کو سینے میں گولی لگی ہے تاہم تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ آپریشن کے دوران قریب واقع اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنیوالے مزدور کا پانچ سالہ بیٹا بھی گولیاں لگنے سے جاں بحق جبکہ ایک ہمسائیہ خاتون زخمی ہوئی۔سول ہسپتال میں مقتول بچے کے والد پنجاب کے علاقے بہاولپور کے رہائشی محمد صادق نے بتایا کہ وہ160 پنجاب سے یہاں مزدوری کرنے آیا تھا۔
بدھ کی صبح گھر کے قریب شدید فائرنگ ہوئی۔ ہم کمروں میں چھپ گئے اس دوران بیٹا خان محمدجیسے ہی کمرے سے باہر نکلا تو اسے گولی لگ گئی۔اس موقع پر کمانڈنٹ ایف سی غزہ بند اسکاؤٹس کرنل رب نواز نے کہا کہ آپریشن سے قبل ایف سی کے ایس او ڈبلیو ونگ کو الرٹ رکھا گیا تھا جیسے ہی ہماری مدد طلب کی گئی تو ایس او ڈبلیو کے اہلکار فوری طور پر آپریشن کے مقام پر پہنچے۔

انہوں نے بتایا کہ خودکش جیکٹ پہنے ایک دہشتگرد نے بکتر بند گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی اور ناکامی پر خود کو دھماکے سے اڑادیا۔اس دھماکے کی آر میں مکان میں موجود باقی دہشتگردوں نے فائرنگ ہونے کی کوشش کی تاہم ایف سی کی جانب سے سیکورٹی کے دو حصار بنائے جانے کی وجہ سے ناکام ہوئے اور مارے گئے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزازاحمد گورائیہ نے بتایا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق ہلاک ہونیوالا دہشتگردوں میں تحریک طالبان پاکستان کا مطلوب کمانڈر عاصم محمد حسنی اور اس کی اہلیہ بھی شامل ہیں۔
مکان سے ان کا شناختی کارڈ بھی ملا ہے تاہم اس کی حتمی تصدیق ڈی این اے ٹیسٹ اور نادرا کے فنگر پرنٹس ریکارڈ سے ہوگی۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے زیر استعمال مکان سے خودکش جیکٹیں، پندرہ کلو بارودی مواد، چھ تیار دیسی ساختہ بم، چھ کلاشنکوف، نائن ایم ایم، ٹی ٹی پستول، بڑی تعداد میں مختلف ساخت کے ہتھیاروں کی گولیاں، پرائما کارڈ،راکٹ اور الیکٹرک فیوز ، نٹ بولٹس اور بم بنانے والے آلات برآمد کئے گئے۔موبائل فونز اور سمزکارڈ بھی ملے جن کی جانچ کا کام شروع کردیا گیا ہے۔
مکان سے 14جنوری کو کوئٹہ کے علاقے دوکانی بابا مزار پر ریلوے لائن کی حفاظت پر مامور چار ایف سی اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں استعمال ہونیوالی جی تھری رائفل بھی برآمد کی گئی۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ مکان سے آر آر جی پولیس سے مشہابہت رکھنے والی وردیاں بھی ملی ہیں۔ اسی طرح کی وردیاں رمضان المبارک میں ایف سی ون فائیو مددگار سینٹر پرحملہ کرنے والے پانچوں خودکش حملہ آوروں نے پہن رکھی تھیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہلاک دہشتگرد اس طرز کے مزید حملوں کی منصوبہ بندی بھی کررہے تھے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ آپریشن کے دوران دہشتگردوں نے پہلی دفعہ ایسی گولیاں بھی استعمال کیں جو پولیس کی اے پی سی (بکتر بند گاڑی) میں سوراخ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اسی وجہ سے بکتر بند کے اندر موجود اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
عاصم محمد حسنی کالعدم ٹی ٹی پی کے کوئٹہ اور گردونواح میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کی وارداتیں کرنیوالے کئی دہشتگردوں پر مشتمل ایک گروہ کے سرغنہ تھے۔یہ گروہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان بلوچستان کے امیر پیر عین الزمان کے کہنے پر تشکیل دیا گیا تھا۔
عاصم محمد حسنی استاد ڈھکن، ذکریا اور الطاف کے ناموں سے تنظیم میں پہنچانا جاتا تھا۔ا ن کا نام پہلی دفعہ رواں سال اپریل میں اس وقت کے وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو اور صوبائی وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کی پریس کانفرنس میں سامنے آیا تھا۔
اس پریس کانفرنس میں عاصم کے ساتھی گرفتا ر دہشتگرد فضل حق عرف خاکسار نے اپنے اعترافی ویڈیو بیان میں انکشاف کیا تھا کہ عاصم کی اہلیہ بھی دہشتگردی کی کارروائیو ں میں ملوث ہیں اور جائے واردات تک اسلحہ لے جانے اور واپس لانے میں مدد کرتی ہے۔
ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عبدالرزاق چیمہ کا کہنا تھا کہ کلی بنگلزئی میں عید کے دن لیویز اہلکار سمیت تین افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ہلاک دہشتگرد عاصم ملوث ہونے کے امکان ہیں کیونکہ ان کے گروہ نے ہی عید کے بعد دہشتگرد حملوں کی دھمکی دے رکھی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف ہماری اپنی جنگ ہے۔
یہ بہت عرصے سے چل آرہی ہے مگر حال ہی میں اس میں شدت 16 مئی کو کوئٹہ کے کلی الماس میں لشکر جھنگوی کے کمانڈر سلمان بادینی کی ہلاکت کے بعد آئی ہے۔ سلمان بادینی نے بھی رمضان المبارک میں اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دی تھی مگر دونوں دہشتگرد کمانڈر اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ پولیس ،سی ٹی ڈی، ایف سی اورحساس ادارے 160اب یہ جنگ جیتنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔ اب دہشتگردوں کا بہت زیادہ نقصان ہورہا ہے۔ فورسز باہمی تعاون160 سے اہم کامیابیاں حاصل کررہی ہیں۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزازگورائیہ نے بتایا کہ ہلاک دہشتگرد عاصم نے بلوچستان میں پہلی دفعہ دہشتگردی کی کارروائیوں میں اپنے گھر کی خواتین کو استعمال کرنے کا یہ ٹرینڈ شروع کیا۔کوئٹہ میں رواں سال سریاب روڈ، سریاب پل سمیت ٹارگٹ کلنگ کی کئی وارداتوں کے موقع پر خفیہ کیمروں سے حاصل کی گئیں فوٹیجز میں دیکھا جاسکتا تھا کہ واردات کی جگہ سے ایک چوک پہلے اس خاتون کو اتارا جاتا اور پھر واردات کے بعد پھر اسے موٹرسائیکل یا رکشے میں بٹھا کر دہشتگرد فرار ہوجاتے۔
ہمارے پاس یہ بھی اطلاع ہے کہ ریلوے لائن کی حفاظت پر مامور چار ایف سی اہلکاروں کی کلاشنکوف کو یہ خاتون بڑے ماہرانہ طور پر کھول کر اپنے ہمراہ لے گئیں۔ یہی اسلحہ آج کے آپریشن کے دوران اس مکان سے ملا۔ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عبدالرزاق چیمہ نے بتایا کہ 27مئی کو کوئٹہ کے علاقے سرکی روڈ پر ایگل فورس کے اہلکاروں کے ہاتھوں مارے گئے دو دہشتگردوں کی شناخت طارق حسین اور ایاز کے ناموں سے ہوئی۔نادرا ریکارڈ کے مطابق دونوں پاکستانی اور مقامی باشندے تھے۔
طارق حسین کو انٹیلی جنس ادارے محمود کے نام جبکہ ایاز کو ابو سفیان کے نام سے ڈھونڈ رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ دہشتگرد شناخت چھپانے کیلئے نام بدل بدل کر کام کرتے ہیں۔ بہت سے ایسے دہشتگرد جن کے سروں کی بھاری قیمت رکھی گئی ہے وہ افغانستان بھاگے ہوئے ہیں یا کوئٹہ سے بھاگ کر کچھ عرصہ کراچی اور ملک کے دیگر شہروں میں چھپ جاتے ہیں۔
بہت سے دہشتگردوں کے سندھ ،پنجاب کے علاوہ افغانستان سے بھی تانے بانے مل رہے ہیں۔ دہشتگرد گروہ اندرون اور بیرون ملک آپس میں ایک دوسرے کو سہولیات فراہم کرتے ہیں۔
پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورائیہ کا کہنا تھا کہ عوام کرایہ داروں کے کوائف 160پولیس کے پاس جمع کرائے بغیر مکانات کرایہ پر دے رہے ہیں جو دہشتگردوں کی سہولت کاری کے سوا کچھ نہیں۔ کرایہ داری ایکٹ کے نئے قانون کے تحت ایسے افراد کے خلاف دہشتگرد وں کا سہولت کار اور مددگار سمجھا جائیگا جس نے متعلقہ تھانے 160میں رجسٹریشن کرائے بغیر اپنا مکان کسی کو کرایے پر دیا اور بعد میں وہ دہشتگرد سرگرمیوں میں ملوث نکلا۔
ہم نے کوائف کی تصدیق کئے بغیر کلی الماس میں160 سلمان بادینی کو مکان کرایے پر دینے والے کے خلاف بھی عدالت میں سہولت کاری 160کا چالان جمع کرایا ہے۔ انہوں نے عوام اپیل کی کہ وہ کوائف کی تصدیق اور متعلقہ تھانے میں رجسٹریشن کرائے بغیر مکان فروخت کریں اور نہ ہی کسی کو کرایے پر دیں۔
پریس کانفرنس میں160 موجود نگراں صوبائی وزیر اطلاعات خرم شہزاد نے فورسز کو کامیاب کارروائی پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے کی گئی یہ کارروائی ایک بڑی کامیابی ہے۔ ہم انشاء اللہ جلد اپنے صوبے اور ملک کو دہشتگردوں سے پاک کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔