۔ — فائل فوٹو

|

وقتِ اشاعت :   June 24 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں بم دھماکے کے نتیجے میں ڈی ایس پی پولیس اور تین اہلکاروں سمیت پندرہ افراد زخمی ہوگئے۔ دھماکے میں پولیس کی گاڑی ،مسجد کی عمارت اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔

پولیس کے مطابق دھماکا ہفتہ کی دوپہر کو نصیرآباد کے ضلعی ہیڈکوارٹر ڈیرہ مرا د جمالی سے تقریباً پینتیس کلو میٹر دور منجھو شوری کے مین بازار میں ہوا۔ نامعلوم دہشتگردوں نے معمول کے گشت میں مصروف پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ دھماکے سے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور اس میں سوار ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس منجھو شوری عنایت اللہ بگٹی، ان کے دو گن مین ارباب علی ، داد محمد، ڈرائیور غلام علی زخمی ہوگئے۔ 

دھماکے کی زد میں آکر گیارہ راہ گیر اور دکاندار بھی زخمی ہوئے جن میں قمر الدین، محمد سلیم ڈومکی، محمد یونس، محمد ریاض ،ثناء اللہ ، دادخدا، مکیش ، منٹھار،علی حیدر،سوالی خان اور معشوق شامل ہیں۔ایس ایس پی نصیرآباد جاوید شاہ غرشین کے مطابق مطابق دیسی ساختہ سڑک کنارے کھڑی سائیکل پر نصب کیا گیا تھاجس میں ایک کلو گرام بارودی مواد استعمال کیاگیا۔دھماکے کی شدت سے قریب واقع دو دکانوں اور مسجد کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔ 

دھماکے کے بعد پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو سول ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی منتقل کر دیا گیا۔زخمی ہونیوالے تین پولیس اہلکاروں اور ایک راہ گیر کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جنہیں مزید علاج کیلئے لاڑکانہ منتقل کردیاگیا۔

نصیرآباد میں ایک ماہ کے دوران پولیس یہ دوسرا بم حملہ ہے۔ اس سے قبل رمضان المبارک میں 28مئی کو ڈیرہ مراد جمالی کے ڈپٹی کمشنر چوک پر بم دھماکے کے نتیجے میں چار پولیس اہلکاروں سمیت 26افراد زخمی ہوئے تھے۔ 

پولیس اہلکاروں پر بم حملوں میں بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں ملوث ہیں یا کالعدم مذہبی تنظیمیں ، اس سے متعلق ایس ایس پی نصیرآباد جاوید شاہ غرشین سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے بعد ہی حملوں میں ملوث عناصر کا معلوم ہوسکے گا۔

ادھر نگران وزیر داخلہ و قبائلی امور آغا محمد عمر بنگلزئی نے اپنے ایک بیان میں جعفرآباد دھماکے کے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہیں ۔

عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے چاک و چوبند سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں ہم سب پر قرض ہیں پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کرملک و قوم کی حفاظت کی ہے اور ان ہی کی مرہون منت ہے کہ ہم امن کی فضامیں سانس لے رہے ہیں سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں ۔ 

قوم سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو فخر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ہم سب کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر سطح پر بھر پور تعاون کریں ۔ کیونکہ عوام کا تعاون نہایت ضروری ہے ۔ صوبے کی ترقی کیلئے امن کا قیام نہایت ناگزیر ہے ۔ امن و امان کے قیام کیلئے تمام ترا قدامات بروئے کارلائے جارہے ہیں اور ہمارے سیکیورٹی ادارے ملک و قوم کی بقا اور حفاظت کیلئے ہمہ وقت مستعد ہیں ۔