کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی کے پی بی 35 مستونگ سے امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی نے بڑے بھائی پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعلیٰ اور اہم عہدوں پر رہنے والوں نے مستونگ کی پسماندگی کے خاتمے کیلئے کچھ نہیں کیا۔
نوابزادہ سراج رئیسانی چند ہفتے قبل اپنی تنظیم بلوچستان متحدہ محاذ سمیت نئی تشکیل دی گئی بلوچستان عوامی پارٹی کا حصہ بنے اور اب اس کے پلیٹ فارم سے اپنی زندگی کا پہلا الیکشن لڑرہے ہیں۔اپنے بڑے بھائی نواب اسلم رئیسانی کے خلاف ہی کیوں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ؟
کانک میں لگائے گئے اپنے انتخابی کیمپ میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے نوابزادہ سراج رئیسانی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نواب اسلم رئیسانی میرے نواب تھے، ہیں اور رہیں گے مگر سیاست اور قبائلیت ایک ساتھ نہیں چل سکتی۔ قبائلی حیثیت سے وہ میرے نواب ہیں مگر سیاسی طور پر میری اپنی سوچ اور فکر ہے۔
بات ایک قبیلے کی نہیں بلکہ پورے حلقے میں رہنے والے قبائل کی ہیں۔ غریب عوام نے انہیں وزارت اعلیٰ اور قومی اسمبلی تک پہنچایا مگر یہ امر افسوسناک ہے کہ مستونگ کے عوام کو تعلیم، صحت، پانی ، بجلی اور گیس سمیت دیگر سہولیات میسر نہیں۔
سراج رئیسانی کا کہنا تھا کہ پہلے ہماری توجہ ان مسائل پر نہیں مگر اب علاقے کے قبائل اور عمائدین نے مجھے انتخاب لڑنے کا کہا تاکہ علاقے کی محرومیوں کا سدباب کیا جائے۔علاقے میں تعلیم، زراعت اور آبنوشی کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
آج تک جو منتخب ہوئے وہ اپنے گھروں تک محدود رہے عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ ہمیں امید ہے کہ حلقے کے عوام ہمیں خدمت کا موقع دیں گے۔ مخالفین کی جانب سے اسیبلشمنٹ کی جماعت قرار دیئے جانے سے متعلق نوابزادہ سراج رئیسانی کا کہنا تھا کہ یہ سب سے آسان طریقہ ہے کہ جب اپنی ہار نظر آجائے تو اسٹیبلشمنٹ کو مورد الزام ٹھہرایا جائے۔
ان کو شاید اب خواب میں بھی اسٹیبلشمنٹ نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ خود وزرات اعلیٰ کے منصب پر فائز رہے کیا انہیں بھی اسٹیبلشمنٹ نے وہاں بٹھایا ؟۔
انہوں نے کہا کہ ہم سے بڑا کوئی قوم پرست نہیں۔ چادر اور چار دیواری کی بات کرنیوالے تب کیوں نہیں کچھ کہتے جب ہماری مائیں بہنیں پینے کا پانی بھی کوسوں دور سے لاتی ہیں۔ یہ قوم پرست نہیں بلکہ مفاد پرست ہیں اور انتخابات کے بعدانہیں کچھ نظر نہیں آتا۔
نواب اسلم رئیسانی وزیر اعلیٰ ہوکہ بھی مستونگ کی پسماندگی ختم نہیں کراسکے ،سراج رئیسانی
![]()
وقتِ اشاعت : July 6 – 2018