کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما حاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ جس جماعت کی بلوچستان میں نمائندگی تک نہیں اس جماعت کی میڈیا پر جعلی سروسز کی تشہر کرنا مضحکہ خیز ہے ۔ نئی بننے والی تجرباتی جماعت عوام کے مسائل حل نہیں کرسکتی ۔
شہر میں بسنے والی تمام اقوام کی انتشاراور افراتفری میں زندگی کے ایام گزارنے کی وجہ تفرقہ ہے ۔ 70 سالوں پر محیط مسائل کے حل کیلئے بلوچستان کو ایک متفقہ قومی آواز کی ضرورت ہے ۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے کلی اسماعیل ،اختر محمد روڈ، کلی دیبہ اور حسین آباد ،بی ایف سکیم سریاب میں منعقدہ کارنر میٹنگز اور شمولیتی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اختر حسین لانگو ، حاجی اسماعیل گجر،احمد نواز بلوچ، غلام نبی مری، میر غلام رسول مینگل، آغاخالدشاہ ،میر طارق رئیسانی سمیت دیگر پارٹی ہنماؤں نے بھی خطاب کیا ۔
اس موقع پر نوابزادہ میر سخی جان رئیسانی بھی انکے ہمراہ تھے ۔ اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے نوابزادہ میر حاجی لشکری خان رئیسانی کا مزید کہنا تھا کہ 25 جولائی کو ہمارے فیصلے پرقومی امور ، اجتماعی معاملات، متعصبانہ عمل ،مذہبی ، نسلی تعصب ،ذاتی غرض حاوی ہوا تو جس حالت سے ہم آج گزر رہے ہیں اس فیصلہ سے ہماری حالت مزید ابتر ہوگی ۔ اگر فیصلہ درست ہوا تو ہر شخص ، ووٹر، بچہ ، نوجوان ،خواتین آئندہ پانچ سال خوشحالی کے گزارئیں گے ۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ بلوچستان کاد ل اور حلقہ این اے 265اس شہر کا دل ہے جہاں کے مکینوں کو اکیسویں صدی میں بھی پانی ، صفائی ، صحت ، تعلیم ، بے روزگاری ، امن و امان سمیت ٹریفک کے مسائل درپیش ہیں ایسے میں متعصبانہ ذہنیت اور فکر کو ختم کرتے ہوئے ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ایک ایسا فیصلہ کریں جس سے ان مسائل کاخاتمہ ممکن ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم ایک مرتبہ پھر سابقہ پالیسیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ا اس بات کوسمجھے بغیر شہر اور آئندہ نسلوں کے اختیارات اپنے استحصال کا سبب بنے والوں کو دینگے تو یقیناًشہر کے مسائل ،بے روزگاری ، صحت سمیت دیگر بحرانوں میں اضافہ ہو گا اورتفرقہ سے شہر میں بسنے والی تمام اقوام انتشار ، افراتفری کا شکار رہیں گی ،کئی سالوں سے ایک گھر میں رہنے والے لوگوں کے ووٹ بھی تقسیم کئے جاتے رہے ہیں جس کا مقصد باہر کے لوگوں کو یہاں لاکر عوام پر مسلط کرنا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک میڈیا پرایک جعلی سروے جاری کرکے کوشش کی گئی کہ بلوچستان پرایسی پارٹی کو مسلط کیا جائے جس پارٹی کی بلوچستان میں نمائندگی تک نہیں وہ میانوالی اور لاہور کی نمائندگی کررہی ہے ۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان کے پشتون ، بلوچ ، سیٹلر، ہزارہ و دیگر اقوام ایک آواز بن کر یہاں کی آواز کو پارلیمنٹ تک پہنچائیں اورعوام کو درپیش مشترکہ مسائل کے حل کیلئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے منشور اور ا یجنڈا کی حمایت کرتے ہوئے یہاں کے باشعور لوگ یہ فیصلہ کریں کہ پشتون بلوچ و دیگر اقوام سب کے مسائل مشترک ہیں ۔
ان مسائل کے حل کے لیے عوام 25تاریخ کو بلوچستان نیشنل پارٹی کو ووٹ دیں جب ہم متحد ہونگے تو ہم گوادر اور ریکوڈک کے 300ارب ڈالر کے مالک ہونگے اگر ہم متحد نہیں ہونگے تو ہمارے مسائل میں اضافہ ہوگا اب وقت آگیا ہے کہ ہم اور آپ متحد ہوکر بلوچستان کی آواز بنیں اور ہمارا مینڈیٹ ایک ہو۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کا منشور بھی یہی ہے کہ ہمیں اپنے وسائل و ساحل پر اختیار دو دنیا چاند پر پہنچ گئی ہم اسی پرانے دور میں رہ رہے ہیں اگر ہم نے اپنے حقوق حاصل کرنے ہیں تو اتحاد ناگزیر ہے بلوچستان کی بہتری کے لئے زندگی کے ہرشعبہ سے تعلق رکھنے والے شخص کو عملی جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔
بلوچستان کے 70سالوں پر محیط مسائل کے حل کیلئے متفقہ قومی آواز کی ضرورت ہے ،لشکری رئیسانی
![]()
وقتِ اشاعت : July 13 – 2018