کوئٹہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خوف اور دہشتگردی کے ماحول میں انتخابات ہورہے ہیں،سیاسی جماعتوں انتخابی مہم کیلئے مساوی مواقع نہیں مل رہے ،2018ء میں ایک نئی آئی جے آئی بنائی جارہی ہے۔عراق اور افغانستان میں انتخابات ہوسکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں، پاکستان کے عوام دہشت گردوں کو 25جولائی کو ووٹ کی طاقت سے شکست دیں گے۔
پیپلز پارٹی اقتدار میں آئیت و انتہاء پسندی اور دہشتگردی کے مسئلے کو قومی اور صوبائی سطح پر حل کرے گی۔انہوں نے یہ گفتگو سراوان ہاؤس کوئٹہ میں مستونگ خودکش بم میں شہید ہونیوالے نوابزادہ سراج رئیسانی کے لواحقین سے تعزیت کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو اور اس کے بعد پارٹی عہدیداروں کے ہمراہ مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے کی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر پورے ملک میں بہت کم عمل ہوا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ وہ ایک کاغذی منصوبہ تھا۔کالعدم تنظیموں اور انتہاء پسند گروہوں کو انتخابات میں جگہ دینے سے نہ صرف انتخابی عمل آلودہ ہورہا ہے بلکہ یہ پارلیمنٹ ،جمہوریت اور ملکی تشخص کو بھی بے توقیر کررہا ہے۔ شہباز شریف اور عمران خان کی پالیسیاں ایک جیسی ہیں، دونوں سے نظریاتی اختلافات ہیں۔
عام انتخابات کے بعد کسی سیاسی جماعت کیساتھ اتحاد پیپلز پارٹی کے منشور پر عملدرآمد سے مشروط ہوگا۔عمران خان ہر روز یوٹرن لیتے ہیں ،دوسروں کے بارے میں بہت باتیں کرتے ہیں لیکن عوام اب باتوں پر نہیں چلتے۔سراوان ہاؤس میں سراج رئیسانی کے بڑے بھائی سابق وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی اور بیٹے جمال رئیسانی سے تعزیت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ خیبر سے لیکر بلوچستان تک جو دہشتگردی کے واقعات ہوئے ہیں نہ صرف افسوسناک ہیں مستونگ کا واقعہ ایک قومی سانحہ ہے ہمارے ملک میں بہت سارے قومی سانحات ہوئے ہیں کسی بھی ملک میں اتنے سانحات نہیں ہونے چاہیے۔
انشاء اللہ پاکستان کے عوام ان مشکلات سے نکلیں گے اور ہم ایک خوشحال پرامن اور ترقی پاکستان کی طرف پہنچیں گے۔ تمام تر خدشات کے باوجود انشاء اللہ انتخابات ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی پہلی ترجیح ہونی چاہیے اس میں کسی حکومت اور انتظامیہ کو کوئی غفلت نہیں کرنی چاہیے۔ خاص طور پر جو اپنا سیاسی حق ادا کررہے ہیں اور انتخابات میں حصہ لے رہے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لشکری رئیسانی کی جانب سے ٹروتھ کمیشن کے قیام کے مطالبے کا علم نہیں مگر ہمارے منشور میں ٹروتھ کمیشن کی بات شامل ہم دہشتگردی اور دیگر مسائل پرٹروتھ کمیشن کی بات کرتے ہیں۔ اگرلشکری رئیسانی نے یہ تجویز دی ہے تو اس پر عمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی سے متعلق بہت ساری جماعتوں کی شکایات ہیں ۔
ہم نے تو سمجھا کہ ہمیں بتایاگیا کہ دہشتگردی کافی کم ہوگئی ہے اور دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اب انتخابی عمل کے دوران اتنے سارے واقعات ہوئے ہیں تو یہ انتہائی بدقسمتی ہے۔ سیکورٹی صورتحال غیر مستحکم ہے ۔ا نتخابات خوف کے ماحول میں لڑا جارہا ہے۔ پاکستان کے عوام اور قوم بہادر ہیں ۔ افغانستان اور عراق میں اس قسم کے واقعات کے باوجود انتخابات ہوئے ہیں۔
پاکستان میں بھی 25 جولائی کو انتخابات ہوں گے اور عوام ووٹ کے طاقت کے ذریعے دہشتگردوں کو شکست دینگے۔بعد ازاں کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں پارٹی رہنماء فرحت اللہ بابر، صوبائی صدرعلی مدد جتک اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی دہشتگردی کے حالیہ واقعہ کی بھر پور مذمت کرتی ہے۔ ہم بلوچ بھائیوں کے غم میں شریک ہیں۔
جب اس واقعہ کی اطلاع آئی تو خیبر پشتونخوا میں انتخابی مہم میں مصروف تھا۔انتخابی مہم ملتوی کرکے جتنی جلدی ممکن ہوسکا کوئٹہ آیا اور شہید سراج رئیسانی کے خاندان سے تعزیت کی۔ انہوں نے سراج رئیسانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ پاکستان کا جھنڈا لہراتا تھااوربہادر خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ ہسپتال کا بھی دورہ کیااور دھماکے کے متاثرین سے ملا۔
افسوسناک بات ہے کہ میرے بلوچستان زیادہ تر دورے دہشتگردی کے واقعات کے بعد تعزیت کی غرض سے ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے عوام نے دہشتگردی کی وجہ سے مشکلات جھیلی ہیں۔ یہاں کے صحافیوں ، وکلاء ، پولیس ،ایف سی سمیت تمام طبقات نے مشکلات کا سامنا ہے۔ پورے کو ملک میں دہشتگردی کے واقعات ہوئے ہیں مگر بلوچستان میں جس طریقے سے یہ سلسلہ جاری ہے اور اس کا حل نہیں نکلا ہے میں سمجھتا ہوں یہ بہت افسوسناک ہے۔ انتخابات متنازع اور اور مشکل بن رہے ہیں۔
بہت ساری جماعتوں کی جانب سے الزامات لگائے جارہے ہیں کہ انہیں مساوی مواقع نہیں مل رہے۔ اگر پورے ملک میں مساوی موقع ہوں اور عوام پر بھروسہ کیا جائے اور وہ کھل کر اپنے نمائندے اسمبلیوں میں بھیجیں تو ایک عوامی نمائندہ حکومت بن سکتی ہے۔ صرف مضبوط جمہوری حکومت ہی عوام کو ان مسائل سے نکال سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تاریخ رہی ہے کہ وہ قومی اتفاق رائے کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ کرتی ہے ۔
بدقسمتی سے جو اتفاق رائے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعدبنا تھا جس کے بعد پورے ملک نے دہشتگردی اور انتہاء پسندی کا مقابلہ کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان بنایا تھا اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔اس انتخابی عمل کے دوران کچھ ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں جن پر ہمیں تحفظات ہیں جیسے کہ کالعدم تنظیموں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔کالعدم تنظیموں اور انتہاء پسند گروہوں کو انتخابات میں جگہ دینے سے انتخابی عمل آلودہ ہورہا ہے اور یہ پارلیمنٹ ،جمہوریت اور ملکی حیثیت کو بھی بے توقیر کررہا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی اس کی مخالفت کرتی ہے۔آزادی صحافت،آزادی اظہار رائے اور سیاسی آزادی کمزور ہوتی جارہی ہے پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ یہ مضبوط اور فعال جمہوریت کیلئے درست نہیں۔ پیپلز پارٹی نے پہلے بھی ان چیزوں کا سامنا ہے ۔اگر عوام ہم پر بھروسہ کرتے ہیں اور موقع دیتے ہیں تو ہم پارلیمنٹ میں آکر ان مسائل کو حل کریں گے۔ہم نے ہمیشہ پسماندہ علاقوں کو توجہ دی ہے۔
ہماری گزشتہ حکومت نے اٹھارہویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ اور آغاز حقوق بلوچستان جیسے اقدامات کئے اور ہم نے خاص طور پر کوشش کی کہ صوبوں کے دیرپا مسائل حل کریں۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ جو صوبوں کے وسائل سے عوام فائدہ اٹھائیں۔اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے ہم نے چھوٹے صوبوں کو بڑا کردار دیا۔ بدقسمتی سے گزشتہ پانچ سالوں سے اٹھارہویں ترمیم پر عمل نہیں ہوا اور نیا این ایف سی ایوارڈبھی نہیں دیا گیا۔
انتہاء پسندی اور دہشتگردی پورے ملک اور بلوچستان کا بھی مسئلہ ہے۔ ہم نے قومی اور صوبائی سطح پر اسے حل کرنا ہے۔ ہم نے عوام کے بنیادی مسائل پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ خاص طور پر بلوچستان میں معاشی انصاف، غریب عوام کیلئے پیپلز پارٹی کے منشور میں بہت سارے پروگرام اور منصوبے ہیں جس طرح ہم نے پہلے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پہلے دیا تھااس بار ہم عوامی مفاد کے مزید منصوبے لاکر معاشی صورتحال پر توجہ دے کرمزید بہتری لاسکتے ہیں۔
اس کیلئے صوبائی حکومتوں کو وسائل کی ضرورت ہے تاکہ وہ پانی ،زراعت جیسے بنیادی مسائل حل کریں۔ ہم نے سندھ میں تھر کے ریگستان میں تھرکول پراجیکٹ کے ذریعے ہم نے زراعت کے فروغ کیلئے ہم نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔ پیپلز پارٹی بنیادی مسائل پر توجہ دے رہے ہیں چاہے ا س لئے عوام پچیس جولائی کو عوام کو موقع دینگے تاکہ ان کے مسائل حل ہوسکے۔
عمران خان کی جانب سے پیپلز پارٹی پر تنقید سے متعلق سوال کے جواب میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان ہر روز نیا یوٹرن لیتا ہے ،ہر دن ایک نئی بات کہتا ہے اور دوسروں کے بارے میں بہت سی باتیں کرتا ہے مگر اب عوام صرف باتوں پر چلیں گی ۔عمران خان کے پاس پانچ سال تک خیبر پشتونخوا کی حکومت تھی ۔
انہوں نے نوے دن میں دہشتگردی اور بد عنوانی ختم کرنے کا دعویٰ کیا تھا مگر یہ ختم نہیں ہوئی۔بدعنوانی ختم نہیں ہوئی بلکہ احتساب کا عمل غیر فعال ہے اور مقدمات بند پڑے ہیں۔ بد عنوانی کے سنگین الزامات لگے مگر وہاں عمران خان یا ان کی حکومت نے اس پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ جب تک ہم کرپشن کے مسئلے کو صرف سیاسی فٹبال کے طور پر کھلیں گے اور الزامات کی سیاست کریں گے اور کوئی نظام کی بہتری کی طرف نہیں جائیں گے ۔
تو بد عنوانی ہمیشہ ایک مسئلہ رہے گا۔ پیپلز پارٹی نے پہلے بھی نیب قوانین میں اصلاحات کی بات کی اور احتساب کے ایک مضبوط نظام لانے کی بات کی تاکہ احتساب بلا امتیاز ہوں اور سب کا ہوں۔پورے ملک میں سب کیلئے ایک قانون ہونا چاہے۔
خوف اور دہشتگردی کے ماحول میں انتخابات ہورہے ہیں ،سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم کیلئے مساوی مواقع نہیں مل رہے ،بلاول بھٹو
![]()
وقتِ اشاعت : July 17 – 2018