کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی نے 25 جولائی 2018ء کے انتخابات کیلئے منشور کا اعلان کردیا۔ گڈ گورننس،صحت اور مالی نظم وضبط کا قیام پہلی تین ترجیحات ہیں۔ بی اے پی کے مرکزی صدر جام کمال خان کا کہنا ہے طرز حکمرانی اور معاشی ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے شفاف اور بلاامتیاز احتساب کا طریقہ کا ر اپنا یا جائے گا۔
کوئٹہ میں بی اے پی کے دیگر رہنماؤں منظور احمد کاکڑ، سینیٹر انور الحق کاکڑ، سعید احمد ہاشمی اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں منشور کا اعلان کرتے ہوئے جام کمال خان کا کہنا تھا کہ حادثات کی صورت میں متاثرہ افراد کیلئے عوامی امتیازی کارڈ متعارف کرایا جائے گا جس کے تحت متاثرہ متاثرہ خاندانوں کو مفت علاج کے ساتھ ساتھ مفت تعلیم اور سستا راشن فراہم کیا جائے گا جبکہ ہیلتھ انشورنس کا رڈ سکیم متعارف کروائی جائے گی جس کی بدولت لوگ رعایتی فیس اداکر کے بنیادی طبی سہولیات حاصل کر سکیں گے۔
ان کا کہنا تھا انتظامی اداروں کو ڈویڑن کی سطح پر مضبوط اور موثر بنایا جائے گا طرز حکمرانی کی بہتری کیلئے اقدامات کئے جائیں گے بنیادی ڈھانچوں کے قیام،معدنی دریافت،ٹیکنالوجی فنڈقائم کیا جائے گا۔بلوچستان بینک کا قیام ،اور چھوٹی بڑی صنعتوں کیلئے مواقع پیدا کئے جائیں گے۔ بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر وترقی کیلئے ایک ادارہ قائم کیاجائے گا جو بنیادی اداروں کی تعمیر نو ترقی کیلئے نجی اداروں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔
باپ پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ شعبہ تعلیم کی بہتری کے منصوبے شروع کئے جائیں گے نجی اداروں کے تعاون سے سرکاری یونیورسٹیاں قائم کی جائیں گی ضلع کی سطح پر طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے بنیادی ڈھانچے کو فعال کیا جائے گا۔ صوبے میں پانی اورخوراک کی کمی دور کرنے کیلئے قانون سازی کی جائے گی سرکاری ملازمتوں میں خواتین کاحصہ بڑھانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے اورخواتین کیلئے فنی تربیتی مراکز میں اضافہ کیا جائے گا۔
چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروبار ،گھریلو صنعتوں پر بھی توجہ دی جائے گی۔ ساتھ ہی ساتھ اقلیتوں اور نوجوانوں کی ترقی کے پروگرام شروع کئے جائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی انتظامی اداروں کو ڈویژن اور ڈسٹرکٹ کی سطح پر انتا مضبوط اور موثر بنانا چاہتی ہے کہ لوگوں کو سہولت کے حصول میں کوئی رکاوٹ درپیش نہ ہوں یہ پارٹی ڈویڑن اور ڈسٹرکٹ کی سطح پر اس امر کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ تمام مروجہ قوانین ضابطہ کار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان علاقوں کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچاسکیں۔
جام کمال خان نے کہاکہ بلوچستان تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کیلئے مالیاتی بجٹ میں تعلیمی اخراجات کی مد میں اضافہ کیا جائیگا۔ پرائمری اور سیکنڈری اساتذہ کیلئے تربیتی کورسز،مڈل کلاس تک 100فیصد داخلے یقینی بنانے کیلئے قانون سازی ،پرائمری سکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی ،کتابوں کی مفت تقسیم ،تمام سرکاری سکولوں میں کمپیوٹرلیب قائم کئے جائیں گے۔
پیشہ وارانہ تعلیم کومرکزی دھارے کے تعلیمی نظام کے ساتھ منسلک کرنا،سرکاری یونیورسٹیوں کا قیام ،موجودہ تعلیمی اداروں کے معیاری میں بہتری ،ضلعی سطح پر اساتذہ کو سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائیگا۔ضلعی سطح پر طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے بنیادی ڈھانچے کی بحالی ،ضلع کی سطح پر ایک ایسا ہسپتال جس میں مکمل تشخیصی سہولیات سمیت طبی ماہرین موجود ہوں ،قائم کیا جائیگا۔
ہیلتھ انشورنس کارڈ سکیم متعارف کرائی جائیگی ،بنیادی طبی مراکز کی فعالیت ،ڈسٹرکٹ ہییلتھ کیئر اتھارٹی ڈی ایچ اے کے نام سے ادارے کا قیام جو علاقے میں صحت کا نظام سنبھالے گا،طبی ماہرین اور سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے صحت سے متعلق پالیسی بنائی جائیگی۔.بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ نے کہاکہ ہم کوشش کریں گے کہ آئین پاکستان میں ہر شہری کے بنیادی حق کے طورپر خوراک اورپانی پر حق کے عنوان کے تحت ایک نئی شق کا اضافہ کرواسکے ۔
خوراک اور پانی تمام شہریوں کو مہیا کیا جانا چاہیے لہذا اس مقصدکو مد نظر رکھتے ہوئے مکمل کوشش کی جائے گی کہ ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ خوراک اورپانی کی کمی کی وجہ سے متاثر نہ ہو ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی ممالک کیساتھ ثقافتی اقتصادی بندھنوں کو فروغ دینے کیلئے جڑواں شہروں کے منصوبوں کا آغاز کرے گی ۔
جڑواں شہروں کی شراکت سے شہری نمائندوں کو ترقی کے فروغ کیلئے مواقع فراہم ہوں گے ،جڑواں شہروں کا انتخاب آسان نہیں یہ بہت پیچیدہ عمل ہے اس لئے بلوچستان عوامی پارٹی دونوں شہروں میں موجودہ وممکنہ طورپر معلومات کی آگاہی کیلئے مارکیٹ تجزیہ کو عمل میں لائے گی ۔
یہ معاہدے ایک میونسپل سے دوسری میونسپل کے درمیان محدود نہیں ہوگی بلکہ ایک یونیورسٹی سے دوسری یونیورسٹی ایک شہر سے دوسرے شہر کاروبار ،چیمبر اور بندرگاہ سے دوسری بندرگاہوں کے مابین ہوں گی۔
بلوچستان عوامی پارٹی کان کنی اور پروسینگ مشینری دونوں شعبوں میں بارعایت بہتر پروسینگ انڈسٹری کی فراہمی پر زور دیتی ہے اس شبعے کے بنیادی ڈھانے میں بہتر لانے پر موجودہ وسائل پر زور دیتی ہے۔
وہ اضلاع جو دوسرے اضلاع کے مقابلے میں بہت پسماندہ ہیں ان پر خصوصی توجہ دی جائے گی ،اور ورک کیساتھ ساتھ انکے بنیادی ڈھانچے کو دوسرے اضلاع کی سطح پر لایا جائیگا۔انسانی وسائل کی ضروری کیلئے بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی سطح پر زیادہ فعال نہیں جنہیں مختلف اقدامات سے بہتر بنایا جاسکے گا۔
انہوں نے کہاکہ انتظامیہ اصلاحات میں قومی انتظامی کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں متعارف کرائی جائے گی ،بلوچستان پولیس سروس میں اصلاحات ،قانون کے بالادستی کے عوامی کے تحت مشاورتی عمل سے ٹیکنالوجی اور اقتصادی معاونت سے کی جائیں گی ۔
بلدیاتی اداروں میں وسعت پیدا کی جائے گی بلدیاتی اداروں کو بلوچستان بھر میں مضبوط کیا جائیگا جو مقامی حکومت کے نظام کے موثر نفاذ کی اہلیت کی حامل فیصلہ کرنے میں خود مختار ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ پولیس کی تربیت کیلئے ایک ایسے اصلاحی پروگرام پر عمل درآمد کیا جائیگا ،جس کے تحت فوج اور نیم فوجی ادارے پولیس اہلکاروں کو تربیت دیں گے تاکہ انکی تربیت کا معیار بہتر ہوسکے ،لیویز کی تنظیم نو اسکی استعداد بڑھانے ،تربیت کرنا اور دیگر تبدیلیاں لاکر اسے ایک موثر اور بہترین قوت میں تبدیل کرنا تاکہ پولیس کے برابر آسکے۔
جام کمال خان نے کہا کہ کوئٹہ کیلئے مخصوص اقدامات کئے جائیں گے شہر کے آبادی کیلئے پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور گھریلوا ستعمال کیلئے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائیگا ،زمینی پانی کی سطح کی بہتر کیلئے کوئٹہ میں تاخیر کا شکار کم سے کم سو ڈیم کی تعمیر کا آغاز کیا جائیگا ،میٹروپولیٹن کارپوریشن کو مضبوط کیا جائیگا ۔
بلاتعطل اور مسلسل خدمات کی ادائیگی کیلئے فنڈز کی فراہمی ،میٹروپولیٹن کارپوریشن کی نظام کی نگرانی کی جائیگی ،کوئٹہ شہر میں ٹریفک کیلئے ماسٹر پلان کو بہتر بنایا جائیگا ،شہر بھر کا مجموعی آمدورفت کا پروگرام گلیوں کیلئے نئے اور جدید منصوبے بسوں اور پرائیویٹ گاڑیوں وغیرہ پر مشتمل ہوگا۔
پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو طریقی یافتہ ممالک کی طرز پر متعارف کرایا جائیگا۔بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ نے کہاکہ ماحول کی بہتر ی کیلئے فضلے کو ٹھکانے لگانے کیلئے اضافی فنڈز فراہم کئے جائیں گے۔
پرائیویٹ اور اور حکومتی احاطوں (جگہوں ) کی سجاوٹ کیلئے گرین بیلٹ کی ترقی کی خاطر کوئٹہ میں برگ ریزا اور سدابہار پودوں اور (درختوں ) کو اگایا جائیگا ،کوئٹہ میں تعمیر وترقی اور ترجیحی سرگرمیوں کی تکمیل کی نگہداشت کیلئے شہری مشاورت اور نگراں بورڈ قائم کیا جائیگا۔
انتخابی منشور عوام کے مکمل مفاد میں ہے منتخب ہو کر اس پر عمل کریں گے، جام کمال
![]()
وقتِ اشاعت : July 18 – 2018