کوئٹہ: مستونگ بم دھماکے میں ڈیڑھ سو افراد کی جانیں لینے والے خودکش بمبار کی شناخت ہوگئی۔ ایبٹ آباد کا رہائشی خودکش بمبار دو بھائیوں اور تین بہنوں کے ہمراہ دہشتگردتنظیم میں شامل ہوکر دو سالوں سے افغانستان میں رہ رہا تھا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورائیہ کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے دو بھائی اور تین بہنیں بھی کالعدم تنظیموں کا حصہ ہیں اور ان سے متعلق بھی اچھی خبریں نہیں مل رہیں۔ خودکش حملہ آور کو مستونگ اور جلسہ گاہ تک لانیو الے سہولت کار مستونگ کے رہائشی تھے جن کی شناخت سے متعلق مثبت اشارے ملے ہیں۔
کوئٹہ میں سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی) کے ڈی آئی جی اعتزاز احمد گورائیہ نے بتایا کہ 13جولائی کو بلوچستان کے ضلع مستونگ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے انتخابی جلسے پر خودکش بم دھماکے میں 150سے زائد افراد کی شہادت اوراتنے ہی زخمی ہوئے تھے۔ سانحہ کی تحقیقات میں پہلے دن سے ہی سی ٹی ڈی پولیس شامل تھی۔
تفتیش اور شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ ہم خفیہ اطلاع پر مسلسل آپریشنز بھی کررہے تھے۔ اب تک کی تحقیقات میں حملہ آور کی شناخت سے متعلق پیشرفت ہوئی ہے۔جائے وقوعہ سے ملنے والے ہاتھ کے فنگر پرنٹس اور موبائل ویڈیوز اور تصاویر کی مدد سے خودکش حملہ آور کی پہچان کرلی گئی ہے۔
حملہ آور کے والد اور بھائی کو تصاویر دکھائی گئیں تو انہوں نے بھی تسلیم کیا۔انہوں نے کہا کہ حملہ آور کی شناخت کیلئے ڈی این اے سیمپل بھی فارنزک لیبارٹری بھیجے گئے تھے جس کی رپورٹ آنے میں وقت لگے گی۔اعتزاز گورائیہ نے بتایا کہ حملہ آور حفیظ نواز ولد محمد نواز کا آبائی تعلق ایبٹ آباد سے تھا مگر ان کا خاندان گزشتہ تیس سے چال سال قبل سندھ کے شہر ٹھٹہ میں رہ رہا تھا۔
حملہ آور کے والد نے ابتدائی تفتیش میں بتایا ہے کہ حفیظ نواز اپنے دو بھائیوں اور تین بہنوں کے ہمراہ کالعدم تنظیم میں شامل ہوکر دو سالوں سے افغانستان میں رہ تھا۔ ان کے دونوں بھائی اور تینوں بہنیں اب بھی افغانستان میں کالعدم تنظیموں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ ان سے متعلق بھی ہمیں کچھ اچھی معلومات نہیں مل رہیں تاہم ہم ان معلومات کی تصدیق کرارہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انتخابی جلسے میں مقامی براہوی زبان استعمال کی جارہی تھی جس سے حملہ آور نابلد تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ امر تشویشناک ہے کہ انتخابی جلسہ گا میں تلاشی لئے بغیر لوگوں کو اندر جانیدیا گیا۔ حملہ آور چوتھی صف میں بیٹھا تھا اور دھماکے سے کچھ دیر قبل اسٹیج کے قریب آکر خود کو دھماکے سے اڑایا۔ نوابزادہ سراج رئیسانی کے سیکورٹی انچارج نے انہیں ایک طرف لے جانے کی کوشش بھی کی مگر اس نے دھماکا کردیا۔
انہوں نے کہا کہ ہر بڑے دھماکے کے بعد مختلف تنظیموں کی جانب سے بیک وقت ذمہ داری قبول کی جاتی ہے۔ اس واقعہ کی بھی دو تنظیموں نے ذمہ داری قبول کی ہے۔ دہشتگرد تنظیمیں ملکر کام کرتی ہیں اور ایک دوسرے کو سہولت فراہم کرتی ہیں۔ اب تک کی تحقیقات میں اشارے لشکر جھنگوی کی طرف جارہے ہیں جو اب داعش کے بینر تلے کام کرتی ہے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تحقیقات میں تعاون کریں کیونکہ جہاں واقعہ ہوا ہے وہاں سی سی ٹی وی کیمرے لگے نہیں تھے اور جیوفیسنگ کیلئے بھی اتنا مواددستیاب نہیں۔ ابھی بھی جو کامیابی ملی ہے وہ مقامی لوگوں کی مدد سے ہوئی ہے۔ ہم ان سے مزید بھی مدد لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وقوعہ کے وقت سینکڑوں مقامی لوگ موجود تھے جنہوں نے نے ویڈیو اور تصاویر بنائی ہیں۔ خودکش حملہ آور کو جلسہ گاہ تک پہنچانے والا یقیناًمقامی تھا جسے مستونگ شہر اور راستوں کا پتہ تھا۔عوام آگے آئیں اور ہمیں اطلاع دیں۔
معلومات دینے والوں کا تحفظ کیا جائیگا۔ اعتزازحمد گورائیہ نے سوشل میڈیاپر حملہ آور سے متعلق گردشکرنے والی مختلف تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لوگ سوشل میڈیا پر بغیر سوچے سمجھے اور تحقیق کے خبر چلادیتے ہیں جو درست نہیں ہیں۔شروع میں جب سوشل میڈیا پر خودکش حملہ آور کی تصویر شیئر ہوئی تو کسی نے کہاں کہ یہ فلاں ڈاکٹر صاحب کا بھانجا ہیاور کسی نے کہا کہ یہ فلاح کا رشتہ دار ہے۔
اس عمل سے نہ صرف تفتیش میں ہمیں مشکلات پیش آئیں بلہ تفتیش بھی غلط سمت میں گئی۔ دہشتگرد بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کیا ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع تھا اس لئے اس پر کارروائی نہیں کررہے۔ آئندہ تفتیش میں رکاوٹیں ڈالنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سوشل میڈیا پر کسی کا نام ظاہر نہیں کرتے اور مکمل پیشہ ورانہ طریقے سے تفتیش کرتے ہیں۔
اعتزاز گورائیہ نے تصدیق کی کہ حملہ آور وہی شخص ہے جس کی تصویر سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے ، اس نے ٹوپی اور جیکٹ پہن رکھی ہے اور اس کے زیر گردش تصویر میں اس کے گرد پیلے رنگ سے واضح کیا گیا ہے۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے سانحہ مستونگ میں ملوث دوسہولت کاروں کی گرفتاری کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سیکورٹی ادارے نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی۔
کچھ لوگوں کی شناخت ضرور کی ہے جو ممکنہ طور پر دہشتگردوں کے سہولت کار ہیں۔ وہ مستونگ کے ہی رہنے والے ہیں جب تک کوئی تصدیق شدہ معلومات نہیں آتی اور گرفتاری نہیں ہوتی۔ ہم اسے شیئر نہیں کریں گے۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ تفتیش میں معاونت اور حملہ آور کی شناخت سے متعلق سی ٹی ڈی کراچی کے شکر گزار ہیں انہوں نے ہمارا پورا ساتھ دیا۔
باقی سیکورٹی اداروں اور حکومتی اداروں نے بھی بھر پور مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آور کوسہولت فراہم کرنے والے گروہ سے متعلق بھی مثبت اشارے ملے ہیں۔ان اشاروں اور معلومات پر سیکورٹی اداروں ،ایف سی اور پولیس کے ساتھ ملکر سی ٹی ڈی خفیہ اطلاعات پر آپریشنز کررہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور سے پنجاب فارنزک سائنس لیبارٹری کے ماہرین نے جائے وقوعہ سے شواہدا حاصل کرلئے ہیں۔ان شواہد کا لیبارٹری میں تجزیہ کیا جائیگا اس کی رپورٹ میں ہی معلوم ہوسکے گا کہ کتنی مقدار میں اور کونسا بارودی مواد استعمال ہوا۔
مستونگ سانحہ، خودکش بمبار کی شناخت ہوگئی ایبٹ آباد کا رہائشی تھا، جلسہ گاہ تک لانے والے مستونگ کے رہائشی تھے
![]()
وقتِ اشاعت : July 20 – 2018