|

وقتِ اشاعت :   July 30 – 2018

کوئٹہ:  بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کیا جائے ۔ 37 ہزار والی آبادی میں 26 ہزار ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں۔چند سیٹوں کیلئے اپنا ایمان داؤ پر نہیں لگائیں گے ۔

ووٹ کسی اورکو ملے اور نتیجہ کسی اور کا بنے ایسا کرنے والے قابل گرفت ہیں ۔ہماری ترجیحات حکومت سازی نہیں بلوچستان کے جملہ مسائل کے حل کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ بلوچستان کے لوگوں نے ہمیں اپنا مینڈیٹ دیا جس کا احترام نہیں کیا گیا ۔ پولنگ سے لیکر نتائج کے اعلان تک جو کچھ ہوتا رہا وہ سب کے سامنے ہے ۔

عمران خان نے کامیابی پر مبارکباد دی ہے اتحاد کے لوازمات کیا ہونگے اس کا فیصلہ پارٹی کے ادارے کرینگے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ساز ی کے عمل میں حصہ لینا پارلیمانی سیاست کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں کا آئینی حق ہے جس میں رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں ۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے آئینی ادارے اسمبلی میں پارٹی کے کردار سے متعلق حتمی فیصلہ کرینگے تاہم ہماری کوشش ہوگی کہ ان ہم خیال جماعتوں سے اتحاد کیا جائے جن سے پارٹی نے انتخابات میں سیٹ ٹو سیٹ اجسٹمنٹ کی تھی دیگر جماعتوں سے اتحاد کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ اب تک نہیں ہوا۔ 

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عوام کی جانب سے پارٹی کو دیئے گئے مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا گیا ۔ 1988 ء سے انتخابات میں حصہ لیتا چلا آرہا ہوں ایساکبھی نہیں ہوا کہ 72 گھنٹوں تک انتخابی نتائج کو روکا گیا ہوپتہ نہیں چل پارہا تھا کہ الیکشن کروا رہا کون ہے اور کس کے کہنے پر نتائج نکالے جارہے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ تربت میں سیکورٹی فورسز کی موجودگی میں ہمارے باکسز کواُٹھا کر کیمپ منتقل کیا گیا جہاں سے نتائج آنا شروع ہوگئے، مستونگ کی قومی اسمبلی کی نشست پر ہماری جیت کو ہار میں تبدیل کیا گیا ۔ عجیب بات ہے کہ ملک بھر کے ترقی یافتہ علاقوں میں 90فیصد ووٹ کاسٹ نہیں ہوئے تاہم قلات میں90 فیصد ووٹ کاسٹ ہوگئے جس کی کل آبادی 37 ہزار ہے وہاں پر 26 ہزار ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں۔ 

آواران میں جہاں پوری دنیا مانتی ہے کہ وہاں سے لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں اس علاقہ میں سے بھی لوگ 15 سے 20 ہزار ووٹ لیکر آئے ہیں پنجگور میں جہاں حالات بہتر ہیں وہاں امیدوار 10,000 ووٹ لیکر آتا ہے ۔بلیدہ تمپ میں سیکورٹی اہلکار گاڑی میں بیٹھ کر ووٹ ایسے گن رہے تھے جیسے نوٹ گنے جارہے ہوں۔ کوئٹہ میں این اے 265 اورپی بی 31 پر نتائج کو تبدیل کیا گیا ہے ۔

این اے 272گوادر اور بیلہ پر الیکشن کے اگلے دن تک ہماری لیڈ تھی تاہم انتخابی نتائج آنے کے بعد پارٹی پوزیشن تیسرے نمبر پر آئی جو انتخابات کی غیر جانبداری اور شفافیت پر سوالیہ نشان ہے ۔ 365 پولنگ کا نتیجہ چھوٹے سے کاغذ ت پر لکھ کر ہمارے نمائندوں کے ہاتھ میں تھمایا گیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام نے پارٹی کو جو مینڈیٹ دیا تھا اس کا احترام نہیں کیا گیا ۔ان کا کہنا تھاوہ بلوچستان کے ان تمام لوگوں کے مشکور ہیں جنہوں نے پارٹی کے امیدواروں کو بھاری اکثریت میں ووٹ دیاپارٹی عوام کی امیدیں اور توقعات پر پورا اترے گی ۔ اور جس جدوجہد کی پاداش میں ہمارے ساتھی شہید ہوئے اس جدوجہد پر قائم رہتے ہوئے بلوچستان کے جملہ مسائل کے حل کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ 

ان کا کہنا تھاکہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کیا جائے جو اس بات کا تعین کرے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ان کوتاہیوں اور بدانتظامی کے ذمہ دار کون ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جیت کر آئے ہیں ہمیں جیتنے کے باوجود تحفظات ہیں تو دیگر جماعتوں کا کیا حال ہوگا ۔

دریں اثناء بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سر براہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کمپیوٹرائزڈ دھاندلی ہوئی ہیں پولنگ دیر سے شروع ہونے سے ٹرن آؤٹ کم رہی اور رزلٹ میں تاخیر ہونا یہ الیکشن کمیشن کی نا اہلی یا ملی بھگت ہے الیکشن سے قبل ہم نے جو خدشات کا اظہار کیا تھا وہ درست ثابت ہوئے بی این پی کی مینڈیٹ کو چرالیا گیا اور اب بھی روزبروز اسے کم کی جارہی ہیں ۔

بعض سیاسی جماعتوں کے پاس امیدوار تک نہیں تھے آج وہ بھی دھاندلی کا واویلا کررہے ہیں حکومت ہماری ترجیح نہیں بلوچستان کے مسائل ہمارے لیئے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اپنی پارٹی کی سینٹرل کمیٹی میں مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ حکومت میں شامل ہوں یا اپوزیشن میں بیٹھے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز قلات کی مختصر دورے کے موقع پر میڈیا کے نمائیندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر بی این پی کے رہنماء سردارزادہ ارباب نعیم دہوار ،میر سہراب خان مینگل ،ملک عبدالناصر دہوار اور دیگر رہنماء بھی موجود تھے ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سر براہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کمپیوٹرائزڈ دھاندلی کی گئی ہے ہم نے الیکشن سے قبل جن خدشات کا اظہار کیا تھااور جو منصوبہ بندی کی تھی نتائج کے بعدوہ خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں ۔

الیکشن سے قبل بی این پی کے اجتماعات کو دیکر ہم نے اندازہ لگایاتھا کہ بی این پی صوبائی کے 13 اور قومی کے سات نشستیں آسانی سے جیت لے گی مگر ہماری مینڈیٹ کو چرالیا گیا اور اب ہر روز ہماری نشستیں کم ہوتی جارہی ہیں جو کہ صوبائی کے تیرا ہ سے سات اور قومی کے سات سے تین ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض جماعتیں ایسی ہیں جو الیکشن نتائج کے بعد دھاندلی کا واویلا کررہے ہیں جن کو امیدوار بھی نہیں ملتے تھے ،انہوں نے کہا کہ جولوگ مادر پدر آزاد ہیں وہ اپنا کوئی بھی فیصلہ کرسکتے ہیں صوبے میں حکومت بنانے کے حوالے سے ہم اپنی پارٹی کے اداروں سنٹرل کمیٹی اور صوبائی کابینہ میں مشاورت کریں گے کہ ہم حکومت بنائیں یا اپوزیشن میں میں چلے جائیں ،پارٹی اداروں کے پابند ہوتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ہماری ترجیح نہیں بلوچستان کے مسائل ہمارے لیئے اہمیت رکھتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اے پی سی میں جولوگ گئے تھے وہ خود مطمئن نہیں ہے تو ہم ان کے فیصلوں پر کیسے مطمئن ہو سکتے ہیں ۔