کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) نے صوبے میں حکومت سازی کیلئے بلوچستان عوامی پارٹی(بی اے پی ) کی حمایت کا اعلان کردیا۔
وزارت اعلیٰ کیلئے بی اے پی کے مضبوط امیدوار جام کمال خان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں حکومت سازی کیلئے ارکان اسمبلی کی مطلوبہ تعداد کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستحکم اور متوازن حکومت بنانے کیلئے بی این پی مینگل اور تحریک انصاف کیساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔
بی این پی عوامی کے مرکزی نائب صدر سید احسان شاہ نے پیر کو کوئٹہ کے سرینا ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہماری جماعت نے انتخابات کے بعد بیٹھ کر فیصلہ کیا کہ ہم بلوچستان عوامی پارٹی کو حکومت بنانے میں بھر پور تعاون کریں گے۔ جام کمال قائد ایوان کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں بی این پی عوامی ان کی حمایت کرتی ہے۔
ہم کوشش کرینگے کہ بلوچستان کے عوا م کو ایک مضبوط ،مؤثر ارو ایک ایسی حکومت بنائے جس پر عوام کو اعتماد ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سارے حلقوں پر امیدواروں کی انفرادی شکایات کے باوجود انتخابات کافی حد تک اطمینان بخش تھے۔
بی اے پی کے سربراہ جام کمال خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ بی این پی عوامی گہرا سیاسی اثر رکھتی ہے۔ ماضی کی حکومتوں میں ان کا ایک مضبوط کردار رہا ہے۔انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی قوت میں کمی اور اضافہ ہوتا ہے۔
نیشنل پارٹی ایک بہت بڑی جماعت تھی جس میں حکومت سازی میں ڈھائی سال کا پہلا مرحلہ گزارا مگر ان انتخابات میں ان کی نمائندگی نظر نہیں آتی۔ہم پارلیمان میں نمائندگی کے بغیر بھی کسی جماعت کو کمزور نہیں کہہ سکتے۔بلوچستان عوامی پارٹی کی کوشش ہے کہ بلوچستان کے ہر طبقے کو ساتھ لیکر چلیں اور سیاسی عمل کو آگے بڑھائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک دوسرے کے خلاف انتخاب بھی لڑا مگر حکومت سازی کے مرحلے پر ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بی این پی نے غیر مشروط طور پر ہماری حمایت کی ہے اور یقین دلایا ہے کہ آگے چل کر بلوچستان کے سیاسی اور حکومتی حوالے سے فیصلوں میں ہمیں ہر تعاون دینگے۔
ہم مثبت پالیسیاں اپنائیں گے۔حکومت سازی کیلئے مطلوبہ تعداد حاصل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک اور آزاد امیدوار جلد بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل ہوگا جس کے بعد ہمیں پارٹی کے ارکان کی تعداد انیس تعداد ہوجائے گی۔
اے این پی ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور بی این پی عوامی کے مجموعی طور پر سات ارکان نے بھی حمایت کردی ہے جس کے بعد ہمیں 50جنرل نشستوں میں سے 26 ارکان کی سادہ اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پی ٹی آئی، بی این پی مینگل کے ساتھ بھی بات چیت کررہے ہیں ہماری کوشش کررہے ہیں کہ انہیں بھی حکومت سازی میں شامل کریں۔
نئے وزیراعلیٰ کے نام کے اعلان سے متعلق سوال پر جام کمال خان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر اتفاق رائے بن رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کے امیدوار کا اعلان ایک دو دن میں کرلیں گے۔
بی این پی اور پی ٹی آئی سمیت کسی بھی جماعت نے اب تک وزارت اعلیٰ کیلئے امیدوار کا اعلان نہیں کیا کیونکہ سب جماعتیں مشاورتی عمل میں مصروف ہیں۔ہماری پارٹی بڑی ہے ،ہم بھی مشاورتی عمل میں مصروف ہیں۔ ہم ماضی کی روایات کو توڑ کر چل کر آرہے ہیں اور اتفاق رائے بنارہے ہیں۔
رائے سب کی اپنی پنی ہوسکتی ہے مگر جو اتفاق رائے سے فیصلہ ہوگا وہ سب کا ہوگا۔جام کمال خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ہمیں اسلام آباد طلب نہیں کیا بلکہ ہم خود اپنے ارکان قومی اسمبلی کیساتھ اسلام آباد جارہے ہیں۔ سینٹ کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے ساتھ ہمار مثبت کردار رہا۔
جب عمران خان کوئٹہ آئے تو تب بھی انہوں نے ہم سے ملاقات کی۔ بی اے پی نے پی ٹی آئی کی غیر مشروط طور پر حمایت کی ہے اوراس کا باقاعدہ اسلام آباد جاکر اعلان کرینگے۔ بلوچستان کے فیصلے بنی گلہ میں کرنے سے متعلق سوال پر بی اے پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے تمام فیصلے بلوچستان میں ہورہے ہیں اور بلوچستان عوامی پارٹی سارے فیصلے خود کررہی ہے۔
ہم کسی کے انتظار میں نہیں ہے، بی این پی ، ایچ ڈی پی ، اے این پی ، بی این پی عوامی یہاں تک پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کا خود فیصلہ کررہے ہیں۔ ہمیں کہیں سے یہ ہدایت نہیں آرہی کہ کس کے ساتھ بیٹھیں اورکسی کے ساتھ نہ بیٹھیں۔ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے ہم پارٹی کی حیثیت سے اپنا تعاون خود دوسری جماعت کو دینے جارہے ہیں۔ ہمیں کوئی بول نہیں رہا۔ ہم غیر مشروط طور پر اس عمل کا حصہ بن ر ہے ہیں۔
ہمارے اس عمل اور ماضی کی مثالوں میں بڑا فرق ہے۔تمام جماعتوں کی حکومت میں شمولیت سے متعلق سوال پر جام کمال خان کا کہنا تھا کہ کسی بھی نظام کے اندر ایک مضبوط اپوزیشن بہت ضروری ہے۔ اگر سب ہی کسی حکومت کا حصہ بن جائے تو وہ اپنی کارکردگی پر نظر نہیں رکھ سکے گی۔
ہم کوشش کررہے ہیں کہ حکومت سازی کیلئے ایک مستحکم تعداد کی حمایت حاصل کریں اور متوازن انداز میں حکومت چلائیں۔ اگر سب ہی حکومت کا حصہ بن جائے تو حکومت کی کارکردگی اور حیثیت پر سوال اٹھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت سازی کیلئے جاری نمبر گیم میں ہم نے اپنی تعداد پوری کرلی ہے۔ تعداد کبھی بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔تعداد کو برقرار رکھنا ہی بڑی بات ہوتی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم ایک مستحکم تعداد حاصل کرکے اچھی جمہوری روایات کو لیکر چلیں۔
نئے گورنر بلوچستان سے متعلق سوال پر بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ اور متوقع وزیراعلیٰ جام کمال خان کا کہنا تھا کہ گورنرکا فیصلہ وفاق میں نئی بننے والی حکومت کرے گی اور اپنے فیصلے کیلئے یقیناً وہ اتفاق رائے پیدا کرے گی۔ وفاقی حکومت اگرچہ اپنی صوابدید پر فیصلہ کرے گی مگر ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے حوالے سے فیصلوں میں بہت ساری چیزوں کو مد نظر رکھیں اور ایسے نام کا فیصلہ کریں جو سب کو قبول ہوں۔
اس موقع پر سید احسان اہ کا کہنا تھا کہ بی این پی عوامی نے حکومت میں شامل ہونے کیلئے کوئی شرائط نہیں رکھی۔ جمہوری روایات میں پہلے فیصلہ ہوتا ہے کہ کونسی کونسی جماعت حکومت میں ہوگی پھر کابینہ اور اس کے حجم کا فیصلہ ہوتا ہے۔ بی این پی عوامی نے غیر مشروط طور پر جام کمال کے قائد ایوان کیلئے حمایت کا اعلان کیا ہے، اگر قائد ایوان کیلئے نام تبدیل ہوتا ہے تو تب دوبارہ سے فیصلہ کرینگے۔
بی این پی عوامی نے صوبے میں حکومت سازی کیلئے بی اے پی کی حمایت کردی
![]()
وقتِ اشاعت : July 31 – 2018