|

وقتِ اشاعت :   July 31 – 2018

کوئٹہ: اربوں روپے کی بد عنوانی کیا لزام میں دو سالوں سے گرفتار سابق مشیر خزانہ بلوچستان خالد لانگو اور سابق صوبائی سیکریٹری خزانہ مشتاق احمد رئیسانی کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرلی گئیں۔ 

بلوچستان ہائی کورٹ نے دونوں کو پچاس پچاس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں جمع کی صورت میں رہائی کا حکم دیدیا ہے۔خالد لانگو اور مشتاق رئیسانی کی ماتحت عدالتوں ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے کئی بار ضمانت کی درخواستیں مسترد ہوچکی تھیں۔دو ہفتے قبل دونوں ملزمان کی جانب سے دوبارہ دائر کردہ ضمانت کی درخواستوں پر بلوچستان ہائی کورٹ نے ملزمان اور نیب کے وکلاء کی جانب سے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ 

پیر کو بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس ظہیر الدین کاکڑ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے خالد لانگو اور مشتاق رئیسانی کی ضمانت منظور کرلی اورانہیں پچاس پچاس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عیوض رہائی کا حکم دیا۔

دونوں ملزمان کو محکمہ بلدیات اور محکمہ خزانہ کے تقریباً چھ ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کے خورد برد کے الزام میں مئی دو ہزار سولہ میں گرفتار کیا گیا۔ مشتاق رئیسانی کے گھر پر چھاپے کے دوران 70 کروڑ روپے سے زائد کی نقدی اور سونا برآمد ہوا تھا۔ خالد لانگو کو 30 اکتوبر 2017ء کو ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی کوئٹہ میں واقع رہائشگاہ منتقل کرکے اسے سب جیل قرار دے دیا تھا۔ جبکہ مشتاق رئیسانی تقریباً گزشتہ ایک سال سے کوئٹہ کے سول ہسپتال کے جیل وارڈ میں مقید ہیں۔ 

ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ کے حکام کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ کا حکم نامہ اب تک جیل حکام کو موصول نہیں ہوا۔ دونوں ملزمان کی جانب سے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد عدالت عالیہ کی جانب سے حکم نامہ جاری ہوگا۔ 

حکم نامہ ملتے ہی مشتاق رئیسانی کو سول ہسپتال کے جیل وارڈ سے رہا کردیا جائیگا جبکہ خالد لانگو کی رہائشگاہ کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیکر وہاں سے جیل اور سیکورٹی کے عملے کو ہٹادیاجائیگا۔