|

وقتِ اشاعت :   August 1 – 2018

کوئٹہ:  بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ اتحادیوں سے بات چیت جاری ہے وزرات اعلی کیلئے کسی کے آگئے بھیک نہیں مانگیں گے۔میرے صوبائی یا قومی اسمبلی میں جانے سے متعلق فیصلہ پارٹی کریگی ،بی اے پی کو بلوچستان نیشنل پارٹی کا راستہ روکنے کیلئے بنایا گیا۔

کچھ لوگ مبارک باد دینے آئے تھے کچھ لینے ،مذاکرات اور بات چیت کیلئے ہمارے دروازے سب کیلئے کھلے ہیں۔ پی پی پی اور پی ٹی آئی نے بات چیت کی دعوت دی ہے۔ ہمارے 6 قومی اور 6 صوبائی اسمبلی کے حلقوں پر عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے والوں کو سامنے لانے کیلئے تحقیقاتی کمیشن قائم کیاجائے۔ 

جو بلوچستان کے غموں پر آنسو بہارہے ہیں بلوچستان کے جملہ مسائل کا حل انکی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ سی پیک کے حوالے سے ہمارے موقف میں تبدیلی نہیں آئی دھاندلی کے نتیجے میں آنے والے صوبے کے مسائل حل نہیں کرپائیں گے۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع ملک عبدالولی کاکڑ، آغا حسن بلوچ، نواب امان اللہ زہری، موسیٰ بلوچ، ملک نصیر شاہوانی،سمیت پارٹی کے نومنتخب صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین بھی موجود تھے۔ 

سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ پارٹی نے صوبے اور مرکز میں حکومت سازی سے متعلق رابطوں کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جن کی قیادت وہ خود کرینگے جبکہ ممبران نوابزادہ میر حاجی لشکری خان رئیسانی، ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی ، آغا حسن بلوچ، ساجد ترین ایڈووکیٹ، بابو رحیم مینگل، رؤف مینگل شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بی این پی کو صوبے میں حکومت سازی سے روکنے کیلئے ہمیشہ صف بندیاں ہوتی رہیں ہیں

2018ء کے انتخابات میں اس عمل کودوبارہ دوراجارہا ہے اس کے باوجود ہم اور ہمارے وہ اتحادی جماعتیں جنہوں نے انتخابات میں ہمارے ساتھ سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسمنٹ کیا تھا یاانتخابات سے قبل ہمارے ساتھ الائنس میں رہے ہیں کی کوشش ہے کہ صوبے میں اپنی حکومت قائم کریں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی اپنی روایات ہیں سیاسی جماعتوں کے کچھ لوگ ہمیں جیتنے پر مبارکباد دینے آئے تھے کچھ مبارکباد لینے مگر جہاں تک بلوچستان عوامی پارٹی کا تعلق جام کمال نے ملاقات میں ہمیں حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے ہم چاہئے صوبے میں اپنی حکومت بنائیں یا کسی کی دعوت پر حکومت میں شامل ہوں ہماری ترجیحات میں بلوچستان کے جملہ مسائل کا حل ہے ۔

لاپتہ افراد کی بازیابی ،12 جولائی 2016ء کو پارٹی کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کی قراردادوں پر عملدرآمد بلوچستان کے ساحل وسائل پر بلوچستان کے لوگوں کی حق ملکیت کا حصول سرفہرست ہیں ان مسائل کے حل حوالے سے کوئی بھی سیاسی جماعت بات چیت کیلئے تیار ہے وہ ایک قدم آگئے بڑھیں ہم چار قدم انکی طرف جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے جملہ مسائل کے حل میں ناکامی پر وزارتیں اور حکومت چھوڑنے میں دیر نہیں کرینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2018ء کے الیکشن میں بلوچستان کے عوام نے حب سے لیکر کوئٹہ، کوئٹہ سے جیونی ،جیونی سے لیکر دالبندین تک جہاں سے بی این پی کے امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے تھے ۔

ان تمام حلقوں کے لوگوں کا مشکور ہوں چاہئے ان کا تعلق کسی طبقہ فکر ،قوم، نسل، فرقہ، مذہب سے ہے انہوں نے بھر پور انداز میں پارٹی کے امیدواروں کو کامیاب کرانے میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ 25 جولائی کو صو بے کے عوام نے ایک مرتبہ پھر بلوچستان کے طول وعرض سے نکل کر1970ء کے انتخابات کی یاد تازہ کردی ہے اس دن لوگ نیشنل عوامی پارٹی کے امیدواروں کے حق میں نکلے تھے مگر افسوس کے حسب روایت عوام کے اس مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا گیاجو بی این پی کے امیدواروں کو دیا گیا تھا۔ 

بلوچستان کے اکثر علاقوں میں ہماری جیت کو ہار میں تبدیل کیا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک اور صوبے میں یہ پہلا الیکشن نہیں اس سے پہلے بھی انتخابات ہوتے رہے ہیں جن میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا ہے 25 جولائی 2018ء کو ہونے والا الیکشن اپنی نوعیت کا منفرد الیکشن تھا۔ 

پولنگ سے لیکر نتائج کے اجراء تک تاخیری حربے استعمال کئے گئے پولنگ کے عمل کو روکنے کیلئے مختلف حیلے بہانوں کا سہارا لیا گیا کسی پولنگ اسٹیشن پر عملہ کی عدم موجودگی کسی پر انتخابی سامان کی عدم فراہمی کا بہانا بنایا گیا کہیں سیکورٹی کے مسائل کو جواز بناکر پولنگ کا عمل دوپہر ڈیڑھ بجے کے بعد شروع کیا گیا ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے رول کے مطابق انتخابی عملہ رات دو بجے تک امیدواروں کی کامیابی کا اعلان کرنے کا پابند ہے۔

صوبے میں نتائج کو 24 سے 72 گھنٹے تک التواء کا شکار رکھنے پر حیرانگی ہوئی ہے کہ کمیونکیشن کے ذرائع ہونے کے باوجود تاخیر کیوں ہوئی جن ادوار میں کمیونکیشن کے ذرائع نہیں تھے اس زمانہ میں بھی صبح 8 بجے تک پولنگ کے نتائج کا اعلان ہوجاتاتھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2018 ء کے الیکشن میں نتائج کے اعلان کیلئے مختلف انداز اپنایا گیا تھا۔ پہلے پولنگ اسٹیشنز سے نتائج آر او کے دفترلاکر امیدوار یا انکے نمائندے کی موجودگی میں نتائج کو اکھٹاکرکے انکا اعلان کیا جاتا تھا۔ 

اس مرتبہ کسی کو خبر تک نہیں ہوئی کہ نتائج کس کے یہاںآرہے ہیں کون گنتی کررہا ہے اور کون نتائج مرتب۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود تین جگہوں سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے ان حلقوں میں ہمارے نمائندوں کو بیٹھنے کی اجازت نہیں تک دی گئی پولنگ کے دن امیدواروں کو پولنگ اسٹیشن جانے سے روکا گیا ان اقدامات سے انتخابات کے نتائج پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے این اے 272، 264،265،267،270،271 اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں پی بی 31 پی بی 46، پی بی 45،پی بی 47، پی بی 48 پی بی 37 پرتاخیری حربے استعمال کرکے پارٹی کے امیدواروں کی جیت کو ہار میں تبدیل کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ پنجگور کی قومی اسمبلی کی نشست پر پارٹی کے امیدوار کو ڈپٹی کمشنر کے آفس میں مبارک بادی دی گئی جب نتیجہ آیا تو جو پہلے نمبر تھا اس کوچوتھا نمبردیاگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی سیاسی جماعتیں یہ سمجھتے ہیں کہ انکے حلقوں میں زیادتی ہوئی ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ ان زیادتیوں کے ازالے کیلئے تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ الیکشن کمیشن سمیت آراوز ہو یا انکا عملہ جو بھی بے ضابطگیوں کا مرتکب پایا جائے ان کیخلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جاسکے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل ایک دن میں حل کرنے کیلئے ہمارے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے تاہم یہ بات یقین سے کہہ سکتے ہیں کے صوبے میں پھیلی کرپشن کی وباء کا خاتمہ کرینگے اور ہمارا یقین ہے کہ جس دن صوبے سے کرپشن کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوئے اس دن صوبے کی ترقی یقینی ہوگی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماء سید خورشید شاہ نے بات چیت کی دعوت دی ہے۔ جہانگیر ترین نے ہم سے دو مرتبہ رابطہ کیا ہے۔اسلام آباد جاکر مولانا فضل الرحمن ، اسفند یار ولی سے ملاقات کرینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مختلف حلقوں میں ایک لاکھ سے زائد ووٹ مسترد ہوئے ہیں یہ کوتاہی کس کی ہے۔