|

وقتِ اشاعت :   August 2 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل سے اسلام آباد کے بلوچستان ہاؤس میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء سابق وزراء اعظم یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، خورشید شاہ اور شیری رحمان نے ملاقات کی۔

اس موقع پر بلوچستان کی سیاسی صورتحال کے علاوہ وفاق میں پیپلز پارٹی اور بی این پی کے مستقبل کے لائحہ عمل پر گفتگو ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور مثبت رہی۔ اس کے علاوہ بی این پی کے رہنماؤں سے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکریٹری جنرل عبدالغفور حیدری اورصوبائی امیر مولانا فیض محمد کی سربراہی میں وفد کی بھی ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں دونوں جماعتوں نے ملکر حکومت سازی کیلئے مربوط کوششیں کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ 

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماء ان سے رابطہ کررہے ہیں۔ ہم نے ملاقاتوں میں اپنے تحفظات سے انہیں آگاہ کیا ہے۔ انتخابات 2018ء کے نتائج پر ایک کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کو تحفظات ہیں۔ انتخابات کے نتائج عوامی مینڈیٹ کے بالکل برعکس تھے۔آر او کی دھاندلی اب ایک کمپیوٹرائزڈ شکل اختیار کر گئی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو جمہوریت کی کبھی جھلک بھی نہیں دکھائی گئی۔ ہم نے ہمیشہ جمہوریت کو پروان چڑھانے کی کوشش کی۔اسلام آباد آنے کا مقصد بلوچستان سے ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کرنا ہے۔ہمیں سی پیک پر تحفظات ہیں جس پر ہم نے اے پی سی بھی بلائی تھی۔ اب مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے۔ 

سی پیک کے ثمرات بلوچستان کے عوام کو بھی ملنے چاہیے۔ بلوچستان کے عوام کو ان کے حقوق اور وسائل پر حق ملکیت ملنا چاہیے۔ افغان مہاجرین کی افغانستان میں با عزت واپسی چاہتے ہیں۔سردار اختر مینگل نے کہا کہ ہزاروں افراد لاپتہ تاحال گھروں کو واپس نہیں آئے۔ ہمیں میڈنٹ وزارتوں اورمراعات کیلئے نہیں ملا بلکہ عوامی مسائل کے حل کیلئے ملا ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی بلوچستان کے حقوق کیلئے مرکزی کردار ادا کریں کیونکہ ہمیں دلاسے دیئے جاتے ہیں لیکن عملی اقدامات نہیں کئے جاتے۔ جو مسائل کے حل کی گارنٹی دے گا اْس کے ساتھ چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی این پی نے صوبے اور مرکز میں حکومت سازی سے متعلق کمیٹیاں بنائی ہیں۔ 

مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے ہیں۔ جہانگیر ترین سے بات ہوئی انہوں نے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ہمارے درازے کسی کیلئے بند نہیں ہیں۔پیپلز پارٹی کے رہنماء سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اس موقع پر کہاکہ پیپلز پارٹی اجلاس میں سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے لیے کمیٹی قائم ہوئی۔ کمیٹی مولانا فضل الرحمان ، ن لیگ اور حاصل بزنجو سے ملاقاتیں کر چکی ہے۔ 

ہم چاہتے ہیں چاہتیہیں کہ اپوزیشن کی مشترکہ آوازایوان میں بلندہو۔ ہمارامؤقف ہیکہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی،ان کوقبول نہیں کریں گے۔ ہم پارلیمنٹ میں جاکر احتجاج رکارڈکرائیں گے۔ 

ملاقات میں بی این پی کے سربراہ ساتھ دینیاور مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کا کہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ ملکر مضبوط اپوزیشن بنائیں۔انہوں نے کہا کہ مینگل سے ان کے تحفظات پار بات ہوئی ہے۔انہوں نے اپنے تحفظات تحریری طور پر دیئے ہیں۔ 

اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہمارامؤقف ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی،ان کوقبول نہیں کریں گے،چاہتے ہیں کہ اپوزیشن کی مشترکہ آوازایوان میں بلندہو۔ 

سرداراختر مینگل سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سرداراختر مینگل نے اسمبلی میں جانے کا فیصلہ کیا ہے، ہم پارلیمنٹ میں جاکر احتجاج رکارڈکرائیں گے، پیپلز پارٹی اجلاس میں سیاسی جماعتوں سے بات چیت کیلئے کمیٹی قائم ہوئی،کمیٹی مولانا فضل الرحمان ، ن لیگ اور حاصل بزنجو سے ملاقاتیں کر چکی ہے۔

سرداراخترمینگل سے ان کے تحفظات پربات ہوئی ہے،سرداراخترمینگل کے تحفظات تحریری طورپرموصول ہوگئے ہیں،سرداراخترمینگل کیساتھ مل کرمضبوط اپوزیشن بنائیں گے،سردار اختر مینگل نے بلوچستان کے حوالے سے تحفظات سے آگاہ کیا۔