کوئٹہ: پاکستان میں انتخابی عمل کی نگرانی کرنیوالے غیر سرکاری ادارے فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک (فافن)نے 25جولائی کے عام انتخابات میں مسترد شدہ ووٹوں سے متعلق رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد میں گزشتہ انتخابات کی نسبت چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔
صوبے کے6قومی اور 16صوبائی حلقوں پرکامیاب امیدواروں کی برتری مسترد شدہ ووٹوں سے کم رہی ۔بلوچستان اور ملک کے مختلف حصوں میں انتخابات کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے الزامات لگائے گئے کہ ان کے حق میں ڈالے گئے درست ووٹوں کوبھی مسترد کرکے ہرایا گیا۔
گزشتہ روز فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی جس میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر قومی و صوبائی اسمبلیوں کے248 حلقوں میں جیت کا مارجن 5 فیصد سے کم تھا۔ماہرین قانون کے مطابق جیت کا مارجن پول ووٹوں سے 5 فیصد سے کم ہونے پر دوبارہ گنتی امیدوار کا حق ہے مگر الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسران نے صرف 21 فیصد امیدواروں کو دوبارہ گنتی کا قانونی حق دیااور79فیصد امیدواروں کو دوبارہ گنتی کا قانونی حق نہ مل سکا۔
قومی اسمبلی کے 79 میں سے 21 حلقوں میں جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے 169 میں سے صرف 33 حلقوں میں دوبارہ گنتی کا حق دیا گیا۔ پنجاب میں 137، خیبرپختونخوا میں 47 ، سندھ میں 42 حلقوں میں جیت کا مارجن 5 فیصد سے کم تھا۔
عام انتخابات کے دوران بلوچستان کے 22 حلقوں میں جیت کا مارجن پول ووٹوں سے 5 فیصد سے کم تھا۔خیال رہے ۔فافن کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے 169 حلقوں میں مسترد ووٹ جیت کے مارجن سے زیادہ نکلے۔62 حلقوں میں پی ٹی آئی امیدواروں کو فائدہ ہوا۔
قومی اسمبلی کے 49 حلقوں میں مسترد ووٹ جیت کے مارجن سے زیادہ ہیں، صوبائی اسمبلیوں کے 120 حلقوں میں بھی صورتحال ایسی ہی ہے جہاں مسترد شدہ ووٹ جیت کے مارجن سے زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان سے قومی اسمبلی کے 6حلقوں پر جیتنے والے امیدواروں کی جیت کا مارجن مسترد شدہ ووٹوں سے کم تھا۔ ان حلقوں میں تین پر بلوچستان عوامی پارٹی ، ایک پر جمہوری وطن پارٹی ،ایک پر متحدہ مجلس عمل اور ایک پر آزاد امیدوار اسلم بھوتانی کامیاب ہوا۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ بلوچستان اسمبلی کے ایسے 16حلقوں پر جہاں جیت کار مارجن مسترد شدہ ووٹوں سے کم تھا ان میں 6پر بلوچستان عوامی پارٹی، 3تحریک انصاف،3متحدہ مجلس عمل ، 2پر آزاد اور ایک ایک نشست پر پشتونخواملی عوامی پارٹی اور مسلم لیگ ن کے امیدوار کامیاب ہوئے۔
رپورٹ میں بتایاگیا کہ عام انتخابات 2018 میں مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد ایک لاکھ8ہزار558ہے جو 2013ء کے انتخابات سے40فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ انتخابات میں77ہزار180ووٹ مسترد کئے گئے تھے۔
مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد میں اضافے کی یہ شرح ملک کے باقی تمام صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ خیبر پشتونخوا میں30.6فیصد، سندھ میں7اور پنجاب میں6فیصد اضافہ ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ لورالائی، موسیٰ خیل، زیارت ،دکی اور ہرنائی پر مشتمل قومی اسمبلی کے حلقے این اے258 پر بی اے پی کے امیدوار نے ایم ایم اے کے مولوی امیر زمان کو4481ووٹوں کی برتری سے شکست دی جبکہ اس حلقے پر استعمال کئے گئے6773ووٹ مسترد کئے گئے۔
اسی طرح این اے259ڈیرہ بگٹی کم کوہلو کم بارکھان کم سبی کم لہڑی پر کامیاب امیدوار شاہ زین بگٹی کی کامیابی کا مارجن صرف1574ووٹ تھا اور یہاں 11508ووٹ مسترد کئے گئے ۔ این اے260نصیرآباد کم کچھی کم جھل مگسی پر بی اے پی کے خالد ھسین مگسی نے یار محمد رند کو13142ووٹوں سے شکست دی جبکہ اس حلقے پر صوبے میں سب سے زیادہ13ہزار597ووٹ مسترد ہوئے۔
این اے267مستونگ کم شہید سکندرآباد کم قلات پر ایم ایم اے کے سید محمود شاہ 26ہزار645ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ ان کو بی این پی کے منظور احمد بلوچ پر صرف907ووٹوں کی برتری حاصل تھی مگر اس حلقے پرساڑھے پانچ ہزار سے زائد ووٹ مسترد قرار پائے۔
اسی طرح این اے270پنجگور کم واشک کم آواران کی نشست پر بی اے پی کے کامیاب امیدوار احسان اللہ ریکی کا بی این پی عوامی کے محمد حنیف بلوچ سے صرف2528زیادہ ووٹ لیکر کامیاب ہوئے مگر اس حلقے پر6152ووٹ مسترد کئے گئے۔
این اے272لسبیلہ کم گوادر کی نشست پر آزاد امیدوار محمد اسلم بھوتانی نے بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ محمد اسلم بھوتانی کو 5529ووٹوں کی برتری سے شکست دی ۔اس حلقے پر ریکارڈ10ہزار493ووٹ مسترد ہوئے۔صوبائی حلقوں سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا کہ بلوچستان کے دو حلقوں پر کامیاب امیدواروں کی کامیابی کامارجن 50سے بھی کم تھا مگر ان حلقوں پر مجموعی طور پر ساڑھے 5ہزار سے زائد ووٹ مسترد کئے گئے۔
پی بی37قلات پر بی اے پی کے میر ضیاء اللہ لانگو صرف22ووٹ کی برتری سے کامیاب قرار پائے مگر ان کے حلقے میں مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد2816تھی۔ اسی طرح پی بی38خضدار پر نواب ثناء اللہ نے ایم ایم اے کے وڈیرہ عبدالخالق کوصرف34ووٹوں سے شکست دی ۔
اس حلقے میں ڈالے گئے2850ووٹ مستردقرار پائے۔ فافن کی رپورٹ میں پی بی1 کا نتیجہ غلط بتایا گیا ہے جس میں ایم ایم اے کے حاجی محمد حسن کو کامیاب قرار دیا گیا جبکہ اس نشست پر بعد میں پی ٹی آئی کے سردار بابر خان کو صرف139ووٹ کی برتری سے کامیاب قرار دیا گیا۔
اسی طرح پی بی8بارکھان پر آزاد امیدوار سردار عبدالرحمان کھیتران کا جیت کا مارجن صرف154ووٹ ہے جبکہ اس حلقے میں3ہزار9ووٹ مسترد کئے گئے۔رپورٹ کے مطابق پی بی9کوہلو پر بی اے پی کے امیدوار نواب جنگیز مری کو پی ٹی آئی کے نصیب اللہ مری سے718ووٹوں سے شکست ہوئی۔
اس حلقے پر1996ووٹ مسترد ہوئے۔ کوئٹہ کے حلقہ پی بی25پر ایم ایم اے ملک سکندر ایڈووکیٹ 920ووٹوں کی برتری سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے ۔اس حلقے پربھی جیت کے مارجن سے مسترد شدہ ووٹ زیادہ یعنی1083تھے۔
صوبائی حلقوں میں سب سے زیادہ ووٹ جعفرآباد کے حلقہ پی بی13پر 3ہزار443ووٹ مسترد قرار پائے اس حلقے پر سابق وزیراعظم ظفر اللہ جمالی کے بیٹے عمر خان جمالی کی اپنی خاندان کی خاتون امیدوار راحت فائق جمالی سے کامیابی کامارجن صرف 1077ووٹ تھا۔پی بی44آواران کم پنجگور پر سابق وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجونے نیشنل پارٹی کے خیر جان بلوچ کو2093ووٹو ں سے شکست دی۔
اس حلقے پر3063ووٹ مسترد کئے گئے۔ صوبائی اسمبلی کے جن حلقوں پر کامیابی کا مارجن مسترد شدہ ووٹوں سے کم تھا ان میں پی بی4لورالائی، پی بی6زیارت کم ہرنائی، پی بی1نصیرآباد، پی بی12نصیرآباد، پی بی17کچھی ، پی بی31کوئٹہ، پی بی36، پی بی41واشک شامل ہے ۔
الیکشن 2018 بلوچستان میں مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ، فافن
![]()
وقتِ اشاعت : August 5 – 2018