|

وقتِ اشاعت :   August 9 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے مسلم باغ میں خاتون ڈاکٹر نے زچگی کے دوران نومولود بچے کا سر جسم سے الگ کردیا۔بچے کا سر خاتون ڈاکٹر کے ہاتھ میں آگیا اور باقی جسم ماں کے پیٹ میں رہ گیا جسے بعد ازاں کوئٹہ میں آپریشن کے ذریعے نکالا گیا۔

سول ہسپتال کوئٹہ کے ڈاکٹرزنے متاثرہ بچے کے والد کو میڈیکل رپورٹ دینے سے انکار کردیا۔والد بچے کا سر اور دھڑ لیکر احتجاج کیلئے پریس کلب پہنچ گیا۔بچے کے والد عبدالناصر اور ورثاء نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ متعلقہ ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ قلعہ سیف اللہ کے علاقے مسلم باغ کے رہائشی160عبدالناصر نے بتایا کہ میری زوجہ حاملہ تھی۔

گزشتہ روز علی الصبح 4 بجے میں اپنی زوجہ کو ڈیلیوی کیلئے مسلم باغ میں واقع ڈاکٹر عالیہ ناز تارن کے کے نجی کلینک لے گیا جہاں انہوں نے دس ہزار روپے فیس مانگی اور بتایا کہ نارمل ڈیلیوری ہوگی اور اس کیس کو ہینڈل کرلیں گی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پیسوں کی لالچ میں مذکورہ خاتون ڈاکٹر نیبے رحمانہ 160اور اناڑی طریقے سے زور آزمائی کی جس کی وجہ سے دنیا میں آنے سے قبل ہی بچے کا سر گردن سے کھینچ کھینچ کر جسم سے الگ کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ بچے کا سر ڈاکٹر عالیہ ناز کے ہاتھ میں اورباقی جسم مریضہ کے پیٹ میں رہ گیا۔ ڈاکٹر کے اس بے رحمانہ کاروائی کے بعد ہمیں مریضہ کو سول ہسپتال لے جانے کو کہا اور ہم اسے وہاں فورا کوئٹہ سول ہسپتال لے آئے جہاں مریضہ کا آپریشن کرکے بچہ بغیر سر مردہ حالت میں ماں کے بطن سے نکالا گیا ۔

انہوں نے بتایا کہ بچے کا سر اور دھڑ سول ہسپتال کوئٹہ کے مردہ خانہ لے جایا گیا مگر وہاں سے ہمیں کوئی میڈیکل سرٹیفکیٹ نہیں دیا جارہا۔قلعہ سیف اللہ کے مقامی صحافیوں کے مطابق مذکورہ خاتون ڈاکٹر قلعہ سیف اللہ میں سرکاری ڈیوٹی بھی رکھتی ہیں اور وہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے عہدے پر کام کررہی ہیں ۔


تاہم پولیو اجلاسوں میں شرکت کے علاوہ کبھی ڈیوٹی کرتے نہیں دیکھا گیا مگر مسلم باغ میں اپنا نجی کلینک باقاعدگی سے چلاتی ہے۔ مذکورہ لیڈی ڈاکٹر ہر جمعہ کو قلعہ سیف اللہ اور باقی چھ دن مسلم باغ میں نجی کلینک میں بیٹھتی ہیں۔

بچے کے والد نے الزام لگایا کہ مذکورہ خاتون ڈاکٹر نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے سول ہسپتال کے ڈاکٹروں پر دباؤ ڈالا جس کی وجہ سے اب تک سول ہسپتال سے کوئی ڈاکٹر اس واقعہ کا میڈکل سرٹیفیکیٹ دے رہا اور نہ ہی کوئی داد راسی کی جا رہی ہے۔

عبدالناصر نے چیف جسٹس پاکستان ،گورنر بلوچستان ،نگراں وزیر اعلیٰ،نگراں وزیر صحت اور محکمہ صحت کے اعلیٰ آفیسران سے مطالبہ کیا کہ بچے کے اس بے رحمانہ قتل پر ڈاکٹر عالیہ ناز تارن کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان علاؤ الدین معاملے نے اس خبر کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے معاملے کا اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرانے کا حکم دیا ہے۔160

نگراں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر فیض کاکڑ نے رابطہ کرنے پر ڈاکٹر فیض کاکڑ نے کہا کہ وہ معاملے کی تحقیقات کیلئے خود سول ہسپتال کوئٹہ جارہے ہیں۔ واقعہ کی تہہ تک پہنچیں گے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔