|

وقتِ اشاعت :   August 14 – 2018

کوئٹہ: کوئٹہ کے نواحی علاقے سنجیدی میں کوئلہ کان منہدم ہونے کے باعث جاں بحق ہونیوالوں کانکنوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔جاں بحق ہونیوالوں میں تین ریسکیواہلکار بھی شامل ہیں۔

دو ریسکیو اہلکاروں سمیت سات کانکن تاحال ہزاروں فٹ گہرائی میں پھنسے ہوئے ہیں جن کے زندہ ہونے کی امیدیں بھی ختم ہوگئی ہیں اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو میں شریک اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کان کے نچلے حصے میں میتھین گیس کی بھاری مقدار جمع ہونے اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کاسا منا ہے۔جاں بحق کانکنوں کا تعلق خیبر پشتونخوا کے علاقے دیر اورسوات سے ہے۔ 

کوئٹہ سے تقریباً تیس کلومیٹر دور سنجیدی میں واقع الگیلانی کول مائنز کے کوئلہ کان نمبر سی ون میں اتوار کی شام تقریباً بجے حادثہ پیش آیا تھا۔ کان کا ایک حصہ اچانک منہدم سے 13کانکن ساڑھے تین ہزار فٹ کی گہرائی میں پھنس گئے۔ کان میں تقریباً ڈھائی ہزار فٹ کی گہرائی میں دو سو فٹ کے قریب تودا گرا تھا جس سے نیچے اترنے ،ہوا اور آکسیجن کا راستہ بند ہوگیا تھا۔

ساتھیوں کو زندہ نکالنے کیلئے قریب کے کوئلہ کانوں میں کام کرنیوالے کانکنوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو آپریشن شروع کیا تاہم انہیں ضروری مشنری اور ریسکیو کا تربیت یافتہ عملہ نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اتوار کی رات کو بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بھی مشکل پیش آئی۔ بعد میں کوئٹہ اور قریبی علاقوں سے محکمہ معدنیات کی ریسکیو ٹیمیں، ایف سی، لیویز اور ضلعی انتظامیہ کے افسران اور اہلکار ریسکیو ٹیموں کے ہمراہ پہنچے۔ 

انہوں نے مقامی کوئلہ کانکنوں پر مشتمل ریسکیو ٹیموں کے ساتھ ملکر ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔ صبح تک جاری رہنے والی ریسکیو آپریشن کے دوران پہلے کان میں جانے کا راستہ بنایا گیا۔اس طرح پیر کی علی الصبح تک آٹھ کانکنوں کی لاشیں پیدل کان سے نکال لی گئیں۔ 

پیر کی دوپہر کو اس وقت ریسکیو آپریشن میں تعطل پیدا ہوا جب مدد کیلئے اترنیو الے ریسکیو اہلکار میتھین گیس کی وجہ سے بے ہوش ہونا شروع ہوگئے۔ دم گھٹنے کے باعث پانچ کانکن اندر پھنس گئے جبکہ تقریباً پندرہ کے قریب کانکن بے ہوش ہوگئے جنہیں فوری طور پر کان سے نکال کر طبی امداد دی گئی۔

بعد میں امداد کیلئے اترنے والے پانچ کانکنوں کو نکالنے زندہ نکالنے کی کوششیں بھی کارگر ثابت نہ ہوئیں اور ان میں سے اب تک تین کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں اور باقی دو اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ اتوار کی شام کو ملبے تلے دبنے والے پانچ کانکنوں کی لاشیں بھی تیس گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود تاحال نہیں نکالی جاسکی ہیں۔ 

یعنی مجموعی طور پر دو ریسکیو اہلکاروں سمیت سات کانکن اب تک اندر پھنسے ہوئے ہیں جبکہ تین ریسکیو اہلکاروں سمیت گیارہ کانکنوں کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ طاہر ظفر عباسی کا کہنا ہے کہ تیس گھنٹے سے زائد پھنسے ہوئے کانکنوں کے زندہ ہونے کی امید ختم ہوگئی ہے ان کی لاشیں کان کے نچلے حصے میں موجود ہیں جہاں میتھین اور کاربن مونو آکسائیڈ گیس کی بھاری مقدار جمع ہوگئی ہے۔

ریسکیو آپریشن میں شریک اہلکاروں کو سانس لینے میں مشکل پیش آرہی ہے اور ان کی اپنی جانیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ ہوا اور آکسیجن کا راستہ نہ ہونے کی وجہ کان میں آکسیجن سیلنڈر لیکر اترنے کا بھی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہورہا۔

انہوں نے کہا کہ مزید جانی نقصان ہونے سے بچانے کیلئے فیصلہ کیا گیا کہ پہلے کان کے اندر موجود ملبے کو ہٹایا جائیگا تاکہ کان کے نچلے حصے میں ہوا اور آکسیجن کا گزرہو۔ ایک ریسکیو اہلکار نے بتایا کہ ملبہ ہٹانے میں دو دن تک لگ سکتے ہیں اس لئے ہم انتظار نہیں کرسکتے۔ 

موقع پر موجود ایک کوئلہ کان کے منشی ممتاز غنی نے ٹیلی فون پر بتایا کہ ریسکیو آپریشن میں کان کے نچلے حصوں میں گیس جمع ہونے کے علاوہ ایک بڑی مشکل بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی ہے جو روزانہ رات آٹھ سے صبح چار بجے تک ہوتی ہے۔ 

گزشتہ شب رات بارہ بجے کے بعد تو بجلی بحال کردی گئی تھی مگر آج ایک بار رات سے بجلی بند ہے جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں شدید مشکل پیش آرہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت مقامی کانکنوں پر مشتمل چالیس سے زائد ریسکیو اہلکار و ں کی ٹیم تیار ہے جو کان میں اترنے کیلئے تیار ہے۔ ہم کان میں ہوا اور آکسیجن کا راستہ بنانے کا انتظام کرنے کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں۔

یاد رہے کہ بلوچستان کے پانچ اضلاع کوئٹہ، لورالائی، سبی، بولان اور ہرنائی میں کوئلے کے کروڑوں ٹن کے ذخائر ہیں جن کو نکالنے کے لئے ڈھائی ہزار سے زائد کانیں بنائی گئی ہیں جہاں سے 40 ہزار سے زائد مزدور سالانہ 90 لاکھ ٹن سے زیادہ کوئلہ نکالتے ہیں۔ان کانوں میں حادثات معمول بن چکے ہیں۔ 

صرف رواں سال 40سے زائد کانکن مختلف حادثات جاں بحق ہوچکے ہیں۔ 4جون کو سنجیدی ہی میں ایک کوئلہ کان میں گیس بھر جانے سے ہونیوالے دھماکے سے کان کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا اس حادثے میں چار کانکن جاں بحق ہوگئے تھے۔

5مئی کو بھی کوئٹہ کے نواح میں مارواڑ اور پی ایم ڈی سی کے قریب ایک ہی دن کوئلہ کانوں میں حادثات کے باعث 23 کانکن جاں بحق ہوگئے تھے۔ اپریل میں ضلع سکندر اباد سوراب کے علاقے میں ایک کان میں دھماکے سے چھ کانکن جبکہ گزشتہ سال ستمبر میں ایک ہفتے کے دوران پیش آنے والے تین مختلف حادثات میں آٹھ کان کن ہلاک ہوگئے تھے۔

2011ء4 میں ایک کان کے اندر ہونے والے گیس کے دھماکے میں 50 مزدور ہلاک ہو گئے تھے جبکہ تقریباً ہر ماہ ہی کان سے کو ئلہ نکالی والی ٹرالی کے گرنے اور مٹی کے تودے گرنے کے درجنوں واقعات میں بھی اکثر وبیشتر کانکن ہلاک یا زخمی ہوتے رہتے ہیں۔

حادثات کی بڑی وجہ کوئلہ مالکان اور ٹھیکیدارو ں کی جانب سے کانکنوں کی جانوں کی حفاظت کیلئے موثر اقدامات کا فقدان ہیں۔ مئی میں انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے بھی بلوچستان میں کانکنوں کی حالت زار کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے ان کانکنوں کی حفاظت کی خاطر کیے گئے اقدامات ناکافی ہیں۔