کوئٹہ: کوئٹہ کے نواحی علاقے سنجیدی کے کوئلہ کان میں اتوار کو پیش آنیوالے حادثے جاں بحق کانکنوں کی تعداد اٹھارہ تک پہنچ چکی ہے جن میں سے اب تک بارہ کانکنوں کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔
مگر چھ کانکنوں کی لاشیں چوتھے دن بھی نہیں نکالی جاسکیں۔ اپنے پیاروں کے نکلنے کے انتظار میں کان کے سامنے بیٹھے لواحقین کرب و رنج میں مبتلا ہیں۔تفصیلات کے مطابق بارہ اگست کو کوئٹہ سے تقریباً 43 کلومیٹر دور سنجیدی کے الگیلانی کول کمپنی کی کوئلہ کان نمبر سی ون میں گیس بھر جانے سے دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں کان کا کئی سو فٹ حصہ بیٹھ گیا۔
ساڑھے تین ہزار فٹ کی گہرائی میں پیش آنیوالے اس حادثے کے نتیجے میں ملبے تلے دب کر 13 کانکن جاں بحق ہوگئے۔ ابتدائی کوششوں میں آٹھ کانکنوں کی لاشیں تقریباً بارہ گھنٹے بعد نکال لی گئیں مگر پیر 13 اگست کی دوپہر کو ریسکیو آپریشن کے دوران اس وقت تعطل پیدا ہوگیا جب پھنسے ہوئے کانکنوں کو نکالنے کیلئے جانیوالے کانکنوں کی خود کی حالت گیس سے دم گھٹنے کے باعث خراب ہونا شروع ہوگئی۔
پندرہ سے زائد کانکن بے ہوش ہوگئے جنہیں مشکل سے بچالیا گیا تاہم ریسکیو آپریشن کیلئے اترنے والے پانچ کانکن جان کی بازی ہار گئے۔یوں یکے بعد دیگریپیش آنیوالے دونوں حادثات میں بحق کانکنوں کی مجموعی تعداد 18 تک پہنچ گئی۔
پیر کی شام کو قریب کی کوئلہ کانوں میں کام کرنیوالے سو سے زائد کانکنوں کو دوبارہ ریسکیو آپریشن میں شامل کیا گیا۔ چار روز سے جاری کوششوں میں اب تک بارہ کانکنوں کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔
بارہویں لاش دیر کے رہائشی چالیس سالہ ملوک کی تھی جس کے دو سگے بھائی شاہ پرین اور نور محمد اڑتالیس گھنٹوں سے کان کے باہر بیٹھ کر بھائی کی لاش نکلنے کے منتظر تھے۔ شاہ پرین اور نور محمد خود بھی چند کلومیٹر دور واقع ایک اور کوئلہ کان میں مزدوری کرتے ہیں۔
شاہ پرین نے بتایا کہ ملوک تین بچوں کا باپ تھا وہ نو سال سعودی عرب میں مزدوری کرنے کے بعد ایک سال قبل اپنے گھر آئے تھے۔ چند ماہ بیروزگار رہنے کے بعد وہ گزشتہ تقریباً آٹھ نو ماہ سے کانکنی کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا تھا۔
حادثے کے دوسرے روز ملوک پھنسے ہوئے کانکنوں کو نکالنے کیلئے کان میں اترا تو خود بھی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ انہوں نے بتایا کہ کوئلہ کی مد میں کروڑوں اربوں روپے ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ ریسکیو کا کام کرنا کانکنوں کا نہیں اس کیلئے باقاعدہ تربیت یافتہ عملہ ہونا چاہیے مگر حکومتی سطح پر ریسکیو کے شعبے پر توجہ نہ دینے اور محکمہ معدنیات کی غفلت کی بدولت کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کسی کانکن کی جان نہیں جاتی۔
ریسکیو کوششوں میں شریک کان کے منشی ممتاز غنی نے بتایا کہ باقی پھنسے چھ کانکنوں کی لاشیں نکالنے میں مزید ایک دن لگ سکتا ہے۔ ہم کوشش کررہے ہیں کہ کان میں پہلے ہوا اور آکسیجن کا بندوبست کریں اور ملبہ ہٹائے اس کے بعد باقی پھنسے کانکنوں کی لاشیں باہر نکالیں۔
ملبہ ہٹانے کا کام آخری مراحل میں ہے ۔ موقع پر موجود مائنز لیبر یونین کے رہنماء4 بخت نواب نے بتایا کہ اٹھارہ مزدور کی موت ہوگئی ، چار دن سے لاشیں پھنسی ہوئی ہیں۔اتنا بڑا انسانی المیہ ہونے کے باوجود حکومتی سطح پر مدد کرنے کوئی نہیں آیا۔ محکمہ مائنز کے صرف چند اہلکار موجود ہیں مگر ان کے ہمراہ بھی کوئی ڈاکٹر ہیں اور نہ ہی کوئی ادویات۔ بے ہوش ہونیوالے مزدوروں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے تک کا سامان موجود نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کوئلہ کان مالکان ہوں یا پھر ٹھیکیدار، محکمہ معدنیات کسی کے سامنے مزدوروں کے جانوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حادثات پیش آجائے تو بھی کوئی پوچھنے تک نہیں آتا۔
بخت نواب نے بتایا کہ لاشیں آبائی علاقوں تک پہنچانے کیلئے ایمبولنس تک کا بندوبست نہیں کیا گیا۔ بڑے لوگوں کی میتیں ہیلی کاپٹر میں لے جائی جاسکتی ہیں مگر غریب مزدور کیلئے ایمبولنس تک دستیاب نہیں۔ کانکنوں کے تحفظ کیلئے کام کرنیوالی مزدور تنظیموں کے مطابق بلوچستان میں صر ف رواں سال 70 سے زائد کانکن مختلف حادثات میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔
جون میں سنجیدی میں 4 اور اس سے ایک ماہ دو حادثات میں 23 کانکن جاں بحق ہوئے اس کے باوجود حادثات کی روک تھام کیلئے کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کی جارہی۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی )نے بھی بدھ کو ایک بیان میں نئی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کانکنی کے شعبے میں مزدوروں کے صحت اور تحفظ کیلئے اقدامات کو ترجیح دیں۔
قوانین کے اطلاق اور نگرانی کے عمل کو مضبوط بنا کر شفافیت ، معلومات کے تبادلے اور احتساب کو فروغ دیا جائے۔ پے در پے پیش آنیوالے حادثات پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
بیان نے پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے فراہم کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہر سال 100 سے 200 تک کانکن حادثات میں جان کی بازی ہارجاتے ہیں۔ یہ اعدادو شمار تشویشناک ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بات بھی تشویشناک اور ناقابل برداشت ہے کہ کانکنوں کے ساتھ ساتھ مائن ریسکیو ورکرز کی زندگی میں مسلسل داؤ پر لگی رہتی ہیں۔ کوئلہ کانوں کو قبرستانوں میں بدلنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
ایچ آر سی پی نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے کانکنوں کی صحیح تعداد معلوم کرنے اور رجسٹرڈ کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں کیونکہ چھوٹے علاقوں میں اکثر پیش آنیوالے حادثات رپورٹ نہیں ہوتے۔
چھوٹی سطح پر ہونیوالی کانکنی کو بھی ریگولیٹری نظام میں لاکر قوانین کا اطلاق کرایا جائے۔ کانکنی کے شعبے سے وابستہ کانکنوں کی مراعات اور امداد کو کام کی نوعیت اور خطرات کے مساوی کیا جائے۔
سنجدی کوئلہ کان حادثہ ، 7مزدور تا حال نہیں نکالے جاسکے
![]()
وقتِ اشاعت : August 16 – 2018