|

وقتِ اشاعت :   August 19 – 2018

افغانستان کے امیر حبیب اللہ کے پُر اسرار قتل کے بعد خاندان میں اقتدار کی مختصر رسہ کشی ہوئی ۔نئے امیر کی تاج پوشی کابل کی عید گاہ میں ہوئی ۔ ہزاروں کا مجمع موجود تھا۔حبیب اللہ خان کے بیٹے امان اللہ خان شور بازار کے شاہ آغا کے ہمراہ آئے ۔

شور بازار کابل کا ایک علاقہ ہے جہاں شاہ آغا جنہیں شور بازار کا حضرت کہا جاتا تھا کا خاندان رہائش پذیر تھا۔ شاہ آغا نے ریشمی پگڑی قندہاری ٹوپی پر باندھ کر امان اللہ خان کے سر پر رکھ دی۔ ہزاروں حاضرین نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا۔ رسم تاج پوشی کی تقریب نہایت سادگی سے ادا کی گئی ۔

یوں مارچ 1918ء کو امان اللہ خان سریر آرائے سلطنت ہوا۔نئے امیر نے اگلے چند گھنٹوں میں وائسرائے ہند کو تحریری طورپر اپنی تخت نشینی سے آگاہ کر دیا۔اس تحریر میں حکومت ہند کو ان الفاظ میں مخاطب کیا کہ ’’خدا ئے بزرگ و برتر پر کامل بھروسہ اور اس کی مہربانی سے میں دارلحکومت کابل میں عوام اور افواج افغانستان کی پرجوش تائید سے اپنے سر پر افغانستان کے امیر کا تاج رکھ دیا ہے ۔‘‘

نیز ایک دوسرے موقع پر ہندوستان پر قابض برطانوی حکومت کو یوں مخاطب کیا کہ ’’یہ امر مخفی نہ رہے کہ ہماری آزاد اور خود مختار حکومت خود کو اس امر کیلئے ہر وقت آمادہ و تیار پاتی ہے کہ ہر قسم کے دوستانہ اور اس طرح کے دوسرے لازمی امور کو مد نظر رکھتے ہوئے طاقتور حکومت برطانیہ سے گفت و شنید و معاہدات انجام دئیے جائیں جو آپ کی حکومت اور ہمارے لئے تجارتی فوائد اور بہتری کیلئے سود مند اور قابل عمل ہوں۔‘‘

غازی امان اللہ خان کی امارت میں افغانستان کی انگریزوں سے تیسری جنگ چھڑ گئی ۔جس کا اعلان امان اللہ خان نے کابل کی جامع مسجد میں جہاد کے پر جوش نعروں سے کیا۔اس جنگ کے لئے افغان حکومت ، سیاسی زعماء ، علماء و مشائخ نے ملک کے طول وعرض میں عوام کو انگریزوں کے خلاف صف آراء ہونے کیلئے پکارا۔

لشکر جنرل نادر خان کی قیادت میں روانہ ہوا جس کے ہمراہ شور بازار کے شاہ آغا اور شیر آغا بھی تھے ۔سرحدات پر جھڑپیں ہوئیں ، ٹل کے مقام پر انگریزی فوج کو ہزیمت اُٹھانی پڑی۔معرکہ سپن بولدک کے مقام پر بھی ہوا۔ اس جنگ کے نتیجے میں برطانوی ہند اور افغانستان کے درمیان مذاکرات پہل ہوئے ۔انگریز وں کی دلچسپی بھی مذاکرات اور امن کے قیام میں کم نہ تھی ۔

ان کے سامنے ایک منڈلاتا خطرہ بالشویکو ں کا بھی تھا۔ البتہ امیر افغانستان برطانیہ اور روس جیسی بڑی طاقتوں کے درمیان ملک کو غیر محفوظ سمجھتے تھے ۔انگریزوں نے پہلے ہی افغانستان کو جبری معاہدوں میں جکڑ رکھا تھا ۔ معاہدہ گندمک کے ذریعے افغانستان کے بڑے حصے کو ہتھیا چکا تھا۔ اور ڈیورنڈ معاہدے کے ذریعے اس پر ایک مستقل سرحدی لکیر کھینچ دی گئی ۔

امیر افغانستان روسیوں کو بھی ناقابل اعتبار قرار دے چکے تھے، کہ روس کا مقصد بھی افغانستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچانا ہے ۔ ادھرروس کی پیش قدمی وسطی ایشیائی ریاستوں میں مسلسل بڑھ رہی تھی ۔

چناں چہ ان حالات میں امیر افغانستان نے روالپنڈی کے امن مذاکرات کیلئے افغان وفد روانہ کر دیا ۔امیر نے وفد کا سربراہ اپنے ماموں زاد بھائی علی احمد کو نامز د کیا۔وفد کو مکمل اختیارات سونپ دئیے ۔امیر نے مذاکراتی وفد پر واضح کر دیا تھا کہ قربانی جو بھی دینی پڑی پر روالپنڈی سے واپسی افغانستان کی مکمل آزادی کے ساتھ ہو ۔امن مذاکرات اختتام کو پہنچ گئے،8اگست 1919ء کو برطانیہ نے افغانستان کی آزادی باضابطہ طور پر تسلیم کر لی ۔

امان اللہ خان نے عید گاہ مسجد کے اُسی مقام پر جہاں اُنہیں امارت کی پگڑی پہنائی گئی تھی کے ممبر پر کھڑے ہوکرسامنے موجود ہزاروں افراد کے اجتماع سے مخاطب ہوئے کہ ’’آپ اور آپ کا ملک آج سے مکمل آزاد ہے ۔ افغان کسی بھی قوم کے ساتھ آزادی سے بات کرنے کے اہل بنے ہیں ،یہ قومی آزادی ہمیں کسی دوسری قوم سے تحفے میں نہیں ملی۔ 

بلکہ یہ آزادی آپ کے خون اور قربانیوں کی بدولت نصیب ہوئی ہے ۔‘‘امیرِ افغانستان نے روس ، امریکہ ،جاپان،ایران اور ترکی سمیت مختلف ممالک کے سربراہان کو خطوط بھیجے کہ افغانستان اندرونی اور بیرونی طور پر آزاد اور خود مختار ملک رہے گا ۔گویا امیر نے دنیا پر واضح کرنا چاہا کہ افغانستان نے دنیا کی دیگر آزاد اقوا م کی طرح جینے کا حق حاصل کر لیا ہے ۔ امان اللہ کارِحکومت اطمینان کے ساتھ نبھا رہے تھے۔ 

یورپ کے دورے پر گئے ،وہ افغانستان کو ایک جدید اور ترقی یافتہ ملک دیکھنا چاہتے تھے ۔ شاہ تُرکی نمونہ کی جدیدیت پر قائل کر لئے گئے تھے ۔ چناں چہ امیر نے دفعتہ افغا نوں کے مذہبی،دیہی اور قبائلی مزاج و روایات کے برعکس اصلاحات جدیدہ کا اعلان کر دیا ۔جس کے نتیجے میں ملک کے اندر نئے مبا حث نے جنم لیا۔ شورش اُٹھی ، انگریز حکومت کی امداد بند تھی، یعنی ان کی حکومت داخلی دفاع کے لحاظ سے بھی کمزور تھی ۔

ان دنوں شاہ آغا بھی حیات نہ تھے وہ 1923ء میں وفات پا چکے تھے۔ وہ زندہ ہوتے تو شایدبگاڑ کے بڑھنے کی نوبت نہ آتی۔ اُن کے چھوٹے بھائی شیر آغا (فضل عمر ) اور دوسرے علماء و سیاسی و قبائلیء عمائدین نے اصلاحات جدیدہ کی مخالفت کر دی ۔ 

شیرآغا نے اصلاحات پر یہ کہا کہ افغانستان ایک لا دین ملک بنتا جا رہا ہے ۔امیر مخالف تحریک ختم کرنے میں ہندوستان کے علماء ،سیاسی شخصیات جن میں علامہ اقبال سرفہرست تھے ۔اسی طرح ہندو بالخصوص مسلم اخبارات نے بہت مثبت ابلاغ کیا ۔

پنجاب کی خلافت کمیٹی نے امان اللہ خان کے خلاف سازشوں سے پردہ اُٹھانے کی کوششیں کیں۔ مولانا ظفر علی خان کا زمیندار اخبار، مولانا غلام رسول مہر اور عبدالمجید سالک کا روزنامہ انقلاب ،افغانستان کے استحکام، امیر اور اُن کے مخالفین کے درمیان افہام و تفہیم کی فضاء قائم کرنے کے لئے مسلسل اداریے اور مضامین تحریر کرتا رہا۔برطانوی ہند کے ایک اور معروف اخبار ’’مدینہ‘‘ نے افغانوں کے درمیان تصادم اور بگاڑ سے گریز اور گفت و شنید کی پالیسی اپنائی۔

جس کی پاداش میں انگریز سرکار نے اخبار ’’ مدینہ‘‘ پر پابندی عائد کر دی۔اخبار کے مدیر مولوی نورالدین کو حراست میں لے لیا۔مولانا ظفر علی خان نے امیر کی حمایت و نصرت میں نظم لکھی ۔گویا مسلم اخبارات افغان صورتحال اینگلو انڈین اخبارات کا پراپیگنڈہ قرار دیتے رہے۔ 

امان اللہ کے ملک چھوڑنے سے قبل انگریز پالیسی کے تحت چلنے والے اخبارات نے شاہ کے خلاف ملا شور بازار کا ایک بیان بھی شائع کیا۔ بعد میں منکشف ہوا کہ بیان اُن سے منسوب کیا گیا تھا۔یعنی غلط اطلاعات تھیں جس کی تشہیر کرائی گئی تھی۔ 

مقصد افغان عوام کو مشتعل اور گمراہ کرنا تھا۔ غرض امان اللہ خان نے 1929ء کو تمام اصلاحات جدیدہ ایک اعلان کے ذریعے واپس لے لیں۔ جس پر افغان علماء و مشائخ ، ملک کے قاضی القضاۃ قاضی محمد اکبر اور شیر آغا یعنی ملا شور بازار نے بھی دستخط کئے تھے ۔ ملا شور بازار بعد میں ملک چھوڑ کر چلے گئے ۔علامہ اقبال امان اللہ خان کے بڑی حامی تھے ۔ 

وہ افغانستان کے امن و استحکام کو ایشیاء کے استحکام سے تعبیر کرتے تھے۔علامہ نے اس ضمن میں عملی طور پر کردار بھی ادا کیا۔علامہ اقبال نے شاہ امان اللہ کی ملک بدری پر لاہور کے ایک انگریز ی اخبار کواپنے رد عمل میں کہا کہ’’اہل ہند افغانستان کی آزادی اور اس کے اتحاد و استحکام کے ساتھ گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ 

نہ صرف افغانستان کے مفاد بلکہ ایشیاء کے وسیع تر اغراض و مقاصد کے لحاظ سے ضروری ہے کہ شاہ امان اللہ کی حکومت برقرار رکھی جائے ۔افغانستان سے آنے والی خبریں اعتماد کے قابل نہیں ہیں۔اس امر کے یقینی ہونے میں کوئی شبہ نہیں کہ عالم اسلام میں قدامت پسندانہ جذبات اور لبرل خیالات میں جنگ شروع ہو گئی ہے ۔

اغلب ہے کہ قدامت پرست اسلام بغیر جدوجہد کے سرتسلیم خم نہیں کرے گا۔اس لئے ہر ایک ملک کے مسلم مصلحین کو چاہئے کہ نہ صرف اسلام کی حقیقی روایات کو غور سے د یکھیں بلکہ جدید تہذیب کی صحیح اندرونی تصویر کا بھی احتیاط سے مطالعہ کریں جو بے شمار طاقتوں میں اسلامی تہذیب کی مزید ترقی کا درجہ رکھتی ہے ۔جو چیزیں غیر ضروری ہیں اُن کو ملتوی کر دینا چاہئے۔ 

کیونکہ صرف ضروری چیزیں فی الحقیقت قابل لحاظ ہیں۔ یہ امر صحیح نہیں کہ مجلسی معاملات میں قدامت پسندانہ طاقتوں کو بالکل نظر انداز کر دیا جائے ۔کیونکہ انسانی زندگی اپنی اصلی روایات کا بوجھ اُٹھا کر منزل ارتقاء طے کرتی ہے ۔‘‘(26فروری 1929ٹریبیون لاہور)14نومبر 1928کو شروع ہونے والی شورش 17جنوری 1929ء کو ایک راہزن حبیب اللہ المعروف بچہ ثقہ کے اقتدار پر منتج ہوئی ۔افغان اُنیس اگست کو یوم تجدید و استقلال کے طور پر مناتے ہیں۔ 

یوم استقلال کے جشن کی تقاریب ،محافل رقص و سرور ان سترہ سالوں میں بھی بڑے اہتمام کے ساتھ منائے گئے ۔باوجود اس تلخ حقیقت کے کہ افغانستان آٹھ اکتوبر2001ء سے امریکا کے زیر تسلط ہے!۔کیا غیرت مند، زندہ اور حریت پسندقومیں غلامی میں آزادی کا جشن منایا کرتی ہیں؟۔

تھا جو ناخُوب بتدریج و ہی خُوب ہوا 
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر