|

وقتِ اشاعت :   August 19 – 2018

کوئٹہ:  بلوچستان اسمبلی کے اراکین نے میر جام کمال کو وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ صوبے کے دیرینہ مسائل کے حل کے لئے اتحادی جماعتوں اور تمام اراکین کے تعاون سے عملی اقدامات اٹھائیں گے ۔

بلوچستان میں امن عامہ ، صحت ، تعلیم ، روزگارکی کمی سمیت جتنے بھی مسائل ہیں ا ن کے حل کے لئے صوبے کے عوام اپنے نمائندوں کی طرف دیکھتے ہیں ، امید ہے کہ نومنتخب وزیراعلیٰ اپوزیشن اور حکومت بینچوں کی تفریق کئے بغیر پورے ایوان کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے صوبے کے دیرینہ مسائل کے حل کے لئے کام کریں گے ۔

ان خیالات کااظہار متحدہ اپوزیشن کے نامزد امیدوار برائے وزارت اعلیٰ میر یونس عزیز زہری ،تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند ، اے این پی کے پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی و دیگر نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں قائد ایوان کے انتخاب کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔

میریونس عزیز زہری نے جام کمال کو قائد ایوان منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کااظہار کیا کہ وہ صوبے کی اقدار ، قبائلی روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام اراکین کو ساتھ لے کر چلیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کی جماعتوں ، ایم ایم اے ، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پشتونخوامیپ کے اراکین کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھ پر اعتماد کااظہار کرتے ہوئے مجھے ووٹ دیا ۔

انہوں نے کہا کہ جام کمال صرف ان اراکین کے وزیراعلیٰ نہیں جنہوں نے انہیں ووٹ دیئے بلکہ وہ اپوزیشن سمیت پورے صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں صوبے سے کرپشن کا خاتمہ کریں او رپچھلے ادوار میں جو مشیر ، کوآرڈینیٹر زکے نام پر جو بوجھ صوبے پر ڈالا گیا اس روایت کو دوبارہ نہ دہرایا جائے کیونکہ اگر ہم بلوچستان کے حقیقی مسائل پر توجہ دیں تو ہمیں امید ہے کہ تمام تر مسائل ہم حل کرسکتے ہیں ۔

کیونکہ اس وقت صوبے میں تعلیم ، صحت اور دیگر شعبوں کی حالت زار سب کے سامنے ہے لوگوں کو صاف پانی تک میسر نہیں ہے ۔ پسند و ناپسند کی بنیاد پر کسی کو فنڈزجاری نہ کئے جائیں اگر اپوزیشن کے ساتھ ناانصافی ہوگی تو پھر ہم احتجاج کریں گے اور اگر ہمارے حلقے محفوظ نہیں رہے تو کوئٹہ بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ 

2018ء کے انتخابات پر متحدہ مجلس عمل کے بھی تحفظات ہیں ان تحفظات کو دور کیاجائے اور پی بی41پر ہمارے امیدوار میر زابد ریکی جیت کر آئے مگر اب تک نتائج روکے گئے ہیں نوٹیفکیشن فوری طو رپر جاری کیا جائے ۔پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے کہا کہ آج ہم ایک نئے سفر کا آغاز کررہے ہیں یہ سفر بلوچستان کے عوام اور دھرتی اور آنے والے وقت کے لئے انتہائی اہم ہے پچھلے 72سالوں میں جس طرح بلوچستان کو نظر انداز اور وسائل کولوٹا گیاْ ۔

اس پر ہم کسی اور کو مورد الزام نہیں ٹھہراسکتے کیونکہ 1972ء سے لے کر آج تک لیڈر آف دی ہاؤس اسی صوبے سے تعلق رکھتا آیا ہے یہاں باہر سے آنے والے کسی شخص نے حکومت نہیں کی ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہر دور پچھلے دور سے بد تر ہوتا گیا اس ایوان میں صوبے کے حقوق کا استحصال کیا گیا اور ایسی کوئی قانون سازی نہیں کی گئی جس سے بلوچستان کے عوام کو ان کے جائز حقوق مل سکیں انہوں نے نے کہا کہ بلوچستان میں ہمیشہ بندربانٹ کی گئی صوبے کے حقوق کی جنگ پارلیمنٹ سے ہی لڑی جاسکتی ہے ۔

بلوچستان میں پانچ بار شورش نے سراٹھایا یہاں بہت سے لوگ شہید ہوئے سیکورٹی فورسز نے قربانیاں دیں لیکن پھر بھی یہاں کے مسائل کا کوئی حل نہیں نکالا جاسکے ہمارے جن بچوں نے صوبے کی نمائندگی کرنی تھی وہ کسی اور راہ پر چل پڑے اور کچھ دوست یہی سوچتے رہے کہ یہی مسئلے کا حل ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ شورش سے بلوچستان کے قابل لوگ ضائع ہوئے ۔

انہوں نے کہا کہ مرکز میں ہماری پارٹی اقتدار میں ہے مجھے یقین ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے صوبے کے فیصلے صوبے میں کرنے کا جو نعرہ لگایا ہے وہ اس پر قائم رہے گی ۔

ہمیں صوبے کے حقوق کے حصول کے لئے قانون سازی کرنی ہوگی اور مرکز سے سنجیدگی کے ساتھ بات کرنی ہوگی میں نومنتخب قائد ایوان سے امید رکھتا ہوں کہ ان کی حکومت سابقہ حکومتوں کی طرح غلطیاں نہیں دہرائے گی اور ہم بلوچستان عوامی پارٹی کے نومنتخب وزیراعلیٰ کی صوبے کی بہتری کے لئے کئے جانے والے ہر اقدام کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی جام کمال کو وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ صوبے کے وزیراعلیٰ بن گئے ہیں ہماری خواہش ہے کہ آپ ایسے راستے کا تعین کریں تاکہ ہر علاقہ اور ہر جگہ مستفید ہو بلوچستان پسماندہ صوبہ ہے ۔

لیکن وسائل سے بھی ہمارا صوبہ مالا مال ہے اب تک جن مسائل پر توجہ نہیں دی گئی ہمیں امید ہے کہ جام کمال ان مسائل پر توجہ دیں گے ان مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے بدقسمتی سے بلوچستان میں مسائل زیادہ ہیں پاکستان کو بلوچستان اور گوادر کی وجہ سے اہمیت حاصل ہے مگر ہم اقتدار کے لالچ میں آکر صوبے کے وسائل بھول جاتے ہیں گوادر بلوچستان میں ہے اور اگر گوادرکی اہمیت نہ ہو تو سی پیک کا کوئی فائدہ نہیں رہے گا۔

سی پیک کے نا م پر اربوں کھربوں روپے آئے مگر یہاں پر خرچ نہیں ہوئے سابق وزیراعظم نے سی پیک کے نام پر قوم کو دھوکہ دیا اور ژوب آکر ورلڈ بینک کے فنڈ سے ایک شاہراہ کا افتتاح کرکے اسے سی پیک کا نام دیا اور پنجاب میں جگہ جگہ پر موٹرویز ہیں ہم موٹر وے کا نام تک نہیں جانتے۔ 


انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف سے ہمارا لاکھ اختلاف ہے مگر تحریک انصاف بلوچستان عوامی پارٹی کی مرکز میں اتحادی ہے بلوچستان عوامی پارٹی وفاقی حکومت کے ساتھ اچھے روابط رکھ کر سی پیک کے مسئلے پر بات کرے اسی طرح بلوچستان نیشنل پارٹی بھی مرکز میں پی ٹی آئی کی اتحادی ہے ان سے بھی یہی توقع اور تمنا ہے کہ وہ ان مسائل کو اجاگر کریں گے سی پیک پر توجہ دی جائے تو بلوچستان کی پچاس سالہ پسماندگی ختم ہوسکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اس سے مذاہب کی جنگ کاخطرہ ہے اگر ہم چالیس سال قبل ہی مغرب کو دوٹوک جواب دیتے تو شاید آج یہ نوبت نہ آتی ۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے لئے پشتونوں اور بلوچوں نے بہت قربانیاں دی ہیں بابڑہ سے لے کر آج تک ہم جمہوریت کے لئے قربانیاں دیتے آئے ہیں ہمارے اکابرین کی قربانیوں کی بدولت آج ملک میں جمہوریت ہے ۔

ہمیں جمہوریت سے مستفید ہونا چاہئے ہم نے پہلے کہا کہ نواب ثناء اللہ زہری جام کمال کی حمایت کریں گے اور اسی طرح جام کمال کے والد کی کرم نوازی دیکھ کر جمعیت العلماء اسلام اور جام کمال کے دادا کی کرم نوازی کی خاطرپشتونخوا میپ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے تحریک انصاف کی اتحادی ہونے کے ناطے بلوچستان نیشنل پارٹی بھی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے میر حمل کلمتی نے کہا کہ بلوچستان مسائلستان بن چکا ہے صوبے کو پینے کے پانی ،تعلیم ، صحت ، گڈ گورننس جیسے مسائل کا سامنا ہے کوئٹہ شہر میں نلکوں میں پینے کا پانی نہیں آتا یہی حال چاغی اور گوادر کا بھی ہے اگر گوادر میں حکومت ایک ہفتہ پانی کے ٹینکروں کو پیسے نہ دے تو وہاں پانی ناپید ہوجاتا ہے ۔

گوادر میں پہلے صرف ایک سکول تھا اس کی بھی مرمت نہیں ہوتی تھی صوبے میں پانچ ہزار شیلٹرلیس سکول ہیں اب بھی کئی پرائمری سکولوں میں ایک ٹیچر اور ایک ہی کمرہ ہے تعلیم کی بہتری کے لئے کوئی نظام وضع نہیں کیا گیا ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہے بلوچستان میں گڈ گورننس نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ امن وامان کا مسئلہ بھی سنگین ہے صوبے میں مارتا کوئی اور اس کی ذمہ داری کوئی اور قبول کرتا ہے ۔ 

لیویز ، پولیس کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ سی پیک گوادر کے بغیر نامکمل ہے اب تک سی پیک منصوبے میں60سے62ارب ڈالر دیئے جاچکے ہیں لیکن ان میں سے کتنے پیسے بلوچستان میں خرچ ہوئے یہ معلوم نہیں ۔

گوادر میں ایکسپریس وے اور ایئر پورٹ کے منصوبے تو بن رہے ہیں لیکن عوام کو ان منصوبوں کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ گوادر میں بجلی اور انفراسٹرکچر کا فقدان ہے بلوچستان نیشنل پارٹی ( عوامی ) کے میر اسد بلوچ نے کہا کہ ہر جماعت کا ایک صدر اور منشور ہوتا ہے ہماری پارٹی میں اختلاف سے متعلق جو بھی معاملہ ہے اس پر میں سپیکر چیمبر میں بات کروں گا ۔

انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان میں انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہوگیا ہے الیکٹرانک میڈیا ہمیشہ بلوچستان کو کوریج دینے میں ناکام رہا ہے اگر میڈیا آزاد ہے تو ہمارے خیالات کو پوری دنیا تک پہنچائے ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان بنیادی سہولیات سے محروم ہے ہم آج بھی دو ہزار سال پرانے دور کی زندگی گزار رہے ہیں صوبہ قدرتی وسائل سے تو مالا مال ہے لیکن آج تک اس دولت کو بروئے کار نہیں لایاگیا ریکوڈک اور سیندک منصوبوں سے حاصل ہونے والا سرمایہ بلوچستان کی بجائے دوسرے ملکوں میں خرچ ہوتا رہا ہے ۔

بلوچستان کے لوگ آج بھی تعلیم سے محروم اور بے گھر ہیں ہم نے گوادر جیسا اہم شہر کسی سے تحفے میں نہیں بلکہ انگریزوں سے جنگیں لڑ لڑ کر حاصل کیا ہے لیکن گوادر کے عوام کا استحصال کیا جارہا ہے ہمیں آج بھی نوآبادیاتی طرز پر چلایا جارہا ہے یقیناًفیڈریشن طاقت ہوتی ہے لیکن ہم کسی کو اپنا استحصال نہیں کرنے دیں گے ۔ 

انہوں نے کہا کہ پنجگور گچک آواران روڈ پر کام کرنے سے تین اضلاع کے لوگوں کو معاشی طور پر فائدہ ہوگا اس سے ایران بارڈر کا سفر کم ہو کر صرف پانچ گھنٹے رہ جائے گا اگر حکومت عملی طو رپر ترقی چاہتی ہے توصوبے کے اہم شہروں کو توجہ دی جائے ۔

ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے عبدالخالق ہزارہ نے نومنتخب وزیراعلیٰ کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کا ر لاتے ہوئے صوبے میں ڈیلیور کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ 2013ء میں جب میاں نواز شریف وزیراعظم بنے تو ان کی ترجیحات میں توانائی کے منصوبے پہلے اور امن وامان چوتھے نمبر پر تھا جبکہ بانی پاکستان محمد علی جناح نے اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ کسی بھی حکومت کی پہلی ذمہ داری عوام کو امن وامان کی فراہمی ہے گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے کوئٹہ سمیت بلوچستا ن بھر میں جس بربریت سے ہمارا خون بہایاگیا اس کی مثال نہیں ملتی ہم اپنے لوگوں کا لہو کن کے ہاتھوں پر تلاش کرتے رہے ۔

اسلام آباد ڈی چوک پارلیمنٹ تک گئے مگر نہ تو مرکز او رنہ ہی صوبائی حکومت میں کوئی شنوائی ہوئی ہمارے سینکڑوں افراد ایک واقعے میں شہید ہوئے تو ایک وزیراعلیٰ نے بجائے اظہار یکجہتی کے یہ کہا کہ آنسوؤں پونچھنے کے لئے ایک ٹرک ٹشو پیپر بھجوادیں گے غیر یقینی کی صورتحال ہمارامقدر بن چکا ہے ۔

ہزارہ قبائل سے تعلق رکھنے والوں کی کوئٹہ کے ہر کونے میں ٹارگٹ کلنگ ہوئی اب کچھ دنوں سے امید کی کوئی کرن نظر آرہی ہے مگر صورتحال یہ ہے کہ ہزارہ ٹاؤن کی لاکھوں کی آبادی بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ خان زیرئے نے جام کمال خان کو اپنی اور اپنی جماعت کی جانب سے مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نومنتخب وزیراعلیٰ پورے ایوان سمیت پورے صوبے کو ساتھ لے کر چلیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ بعض قوتیں پہلے دن سے یہاں رہی ہیں جنہوں نے ملک کو جمہوری ڈگر پر چلنے نہیں دیا نو سال تک ملک کو بغیر آئین کے رکھا گیا 1956ء میں جو آئین بنایا گیا وہ محکوم قوموں کے لئے ناقابل برداشت تھامگر اسے بنانے والوں نے خود ختم کردیاگیا1958ء میں مارشل لاء لگایاگیا خان شہید اس مارشل لاء کے پہلے قیدی تھے جو 14سال قید میں رہے ایک منتخب وزیراعظم کو پھانسی دی گئی عوامی نمائندوں کو اقتدار منتقل نہ کرنے کی وجہ سے ملک دولخت ہوا ۔

25جولائی کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کو ہماری جماعت سمیت آل پارٹیز کانفرنس میں شامل تمام جماعتوں نے مسترد کیا انہوں نے کہا کہ اس صوبے میں بلوچ اور پشتون اپنی اپنی سرزمین پر آباد ہیں مگر پشتون وزیراعلیٰ کو شجر ممنوعہ بنادیاگیا ہے ۔

1974ء میں جو فارمولہ دونوں قوموں کے حوالے سے بناتھا اس پر عملدرآمد ہوتا تو آج صورتحال کچھ اور ہوتی انہوں نے زور دیا کہ کوئٹہ میں پانی کے منصوبوں پر عملدرآمد کیا جائے اس موقع پر سپیکر نے انہیں اپنی تقریر مختصر کرنے کی ہدایت کی جس پر نصراللہ زیرئے نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر کسٹوڈین آف ہاؤس ہیں انہیں ہمارے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے سپیکر ان سے ناانصافی کررہے ہیں ۔

نصراللہ زیرئے احتجاجاً واک آؤٹ کرتے ہوئے ایوان سے چلے گئے جس پر سپیکر نے کہا کہ بلوچستان میں صرف بلوچ پشتون نہیں بلکہ مختلف اقوام آباد ہیں اور ہم تمام بلوچستانی ہیں اور ان میں سے کوئی وزیراعلیٰ منتخب ہوسکتا ہے ۔

اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ ارکان اسمبلی کسے منتخب کرتے ہیں جس کی اکثریت ہوگی وہ وزیراعلیٰ ہوگا ۔ ماضی میں نواب محمدخان باروزئی صوبے کے وزیراعلیٰ منتخب ہوچکے ہیں ۔بعدازاں سپیکر کی ہدایت پر میر اختر حسین لانگو اورمیرضیاء لانگو نے جا کر نصراللہ زیرئے کو منایا اور انہیں واپس ایوان میں لے آئے ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی ) کے سید احسان شاہ نے کہا کہ ہماری پارٹی کے جو بھی مسائل ہیں ان پر سپیکر چیمبرمیں آکر بات کروں گا میرے پاس بھی پارٹی کی کور کمیٹی اور کابینہ اراکین کا لیٹر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میر جام کمال بلوچستا ن کے اہم خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ان کے والد اور دادا بھی اس منصب پر فائز رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو میر جام کمال سے بہت سی توقعات ہیں امید ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احس طریقے سے نبھائیں گے۔

میر جان محمد جمالی نے نومنتخب وزیراعلیٰ کومبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج سے آپ کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں امید ہے کہ آپ حکومت اور اپوزیشن سب کو ساتھ لے کر چلیں گے پورے بلوچستان میں ہر طرف مسائل ہی مسائل ہیں جب ہم انتخابی مہم میں مصروف تھے تو پورے نصیرآباد ڈویژن میں پینے کے پانی کی شدید قلت تھی ہم جہاں بھی گئے وہاں عوام نے پانی کی بات کی امید ہے کہ عید الاضحی سے قبل عوام کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ اب بلوچستان کے فیصلے بلوچستان میں ہوں گے اسلام آباد سے ہدایات لینے کا دور گزر گیا دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنے صوبے کی بہتری کے لئے کیا کرسکتے ہیں اگر ہم نے کام نہ کیا تو پھر جو جماعتیں کل اقتدار میں تھیں آج وہ اس ایوان میں بھی نہیں یہ ہمارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے کرپشن کا خاتمہ اور میرٹ پر عمل کرنا ہوگا ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے اختر حسین لانگو نے وزیراعلیٰ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ آج اس ایوان کا پہلا دن ہے انہوں نے سپیکر کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ جس دن یہاں ارکان کی تقریب حلف برداری تھی ۔

اس روز گیلریوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ مہمانوں کو کارڈ جاری کئے گئے جس کی وجہ سے ایک جانب بدنظمی ہوئی تو دوسری جانب مہمانوں کو خفت کا سامنا کرنا پڑا امید ہے کہ آئندہ اس مسئلے کو دیکھا جائے گا ہم جمہوری لوگ ہیں اور جمہوری روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں گے۔

امید ہے کہ سپیکر بھی جمہوری روایات کے مطابق ایوان کو چلائیں گے اس موقع پر سپیکر نے ان کے بعض ریمارکس کارروائی سے حذف کرادیئے ۔ اختر حسین لانگو نے کہا کہ مسائل بہت زیادہ ہیں کوشش کریں گے کہ سب کو دیکھیں ۔

انہوں نے14اگست کو جشن آزادی کے نام پر بعض نوجوانوں کو طوفان بدتمیزی اور ہلڑ بازی کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معاشرے کی اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دینی ہوگی امن وامان کا قیام یقینی بنانا اور ہر قسم کی لسانیت اور تعصبات کا خاتمہ کرنا ہوگا ۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے سردار صالح بھوتانی نے کہا کہ سپیکر ڈپٹی سپیکر قائد ایوان اور وزیراعظم کو منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے قائم ہوتے ہی حکومت قائم کی ہے یہ ہم پر عوام کا اعتماد ہے جبکہ ہم دیگر جماعتوں اور نواب ثناء اللہ زہری کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے ہماری حمایت کی ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان انتہائی پسماندگی کا شکار ہے اور ہمارے زخم اور دکھ گہرے ہیں ہماری وفاق سے امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ ان دکھوں کا مداوا کریں گے انہوں نے کہا کہ مشرف دور حکومت میں گیس رائلٹی کی مد میں سو ارب روپے منظور کرائے گئے جو ہمیں قسطوں پر ملے جس کے بعد جب ہم نے اپنے گیس کی مد میں بقایہ جات مانگے تو ہمیں مختلف حیلے بہانوں کا سامنا کرنا پڑا جب بھی وفاق سے کوئی حساب لینے جاتا ہے تو وہ ہمیں مختلف حربوں سے نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

اب گوادر کے بارے میں بھی ایسا ہی تاثر ہے یہ نہ ہو کہ وفاق ہم سے یہ کہے کہ گوادر کا پانی ٹھیک نہیں اس میں جہاز صحیح طرح سے نہیں چلتے لہٰذا ہم اس کی آمدنی نہیں دے سکتے ۔

انہوں نے کہا کہ سیندک منصوبے سے بھی ہمارے صوبے کو کچھ حاصل نہیں ہواجبکہ ریکوڈک منصوبے کا کیس جو عالمی عدالت میں ہے میں بھی ہمیں لینے دینے کے پڑے ہیں اب ایران بارڈر پر کہا جارہا ہے کہ تیل کے بڑے ذخائرموجود ہیں لیکن عالمی قوتیں یہ نہیں چاہیں گی کہ ہم اپنے وسائل سے استفادہ کریں اور وہ ا س حوالے سے سازشیں کریں گی لیکن ہمیں سوچ سمجھ کر متحد ہو کر کڑے اور سخت فیصلے کرنے پڑیں گے تاکہ بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھا جاسکے ۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان بلوچستان کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا آپ ملک کو ترقی ضرور دیں لیکن ہمیں بھوکا نہ ماریں ہمیں تعلیم پینے کے پانی پر کام کرنے کی ضرورت ہے جبکہ سندھ سے آنے والی کے تھری پائپ لائن سے بھی پانی کی فراہمی شروع کی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ لسبیلہ میں معدنیات اور زمینوں پر بھی قبضے کا نوٹس لیتے ہوئے ان کا تحفظ کریں ہم ہر مرحلے میں ان کا ساتھ دیں گے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کی خاتون رکن ڈاکٹر ربابہ نے کہا کہ امید ہے کہ نئے قائد ایوان اچھی طرز حکمرانی قائم کرتے ہوئے سب کو ساتھ لے کر چلیں گے اور حکومتی و اپوزیشن ارکان اپنی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں اچھی روایت قائم کرتے ہوئے میں اپنے پانچ سال کے پورے پارلیمانی دور کی تنخواہ کا ایک چوتھائی حصہ شہدائے پاک فوج ، ایک چوتھائی حصہ شہدائے پولیس ، ایک چوتھائی حصہ سویلین شہداء وزخمیوں اور ایک چوتھائی حصہ سپریم کورٹ کے قائم کردہ مہمند دیامر بھاشاڈیم فنڈکے لئے عطیہ کرنے کا اعلان کرتی ہوں ۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے اقلیتی رکن دنیش کمار نے کہا کہ بلوچستان کے شہداء کی قربانیوں کی بدولت ہم آج اس ایوان میں ہیں جام کمال خان کو مبارکباد دیتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ وہ صرف اپنی یا اتحادی جماعتوں کے نہیں بلکہ اس صوبے کے سواکروڑ عوام کے وزیراعلیٰ ہیں امید ہے کہ جس طرح انہوں نے لسبیلہ میں اقلیتوں کے تحفظ اور انہیں محبت سے رکھا ہوا ہے پورے صوبے میں اقلیتوں کو اسی نظر سے دیکھیں گے اور تمام مذاہب کو اپنے عقائد کے مطابق ان کی عبادت کو یقینی بنائیں گے۔

انہوں نے ہالینڈ میں نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس پر قرار داد لائی جائے اور اسے متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے گستاخوں کے منہ پر طمانچہ ماریں گے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کی ماہ جبین نے وزیراعلیٰ کومنتخب ہونے پرمبارکباد دیتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ پورا ایوان ان کے ساتھ ہے ۔

انہوں نے بلوچستان کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مسائل اجاگر اور انہیں حل کرنے کے لئے انہیں موقع دیا بلوچستان مسائل میں گھرا ہوا ہے عوام کی بہت بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے ہے اور یہ تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے ۔

دوسری جانب دہشت گردی اور امن وامان کا مسئلہ ہے مکران میں بجلی کا بحران ہے ایران سے معاہدے کے مطابق مکران کو بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور کیچ میں موبائل انٹر نیٹ سروس بحال کی جائے ۔

عوامی نیشنل پارٹی کے انجینئرزمرک خان اچکزئی نے وزیراعلیٰ جام کمال خان سپیکر و ڈپٹی سپیکر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جب میں پہلی مرتبہ2008ء میں منتخب ہو کر آیا تو نواب اسلم رئیسانی ہمارے وزیراعلیٰ تھے تب ہمارے پاس تنخواہوں کے لئے بھی پیسے نہیں ہوتے تھے ۔

ہر مہینے تمام پارلیمانی لیڈر نواب رئیسانی کی قیادت میں اسلام آباد کے چکر لگاتے تھے پھر ہماری جدوجہد سے اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ آئے جب ہمارے قائدین صوبائی خودمختاری اور پشتونخوا کے نام کا مطالبہ کرتے تھے تو انہیں غدار قرار دیا جاتا تھا مگر اٹھارہویں ترمیم کے تحت ہم نے یہ دونوں حاصل کئے ۔

این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کے وسائل میں اضافہ ہوا تحریک انصاف کے رکن مبین خان خلجی نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں سب سے بڑا مسئلہ پینے کے صاف پانی کی قلت کا ہے اورآج ہمیں خوشی ہے کہ وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے حکومت بلوچستان کینسر ہسپتال کے لئے زمین مختص کرے تو ہم کینسر ہسپتال بنائیں گے۔

کوئٹہ شہر میں تمام اقوام کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں سیٹلر کا فرق ختم کرکے انہیں بھی لوکل کادرجہ دیا جائے اس مرتبہ صاف و شفاف انتخابات ہوئے ہیں بلوچستان نیشنل پارٹی کے میر نصیر شاہوانی نے کہا کہ وزیراعلیٰ سپیکر و ڈپٹی سپیکر کو مبارکباد دیتے ہیں بلوچستان وسائل سے مالا مال صوبہ ہے لیکن پسماندگی کا شکار ہے 72سال گزرنے کے باوجود حکومتوں نے عوام کو صاف پانی میسر نہیں کیا بلوچستان زراعت کے شعبے پر انحصار کرتا ہے ۔

مگر یہاں پر زمینداروں کو صرف چھ گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے70گرڈ سٹیشن ہیں ان میں 430فیڈرز ناکارہ ہیں بلوچستان اس وقت پانچ لاکھ ٹن سیب چار لاکھ ٹن انگور چار لاکھ ٹن کھجور اور ستر اقسام کے مختلف پھل پیدا کرتی ہے مگر زمینداروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے 86فیصد لوگ غربت کی سطح سے نیچھے زندگی گزار رہے ہیں25لاکھ بچے سکول نہیں جاپاتے82فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے ۔ہمیں جو ہر سال 120ارب روپے ملتے ہیں وہ کہاں خرچ ہوتے ہیں معلوم نہیں ہے ۔ بلوچستان سیاسی قیادت بیوروکریسی کی عدم توجہی کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہے ۔

ہمیں ترقی کے نام پر دھوکہ دیا جارہا ہے اور فنڈز مسلسل ضائع ہورہے ہیں ہم حکومت سے تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن وہ ہمارے قائد سردار اختر مینگل کے چھ نکات پر عملدرآمد کرے ۔ 

بلوچستان کو صرف چھ سو میگاواٹ بجلی مل رہی ہے سی پیک میں دو منصوبے گوادر اور حب میں لگائے جارہے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہاں ٹرانسمیشن لائن ہی نہیں ہے ہمیں تیز رفتار ترقی کے لئے چار سو بلین روپے کی ضرورت ہے صوبے میں ٹریفک ، تعلیم ، پانی کا نظام درست کرنے ، سیندک و ریکوڈک پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

پٹ فیڈر سے کوئٹہ شہر کوآلودہ پانی فراہم کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں یہ منصوبہ قابل عمل نہیں ہے بی اے پی کی رکن بشریٰ رند نے کہا کہ ہمیں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اس کے ساتھ ساتھ ہمیں حکومتی کارواں کو مل کر آگے لیجانا ہے ایوان میں بحث کرنے کا مقصد لمبی تقاریر نہیں بلکہ قانون سازی ہے ہم اپنے اصل مقصد کو نہ بھولیں سپیکر نے ایوان کو آگاہ کیا کہ بلوچستان کا کل بجٹ 220ارب روپے ہے جس میں سے200ارب روپے تنخواہوں پر خرچ ہورہے ہیں ۔

ہمارے پاس ترقیاتی مد میں صرف20ارب روپے بچتے ہیں جب تک چارسال سے زیرا لتواء این ایف سی ایوارڈ اور بلوچستان کو خصوصی پیکج نہیں ملتا تو بلوچستان ترقی نہیں کرسکتا ۔ بی اے پی کے حاجی اکبر آسکانی نے نومنتخب قائد ایوان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں غریب عوام کے مسائل کو حل کرنا ہم سب کا فرض ہے ۔

ایم ایم اے کے ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کی حق تلفی نہ کرے اگر ایسا کیا گیا تو یہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ ظالمانہ عمل ہوگا امید ہے کہ اپوزیشن کو برابری کی بنیاد پر فنڈز اور سہولیات ملیں گی ۔ 

ترقی کے لئے حزب اختلاف اوراقتدار ایک ہوں گے تبھی ترقی ممکن ہے امید ہے کہ نئی آنے والی حکومت میرٹ پر فیصلے اور آئین پر عملدرآمد کرے گی ۔ایم ایم اے کے عبدالواحد صدیقی نے کہا کہ ہمیں صوبے کے نوجوانوں پر خصوصی ترقی دینے کی ضرورت ہے ۔

اگر ہم نے نوجوانوں کو روزگار نہیں دیا تو ہم تعلیمیافتہ مجرم پیدا کریں گے پی پی ایچ آئی کے اٹھارہ سو عارضی ملازمین کو مستقل کیا جائے ۔جبکہ صوبے میں قحط سالی کے خاتمے کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری اجتماعی سکیمات پر کٹ نہ لگائے جائیں ۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے احمد نواز بلوچ نے کہا کہ عوام نے ہمیں اپنے مسائل کے حل کے لئے ووٹ دے کر ایوان میں بھیجا ہے ۔

میں سریاب کے مظلوم عوام کے حقوق کی آواز بلند کرتا رہوں گا سریاب میں نہ تو سکول کالج ٹیکنیکل ادارے ہیں اور نہ ہی کوئی بنیادی صحت کے مراکز لیکن وہاں جتنے بھی روڈ بنائے گئے وہ سب ایک بارش میں بہہ گئے میں عوام کی فریاد لے کر ایوان میں آیا ہوں حکومت روڈز ضرور بنائے لیکن ان کا آڈٹ آزادانہ طور پر کیا جائے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔