کوئٹہ: کوئٹہ کے علاقے سرکی روڈ پر 27 مئی کو پولیس کے ہاتھوں مارے گئے دو دہشتگردوں کی شناخت ہوگئی۔ہلاک دہشتگردوں سے ملنے والا اسلحے کی فارنزک رپورٹ بھی آگئی ہے جس میں پتہ چلا ہے کہ یہ اسلحہ مسیحی برادری ، ہزارہ قبیلے کے افراد اور پولیس اہلکاروں سمیت 25 افراد کو قتل کرنے میں استعمال ہوا۔
بلوچستان پولیس کے محکمہ انسد اد دہشتگردی (سی ٹی ڈی )کے ترجمان کے مطابق دونوں دہشتگرد رواں سال 27 مئی کو کوئٹہ کے علاقے سرکی روڈ پر عیسیٰ خان اسٹریٹ کارنر پر دوٹریفک پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد فرار ہوتے وقت پولیس کے ایگل اسکواڈ کے اہلکاروں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ دہشتگردوں کا ایک ساتھی زخمی حالت میں فرار ہوگیا تھا۔ فائرنگ کے نتیجے میں چار راہ گیر بھی زخمی ہوئے تھے۔
واقعہ کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانہ کوئٹہ میں درج کیا گیا جس کے بعد سی ٹی ڈی نے مختلف پہلوؤں پر تفتیش شروع کی۔ ہلاک دہشتگردوں کی شناخت طارق حسین عرف محمود عرف قاری ولد محمد غمخوار اور ایاز احمد عرف سفیان ولد ریاض احمد کے نام سے ہوئی۔ دونوں مستونگ کے رہائشی تھے اور ٹارگٹ کلنگ کی درجن سے زائد وارداتوں میں ملوث تھے۔
دہشتگردوں سے دو عدد نائن ایم ایم پستول برآمد ہوئے تھے جن کا فارنزک تجزیہ کرایا گیا۔ تجزیہ رپورٹ موصول ہونے پر پتہ چلا کہ یہ اسلحہ مذکورہ واردات کے علاوہ کوئٹہ میں دہشتگردی کی دیگر پندرہ وارداتوں میں بھی استعمال ہوا۔ان وارداتوں کی تفصیل یوں ہے ۔
10 ستمبر 2017ء کو کوئٹہ چمن شاہراہ پر کچلاک کے قریب چار شیعہ افغان ہزارہ مہاجرین کی ٹارگٹ کلنگ ،22 دسمبر 2017ء کو مغربی بائی پاس ناخیل آباد میں ہزارہ برادری پر فائرنگ جس میں چار افراد زخمی ہوئے ۔
18 نومبر 2017ء کو جناح ٹاؤن میں سٹی اسکول روڈ پر ماسٹر عبدالقدوس کی ٹارگٹ کلنگ،یکم اپریل 2018ء کو قندھاری بازار میں ہزارہ شخص ،2 اپریل 2018ء کو شاہ زمان روڈ پر مسیحی برادری کے چار افراد ،18اپریل 2018ء کو عبدالستار روڈ پر شیعہ دکاندار ،28 اپریل 2018ء کو جمال الدین افغانی روڈ پر الیکٹرک کی دکان پر فائرنگ سے ہزارہ برادری کے دو افراد ،9 اکتوبر 2017ء کو اللہ ڈینہ روڈ پر ہزارہ شخص ،18 اکتوبر 2017ء کو قمبرانی روڈ پر سی ٹی ڈی انسپکٹر عبدالسلام بنگلزئی کی ٹارگٹ کلنگ،28 جنوری 2018ء کو کیچی بیگ روڈ پر درزی کی دکان میں بیٹھے اے ٹی ایف ملازم ،4 مارچ 2018ء کو علی بھائی روڈ پر ہزارہ شخص ،15 اپریل 2018ء4 کو شاہ زمان روڈ پر مسیحی برادری کے دو افراد ،26 دسمبر 2017ء کو جیل روڈ پر ایک اہل تشیع ،22 اپریل 2018ء کو مغربی بائی پاس پر ہزرہ برادری کے دو افراد اور19 مئی کو عارف سٹریٹ سریاب روڈ پر مولانا حبیب اللہ مینگل کی ٹارگٹ کلنگ میں مذکورہ ہتھیار استعمال ہوئے۔
ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کی ہلاک اور اس کے نتیجے میں ہونیوالی تفتیش کے نتیجے میں دہشتگردی کی کئی واردتوں کی تحقیقات میں بھی پیشرفت ہوئی ہے۔ یہ سی ٹی ڈی بلوچستان کی اہم کامیابی ہے اور کوئٹہ میں مذہبی فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے تدارک میں بھی ایک اہم پیشرفت ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی بلوچستان صوبے میں امن لانے اور دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے پر عزم ہے۔
کوئٹہ ،27 مئی کو سرکی روڈپر مارے گئے دو دہشتگرد وں کی شناخت ہوگئی
![]()
وقتِ اشاعت : August 30 – 2018