کوئٹہ: ڈیرہ بگٹی میں لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے ایک اور حاملہ خاتون زچگی کے دوران نومولود بچے سمیت جاں بحق ہوگئی۔ چھ ماہ کے دوران اب تک انیس خواتین اور نومولود بچے زچگی کے دوران جان کی بازی ہارچکے ہیں۔
ڈیرہ بگٹی کے پورے ضلع میں کوئی گائناکالوجسٹ یا لیڈی ڈاکٹر تعینات نہیں جس کی وجہ سے حاملہ خواتین کی جانیں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔آج صبح ایک اورخاتون اپنے نومولود بچے سمیت زچگی کے دوران مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ زندگی کی بازی ہار گئی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ ڈیرہ بگٹی کے محلہ ڑانکو الٰہ آباد کے رہائشی محمد نواز مندوانی کی جواں عمر اہلیہ حاملہ تھی۔آج جمعرات کی صبح تکلیف ہونے پر انہیں ڈیرہ بگٹی سے سوئی لے جایا گیا جہاں سے انہیں مزید علاج کیلئے ڈیرہ بگٹی سے متصل پنجاب کے علاقے صادق آباد کے ہسپتال منتقل کیاگیا۔ نومولود بچے کی جان نہ بچائی جاسکی اور وہ ماں کے پیٹ میں ہی دم توڑ گیا۔
ماں کی جان بچانے کی کوششیں بھی خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے کامیاب ثابت نہ ہوسکیں۔ڈیرہ بگٹی میں حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کی اموات معمول بن گئی ہیں۔ اس سے قبل پندرہ روز قبل نواحی علاقہ کاشی میں بھی دوران زچگی خاتون اور اس کا نومولود بچہ انتقال کرگئے تھے۔رواں ماہ ماں اور بچے کی ہلاکت کا چوتھا اور چھ ماہ کے دوران انیسواں واقعات ہوچکے ہیں۔ دوران زچگی خواتین اور بچوں کی تواتر سے ہلاکتوں پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع کی خواتین کو حاملہ ہونے کی صورت میں ڈیلیوری کیلئے سینکڑوں کلومیٹر دور پنجاب کے سرحدی اضلاع لے جاناجاتا ہے۔ضلع سے دور لے جانے کیلئے سرکاری سطح پر ایمبولنس کی فراہمی کا بھی کوئی بندوبست نہیں غریب افراد کیلئے پہلے تو دوسرے صوبے تک مریضہ کو لے جانے کیلئے گاڑی کا کرایہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح نجی ہسپتالوں کی بھاری فیسوں کی رقم کا بندوبست بھی غریب کے بس سے باہر ہے۔
بعض لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی زچگی کے کیسوں پر خرچ ہوجاتی ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ضلع میں خواتین ڈاکٹرز تعینات کرکے سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ زچگی کے دوران ماں اور بچے کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جاسکے۔
ڈیرہ بگٹی ،زچگی کے دوران ایک اور ماں ،بچہ جاں بحق
![]()
وقتِ اشاعت : August 31 – 2018