|

وقتِ اشاعت :   August 31 – 2018

کوئٹہ: متحدہ مجلس عمل کے سربراہ اور متحدہ اپوزیشن کے صدارتی امیدوار مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیراعظم کے انتخاب میں عین موقع پر ووٹ نہ دینے سے عمران خان وزیراعظم بنے ،اس عمل سے حزب اختلاف کو زخم ملا،اب پھر وہی صورت اختیار کی جارہی ہے۔

،پیپلز پارٹی کو صدارتی انتخابات میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتفاق رائے کا احترام کرنا چاہیے ، ان کے امیدوار کا حزب اختلاف کو نقصان پہنچانے کے علاوہ کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا، تحریک انصاف کو اپنی بیان بازی کی وجہ سے مشکلات اور سیاستدانوں سے زیادہ میڈیا کی تنقید کا سامنا ہے ، عمران خان کی بائیس سال کی محنت دس دن کی حکومت میں سامنے آگئی ہے ۔ 

وہ صدارتی انتخابات میں حمایت حاصل کرنے کی غرض سے کوئٹہ پہنچنے کے بعد مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر پارٹی کے جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری، صوبائی امیر مولانا فیض محمد، صوبائی جنرل سیکریٹری ملک سکندر ایڈووکیٹ، ارکان قومی اسمبلی مولانا عصمت اللہ، صلاح الدین ایوبی اور دیگر بھی موجود تھے۔ 

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پچیس جولائی کے انتخابات میں وجود میں آنیوالے سیاسی نظام پر سوالات پیدا ہوئے تو اس بات کی ضرورت پیدا ہوئی کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی مشاورت کے ساتھ ایک توازن پیدا کیا جائے۔ 

اس حوالے سے حزب اختلاف کی طویل مشاورت ہوئی ہے اور اب بھی اس بات کی کوشش جاری ہے کہ صدارتی انتخابات میں حزب اختلاف کا ایک ہی امیدوار سامنے آئے ۔اس صورت میں اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ حزب اختلاف کا نامزد امیدوار کامیاب ہوجائے ۔ 

اس حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات ہوتے ہیں خاص طور پر ایسے مرحلے میں جب سب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف انتخابی معرکہ لڑ کر باہرآئی ہو لیکن اس کے باوجود تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین اپنے زخم بھلا کر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھیں اور ملک کے جمہوری نظام اور اس حوالے سے پیدا ہونیوالے سوالات پر ایک مؤقف اختیار کیا ۔ 

انہوں نے کہا کہ متحدہ حزب اختلاف نے اس جذبے اور فلسفے کے تحت کہ میں سب کیلئے قابل قبول مشترکہ امیدوار بن سکتا ہوں مجھ پر اعتماد کیا ہے اور اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ آل پارٹیز کانفرنس سے وابستہ جماعتیں ہوں یا اس سے باہر ، سب سے ہم رابطہ کررہے ہیں اور اپنا مؤقف ان کے سامنے رکھ رہے ہیں ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی سیاست میں توازن پیدا ناگزیر ہے اس لئے حزب اختلاف کے نمائندوں کو حمایت دی جائے ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بلوچستان کی معتبر سیاسی جماعتوں کی ہمیں حمایت حاصل ہیں ۔

مسلم لیگ ، پشتونخواملی عوامی پارٹی ،اے این پی اور قومی وطن پارٹی نے بھی ہماری حمایت کی ہے۔ سردار اختر جان مینگل کے ساتھ میرا خود رابطہ ہوا ہے وہ بھی تشریف لارہے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام اور بی این پی کے درمیان انتخابی اتحاد تھا اور اس وقت بھی ہمارے درمیان ایک مفاہمت موجود ہے ہمیں ہے کہ اس مفاہمت کے نتیجے میں وہ ہماری حمایت کریں گے۔ 

اسی طرح حاصل بزنجو اور ان کی جماعت نیشنل پارٹی نے بھر پور طور پر ہماری حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ حزب اختلاف کا ایک ہی نمائندہ ہونا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی ہمارے رابطے ہیں اور گفتگو چل رہی ہے اور ان کو اس بات پر آمادہ کیا جارہا ہے کہ وہ متحدہ حزب اختلاف اورآل پارٹیز کانفرنس کے نمائندے کا انتخاب کرکے ایک متحدہ امیدوار کیلئے قربانی دیں اور اس کی کامیابی کے امکانات کو روشن کریں۔ 

انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنے کے اعلان کے بعد اسی نتائج کے نتیجے میں وجود میں آنیوالی پارلیمنٹ سے صدارتی انتخابات میں ووٹ لینے سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انتخابات میں بد ترین دھاندلی، نتائج کو تسلیم نہ کرنا ، الیکشن کمیشن کی ناکامی اور اس کے استعفے کا مطالبہ صرف میرا مؤقف نہیں ببلکہ بشمول پیپلز پارٹی کے تمام سیاسی جماعتوں کا مشترکہ مؤقف رہا ہے ۔ 

ہم تو اسمبلی میں جانے اور حلف اٹھانے کے روادار بھی نہیں تھے لیکن تمام جماعتوں نے جب بیٹھ کر صورتحال کا جائزہ لیا تو زمینی صورتحال یہ تھی کہ تحریک انصاف اکثریتی جماعت نہیں بلکہ ایک بڑا گروپ تھا۔ اس اعتبار سے حزب اختلاف کی جماعتوں نے سوچا کہ ہم حکومت بناسکتے ہیں ۔

لہٰذا ہم اپنا وزیراعظم، اپنا اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر لائیں گے۔ جس وقت حزب اختلاف اس نتیجے پر پہنچی کہ ہم دھاندلی کے نتیجے میں آنے والی جماعت کو شکست دے سکتے ہیں اور ہم عوام کے ایک معتبر نمائندگان پر مشتمل حکومت بناسکتے ہیں تو ظاہر ہے کہ پھر ان کو کامیاب بنانے کیلئے اسمبلیوں میں جانا اور حلف اٹھانا ناگزیر ہوگیا ۔

اس کے بغیر ہم وزیراعظم اور اسپیکر کو کیسے ووٹ دیتے۔ اس لئے تمام جماعتوں کی مشترکہ سوچ کی ہم نے پیروی کی اور اس کے نتیجے میں ہم اسمبلیوں میں گئے ہیں اور آج کا انتخابی معرکہ وہ بھی اسی جذبے او ر فلسفے کی پیروی ہے۔ 

ایک اور سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت پر ان کے اپنے اراکین نے شب خون مارا ،اپنی ہی پارٹی چلی گئی اور صرف تین اراکین رہ گئے تو پھر حزب اختلاف کے بارے میں کیا تاثر ہوتا کہ اپنی پارٹی تو انہیں رد کررہی ہے اور وہ وزیراعلیٰ نہیں رہنے دینا چاہتی لیکن حزب اختلاف وہ بہت فرینڈلی ہوگئی ہے اور اس کے اور عزائم ہوگئے ہیں ۔

اس لئے ظاہر ہے جب حکومتی اکثریت خود اپوزیشن میں آگئی تو ہمارا تو کام ہی اپوزیشن تھا۔اپوزیشن کے اختلافات سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم وزیراعظم ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے مرحلے کے بھی زخم خوردہ ہے یعنی اگر پیپلز پارٹی اپنا ووٹ استعمال کرتی تو حزب اختلاف کی کامیابی یقینی تھی۔ 

میاں شہباز شریف اور عمران خان کے درمیان جتنے ووٹوں کا فاصلہ تھا اگر پیپلز پارٹی کا ووٹ پڑ جاتا تو شہباز شریف کی کامیابی یقینی تھی۔ عین موقع پر ووٹ استعمال نہ کرنا بھی عمران خان کی کامیابی کا سبب بنا۔جس سے حزب اختلاف کو تھوڑی شکایت ہوئی اور زخم ملا ان کو۔ اب پھر دوبارہ وہی صورت اختیار کی جارہی ہے ۔ اس قسم کی صورتحال سے بچنے کیلئے پیپلز پارٹی کو حزب اختلاف کی جماعتوں کے تفاق رائے کا احترام کرنا چاہیے۔

ان کا امیدوار صرف ایک پارٹی کے امیدوار ہے جبکہ میںیہاں دو اتحادوں کا نمائندہ ہوں ایک متحدہ مجلس عمل کا اور ایک آل پارٹیز کانفرنس کا۔انہوں نے کہا کہ ہم پیپلز پارٹی سے برابر رابطے میں ہیں ۔ دو وفود ان کے ہمارے پاس آچکے ہیں اور ہمارے دو وفود ان کے پاس جاچکے ہیں۔ 

خورشید شاہ سے آج بھی فون پر رابطہ ہوا۔ آصف زرداری صاحب کو پیغام بھیج رہا ہوں کہ وقت گزررہا ہے کہ آپ کا امیدوار جو صرف ایک پارٹی کا امیدوار ہے سوائے اس کے حزب اختلاف کو نقصان ہوگا اس کا کوئی فائدہ ہمیں نظر نہیں آرہا۔ 

ہماری بات چیت چل رہی ہے ہماری کوشش ہے کہ حزب اختلاف جس طرح آل پارٹیز میں شریک رہی ہے اور جس طرح تمام فیصلے مشاورت سے ہوتے رہے ہیں یہ فیصلہ بھی اسی مشاورت کا شاہکار ہونا چاہیے ۔ 

”آصف زرداری کا اپوزیشن پر اعتماد نہیں یا پھر وہ کیسز سے بچنے کیلئے اپوزیشن کا ساتھ نہیں دینا چاہتے” اس سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آپ صحافی اس مرحلے پر ایسے مشکل سوالات کرلیتے ہیں ،نہ تو خود اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنا چاہتا ہوں اور نہ اپنے دوست کو مشکل میں ڈالنا چاہتا ہوں۔ 

ہمارا مؤقف تفصیل کے ساتھ ان کے سامنے آچکا ہے اور زمینی حقائق بھی ان پر آشکار ہیں تواس اعتبار سے ظاہر ہے وہ بھی سیاسی لوگ ہیں اور سیاسی حوالے سے صورتحال کو ٹھیک ٹھاک سمجھتے ہیں تو مجھے آصف علی زرداری ضرور توقع ہے۔ 

صرف آصف زرداری سے ہی نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہماری جمہوریت کیلئے جدوجہد میں ہماری طویل رفاقت رہی ہے ارہم ذاتی طور پر ایک دوسرے سے اپنی دوستی کا اظہار کھل کر کرتے ہیں اس حوالے سے بھی مجھے ان سے یہی توقع ہے کہ وہ دوستی کے تقاضوں پر پورا اتریں گے۔

ہیلی کاپٹر اخراجات سے متعلق سوال پر متحدہ مجلس عمل کے سربراہ نے کہا کہ میرے خیال سے ہمارے ملک کی سیاست کو اسی قسم کی باتوں نے بے توقیر کیا ہے ۔ان چیزوں سے ملک کی معیشت بہتر ہوا نہیں کرتی۔ ملک معیشت انتہائی سنجیدگی ، پوری گہرائی اور مضبوط پالیسی کے ساتھ تبدیل کی جاسکتی ہے۔ 

ایک وقت کی روٹی نہ کھانے یا ایک بجائے آدھی روٹی کھانے کے بیانات سے ملکی معیشت بہتر نہیں ہوسکتی، معاشی نظام چلانے کا یہ طریقہ نہیں ہوتا ۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ محنت کتنی ہے اور کتنی دیانت کے ساتھ ہے ، تجارت اور آمدن میں کس طرح اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔

ہمیں ملک کا سوچنا ہوگا کہ کس طرح اسے خود انحصاری کی طرف لائے۔ پاکستان کے اپنے وسائل بہت زیادہ ہیں لیکن ہمار انحآر قرضوں اور باقی دنیا پر ہے ۔جہاں یہ باتیں کہیں جاتی رہیں کہ ہم پاکستان کے وسائل کی بنیاد پر ملکی معیشت کو استوار کرینگے ۔

وہاں انتخابات میں کامیابی ملتے ہی پی ٹی آئی نے پہلا بیان یہ دیا کہ آئی ایم ایف کے پیکیج کے بغیر ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تو سوال اٹھتا ہے کہ سب سے پہلے اس طرح کا پیغام دے کر یہ لوگ اپنی قوم اور دنیا کے سامنے کس طرح اپنے نظریے کی ترجمانی کررہے ہیں ؟۔


حزب اختلاف کی جانب سے تحریک انصاف کی حکومت کیلئے ابتداء میں مشکلات پیدا کرنے سے متعلق صحافی کے سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میرے خیال اس وقت صورتحال وہ نہیں جس کا آپ حوالے دے رہے ہیں ۔ 

اس وقت حکومت خود اپنے مقابلے میں سوالات اٹھارہی ہے اور اس کو اپنے الفاظ سے جنگ ہے۔ یہ لوگ آج جو کچھ کہتے ہیں کل وہی ان کیلئے مشکل کا سبب بن جاتا ہے ۔پی ٹی آئی کی حکومت کا بحران ان کے اپنے رویے ، اپنی گفتگو اور اپنا لب و لہجہ ہے ۔

کسی نے ان کو نقصان نہیں پہنچایا اور نہ ہی ان پر کوئی ایسی تنقید کررہا ہے ۔ میرے خیال میں سیاستدانوں سے زیادہ میڈیا ان پر تنقید کررہا ہے ۔عدم تجربہ کاری ہی ان کیلئے مسئلہ بناہوا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کی اب تک کی کارکردگی سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بائیس سال کی محنت انہوں نے دس دن میں ایکسپوز کردی ہے۔