کوئٹہ: تحریک انصاف بلوچستان میں صوبائی حکومت میں شمولیت کے معاملے پر دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی۔صوبائی صدر یار محمد رند کی مخالفت کے باوجود جہانگیر ترین کی ایماء پر تین ایم پی ایز حکومتی بنچوں پر بیٹھ گئے اور حکومتی عہدے بھی حاصل کرلئے۔
یار محمد رند پارٹی میں مداخلت پروزیراعلیٰ بلوچستان سے بھی ناراض ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف بلوچستان اندرونی اختلافات کا شکار ہوگئی۔صوبائی صدر سردار یار محمد رند نے مرضی کی وزارتیں نہ ملنے پر صوبائی کابینہ کا حصہ نہ بننے اور بلوچستان اسمبلی میں حکومتی بنچوں کی بجائے آزاد بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا مگر پارٹی کے تین ایم پی ایز نے نصیب اللہ مری کی قیادت میں بغاوت کردی اورحکومتی بنچوں پر بیٹھ کر ڈپٹی اسپیکر اور صوبائی وزیر کے عہدے حاصل کرلئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں ارکان اسمبلی جہانگیر ترین کی ایماء پر صوبائی قیادت کے فیصلوں کو نظر انداز کرکے بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت کررہے ہیں۔جہانگیر ترین کی جانب سے صوبائی فیصلوں میں مداخلت پر سردار یار محمد رند سخت ناراض ہیں اور اس کا اظہار انہوں نے ان کے دورہ کوئٹہ کے موقع پر بھی کیا۔
ایئر پورٹ کے باہر پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا کے سامنے آنے سے گریز کیا اورگاڑی میں ہی موجود رہے۔ اختلافات کے سوال پر جہانگیر ترین نے بھی واضح کردیا کہ پارٹی فیصلوں کا اختیار عمران خان کے علاوہ کسی کے پاس نہیں۔
یہ طے کرنا عمران خان کا کام ہے کہ پارٹی کی کی کہاں کیا پالیسی ہوگی اور ان کے فیصلے کے ہم سب تابع ہیں۔ سردار یار محمد رند وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور بلوچستان عوامی پارٹی سے بھی سخت ناراض ہیں اسی لئے عارف علوی اور پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ جام کمال سے ملاقات کیلئیوزیراعلیٰ ہاؤس جانے سے بھی انکار کیا۔ نعمت اللہ زہری اور عمر جمالی بھی صوبائی صدر کے مؤقف کے حامی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یار محمد رند صدارتی انتخابات کے بعد سخت مؤقف اختیار کرینگیاوربلوچستان عوامی پارٹی اور اپنی پارٹی کی مرکزی قیادت کو ٹف ٹائم دینگے۔
مخلوط حکومت میں شمولیت،پی ٹی آئی بلوچستان دو حصوں میں تقسیم
![]()
وقتِ اشاعت : August 31 – 2018