|

وقتِ اشاعت :   September 6 – 2018

کوئٹہ: تحریک انصاف بلوچستان کی کابینہ ، صوبائی کونسل ، ڈویژنل اور اضلاع کے صدور نے پارٹی کی مرکزی قیادت اور بلوچستان حکومت کی جانب سے نظر انداز کرنے پر فیصلہ کن اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں پارٹی کے چیئرمین وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرکے تحفظات سے آگاہ کیا جائیگا۔ 

عمران خان نے تحفظات دور نہ کئے تو اسلام آباد میں احتجاج کیا جائیگا۔ کوئٹہ میں تحریک انصاف کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔اجلاس میں پارٹی کی صوبائی کابینہ اور صوبائی کونسل کے اراکین نے شرکت کی۔ پارٹی کے صوبائی ترجمان بابر یوسفزئی کے مطابق اجلاس میں کابینہ اور کونسل کے ارکان، ڈویڑنل اور ضلعی صدور نے شرکت کی جنہوں نے تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں سردار یار محمد رند کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ 

صوبائی کابینہ اور صوبائی کونسل نے صوبائی حکومت بالخصوص بلوچستان عوامی پارٹی پر شدید تحفظات ناراضگی کا اظہارکیا۔ ترجمان کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے عام انتخابات ہماری کی مخالفت کی اور ہر جگہ پی ٹی آئی کے مقابلے میں امیدوار کھڑے کئے۔ 

انتخابات میں پی ٹی آئی کو شدید نقصان پہنچانے والی جماعت آج ہماری اتحادی جماعت بن گئی ہے جس پر پارٹی کے رہنماؤں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس اکثریتی رہنماؤں نے یہ فیصلہ کیا کہ صوبائی کابینہ ، صوبائی کونسل ، تمام ڈویڑنل صدور، اضلاع کے صدور چیئرمین عمران خان سے ملاقات کرکے اپنے تحفظات ان تک پہنچائیں گے۔ 

دوسری جانب اجلاس میں شرکت کرنے والے پی ٹی آئی کے ایک رہنماء نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ اجلاس میں سردار یار محمد رند پارٹی کی مرکزی قیادت بالخصوص جہانگیر ترین سے شدید نالاں نظر آئے اور قرار دیا کہ مرکزی قیادت نے جہانگیر ترین کی ایماء پر بلوچستان سے متعلق ہونیوالے فیصلوں پر صوبائی قیادت کی رائے کو اہمیت نہیں دی۔ 

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بھی بلوچستان حکومت میں کابینہ تشکیل دیتے ہوئے اتحادی جماعت کے صوبائی سربراہ کی حیثیت سے سردار یار محمد رند کو اعتماد میں نہیں لیا اور ان کے مطالبات پر عملدرآمد کرنے کے بجائے پارٹی کے ایک دھڑے کو وزارت دے کر حمایت حاصل کی۔ 

پی ٹی آئی بلوچستان میں صوبائی حکومت کی سب سے بڑی اتحادی جماعت ہے مگر اس کے باوجود اہم فیصلوں میں اسے نظر انداز کیا گیا۔ کابینہ اور کونسل کے ارکان کی اکثریت نے بھی صوبائی صدر کے مؤقف تائید کی۔ 

ارکان کا کہنا تھا کہ پارٹی کو ٹھیکہ داری طرز پر نہیں چلایا جاسکتا۔ جہانگیر ترین نے فرد واحد کی حیثیت سے نہ صرف انتخابات میں بلوچستان میں پارٹی ٹکٹس کی تقسیم کے فیصلے کئے بلکہ انتخابات کے بعد بھی حکومت سازی سے متعلق پارٹی کے مفادات اور صوبائی قیادت کے فیصلوں کو مقدم نہیں رکھا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی بلوچستان کی کابینہ ، صوبائی کونسل کے ارکان، ڈویژنل اور ضلعی صدور ایک مشترکہ وفد کی صورت میں اسلام آباد میں پارٹی کے سربراہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرینگے اور انہیں پارٹی کی مرکزی قیادت اور بلوچستان حکومت کے رویے سے متعلق اپنے تحفظات سے آگاہ کریں گے۔ 

عمران خان نے تحفظات دور نہ کئے تو اسلام آباد میں ہی پریس کانفرنس کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کیا جائیگا اور دوسرے مرحلے میں مطالبات منوانے کیلئے احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے اور ضرورت پڑی تو دھرنا بھی دیا جائیگا۔