|

وقتِ اشاعت :   September 12 – 2018

کوئٹہ: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی41واشک کے دو پولنگ اسٹیشن پر دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دے دیا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خیبر پشتونخوا، سندھ اور پنجاب پر مشتمل تین ممبران نے یہ فیصلہ اسلام آباد میں پی بی 41واشک پر ہارنیوالے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار میر مجیب محمد حسنی کی درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔

الیکشن کمیشن نے حکم دیا کہ پی بی41واشک کے دو پولنگ اسٹیشن سرآپ اور پشتکو پر دوبارہ انتخاب کرایا جائے۔ اس حلقے پر متحدہ مجلس عمل کے زابد علی ریکی 12807ووٹ لیکر کامیاب ہوئے تھے۔

انہوں نے صرف 219 ووٹوں کے فرق سے مجیب الرحمان محمد حسنی کو شکست دی۔زابد علی ریکی کے وکیل کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے سماعت کے دوران اس فیصلے کی مخالفت کی اور اپیل کی تھی کہ ان کے مؤکل کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔

25جولائی کے عام انتخابات میں پاک ایران سرحد سے ملحقہ بلوچستان کے ضلع واشک کے پْشتکو اور سرآپ نام کے دوپولنگ اسٹیشنز کے ووٹ ریٹرننگ آفیسر نے پی بی 41 کے حتمی نتیجے میں شامل نہیں کئے کیونکہ متعلقہ پریزائیڈنگ آفیسر زنے حلفیہ بیانات دیئے تھے کہ حساس علاقے میں واقع ان دو پولنگ اسٹیشنز پر ووٹ استعمال نہیں ہوئے اورمسلح افراد نے ان سے بیلٹ پیپرز چھین کر اس پر مہر لگا کر واپس کئے۔

واضح رہے کہ ان پولنگ پولنگ اسٹیشنز کے ووٹ بیشترہارنیوالے امیدوار مجیب الرحمان حمد حسنی کے حق میں پڑے تھے اورگنتی میں شمار نہ ہونے کی وجہ سے وہ ہار گئے۔مجیب محمد حسنی نے الیکشن کمیشن میں ارباب طاہر ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ پشتکو اور سرآپ نامی دو پولنگ اسٹیشنزکے ووٹ صوبائی حلقے پی بی 41 کے نتائج میں شامل نہیں کئے گئے مگر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 270میں شمار کئے گئے۔

ایم ایم اے کاامیدوار صرف 219 ووٹوں کے فرق سے جیتا ہے 160جبکہ ان دو پولنگ اسٹیشنز میں 315 ووٹ ڈالے گئے مگر ریٹرننگ آفیسر نے ان 315 ووٹوں کو گنتی میں شمار نہیں کیاجس کی وجہ سے نتیجہ تبدیل ہوگیا ۔

الیکشن کمیشن نے اس درخواست پر پی بی41کا نتیجہ روک دیا تھا۔ریٹرننگ آفیسر اور ڈسٹرکٹ ریٹرنگ آفیسر سمیت فریقین کے دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا کہ دونوں متنازعہ پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخاب کریا جائے۔