|

وقتِ اشاعت :   September 12 – 2018

کوئٹہ: سینیٹ میں بلوچستان کی ایک خالی نشست پر ضمنی انتخاب آج ہوگا۔ سرفراز بگٹی کا مقابلہ جے یو آئی اورسابق نگراں وزیراعلیٰ علاؤ الدین مری سے ہوگا۔عمران خان نے سرفراز بگٹی کی حمایت کردی۔

بلوچستان سے سینیٹ کی ایک نشست میر نعمت اللہ زہری کے مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ انہوں نے عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشست جیتنے کے بعد سینیٹ کی جنرل نشست سے استعفیٰ دیا تھا جس کی مدعیت مارچ2021ء تک ہے۔خالی نشست پر ضمنی انتخاب کیلئے آج بلوچستان اسمبلی میں صبح دس بجے سے شام چار بجے تک پولنگ ہوگی۔

65ارکان اسمبلی میں سے 61ارکان صوبائی اسمبلی اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔صوبائی الیکشن کمشنر نیاز بلوچ پریزڈائنگ آفیسر کے فرائض انجام دینگے ۔اس خالی نشست پر بلوچستان عوامی پارٹی کے سرفراز بگٹی، متحدہ مجلس عمل کے رحمت اللہ کاکڑ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ساجد ترین ایڈووکیٹ، آزاد امیدوار سابق نگراں وزیراعلیٰ علاؤ الدین مری، میر غلام دستگیر بادینی اور تحریک انصاف کے میر عامر رند نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بلوچستان عوامی پارٹی کی درخواست قبول کرتے ہوئے اس نشست پر سرفراز بگٹی کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے اس فیصلے سے وزیراعظم ہاؤس سے پی ٹی آئی کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند کو آگاہ کردیا ہے اور انہیں ہدایت کردی ہے کہ میر عامر رند کو دستبردار کرایا جائے۔

اسی طرح اپوزیشن کی بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل ) نے منگل کو متحدہ مجلس عمل کے رحمت اللہ کاکڑ کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں اپنے امیدوار ساجد ترین کو دستبردار کرادیا ہے۔

یہ فیصلہ دونوں جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا جس میں بی این پی کے ثناء اللہ بلوچ، ساجد ترین ایڈووکیٹ، رؤف مینگل، ملک نصیر شاہوانی، متحدہ مجلس عمل کے مولوی نور اللہ ،ملک سکندر ایڈووکیٹ، عبدالواحد صدیقی، اصغر ترین اور یونس زہری نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے آزاد امیدوار میر غلام دستگیر بادینی سرفراز بگٹی کے حق میں دستبردا رہوگئے ہیں۔

اس طرح سینیٹ کی خالی نشست پر انتخاب میں صرف تین امیدوا ر رہ گئے ہیں جن میں سرفراز بگٹی ، رحمت اللہ کاکڑ اور علاؤ الدین مری شامل ہیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے سرفراز بگٹی کو اتحادی جماعتوں تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کی حمایت حاصل ہے اس لئے ان کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں تاہم انہیں بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے عبدالقدوس بزنجو کی سربراہی میں ایک دھڑے کی مخالفت کا سامنا ہے ۔ یہ دھڑا سابق نگراں وزیراعلیٰ علاؤ الدین مری کو کامیاب کرانا چاہتا ہے۔