کوئٹہ: بلوچستان میں مزید 43 فراری کالعدم تنظیموں کو چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہو گئے ۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کہتے ہیں ناراض بلوچوں نے غربت اور پسماندگی کی وجہ سے پہاڑوں کا رخ کیا ، ہم اپنی کوتاہی کا اعتراف کرتے ہیں۔
ہتھیار ڈالنے کی تقریب بلوچستان اسمبلی کے سبزہ زار پر تقریب ہوئی جس کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میر جام کمال اور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ تھے جبکہ صوبائی وزراء ، اراکین اسمبلی ،آئی جی ایف سی آئی جی پولیس سول اور عسکری حکام نے بھی شرکت کی۔
تقریب میں کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بی ایل اے ، بی ایل ایف ، لشکر بلوچستان ،بی آر اے سمیت مختلف کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 43 فراری کمانڈر سرنڈر کرکے قومی دھارے میں شامل ہو گئے اور اپنے ہتھیار سرکار کے حوالے کر دئیے ۔سرنڈر کرنے والے فراری کوہلو ،ڈیرہ بگٹی ، خضدار ، ہرنائی میں فورسز، عام شہریوں اور حکومتی تنصیبات پر حملے کرتے تھے ۔
تقریب میں موجودہ اور سابقہ 265 فراریوں میں حکومت کی جانب سے امدادی رقوم بھی تقسیم کی گئیں۔ہتھیار ڈالنے والے فراریوں کا کہنا تھا کہ وہ بہک گئے تھے اور پہاڑوں میں وقت ضائع کیا ، ہتھیار ڈالنے کے بعد اب اچھی زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے بہکے باقی ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ وہ ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہو جائیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا،پسماندگی کی وجہ سے ناراض بلوچ ریاست کے مخالف ہو گئے تھے،عام انسان کی مجبوریاں لاچاری مسائل بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ووٹر مسائل کے حل کے لئے ہمیشہ اپنے نمائندوں اور حکومت کی جانب دیکھتے ہیں شاید ہم اپنے ووٹروں کے مسائل حل نہیں کر سکے آج ہم اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہیں ۔جام کمال نے کہا کہ آنے والے دور میں بلوچستان تبدیل ہو گا موجودہ صوبائی حکومت حالات کی تبدیلی کے لئے کوشاں ہے۔
ہم پر بہت بڑی ذمہ داری ہے ہم نے مل کرمسائل کے حل کی طرف جانا ہے، نہیں قوم کو بھی مسائل کے حل لئے حکومت کا ساتھ دینا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ آج سوشل میڈیا کا دور ہے بلوچستان کے عوام اپنے مسائل سے زیادہ بہتر طریقے سے آگاہ ہیں ہماری سیاسی جماعتوں نے صوبے کی بہتری کے لئے بہت باتیں کی ہیں، عوام کو صحت پانی اور دیگر سہولیات دیکر عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ مسائل کے حل کے لئے سیاسی مائنڈ بنانے اور جذبے کی ضرورت ہیہر انسان اپنے اندر آگے جانے کی سوچ رکھتا ہے اگر سہولیات مل جائیں تو کوئی پہاڑ پر نہیں جائے گا ،ہم نے پوری قوت سے کام کرنا ہے آنے والا بلوچستان ماضی سے بہتر ہو گا۔
جام کمال نے کہا کہ لالچ خوف میں آنا انسان کی فطرت ہے مخالفین معصوم افراد کو عارضی طور پر ورغلانے میں کامیاب ہوئے مکمل نہیں، ہمیں اب سماجی ترقی کے لئے کام کرنا ہو گاعوام خوش ہوں گے تو حکومت بھی کامیاب تصور ہوگی ،ہمیں اپنی سیاست میں بھی تبدیلی لا کر صوبے کو آگے لے جانے کے لئے سنجیدگی دکھانا ہو گی۔
43افراد قومی دھارے میں شامل ،پسماندگی کی وجہ سے ناراض بلوچ ریاست کے مخالف ہوگئے تھے ، وزیر اعلیٰ
![]()
وقتِ اشاعت : September 19 – 2018