کوئٹہ: اسسٹنٹ کمشنر سٹی ثانیہ صافی کیساتھ وکلاء کے نارواسلوک کیخلاف سول سوسائٹی کا کوئٹہ پریس کلب کے باہر مظاہرہ ۔
مظاہرہ کے شرکاء نے اے سی سٹی کے حق میں بینرز اٹھا رکھے تھے ۔ مظاہرے کے شرکاء سے رہنماؤں کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک میں قانون سب کیلئے یکساں ہے وکلاء کی جانب سے قانون کی دھجیاں اڑاکرکارسرکار میں داخلت کرنا افسوسناک ہے وکلاء براری کی جانب سے خواتین اسسٹنٹ کمشنر کی تذلیل کرکے ان کیلئے جس طرح کے نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے ۔
مہذب معاشرے میں کوئی بھی پڑھا لکھا شخص اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیہ پلازہ کے اندر وسیع پارکنگ ہونے کے باجود وکلاء کی جانب سے گاڑیاں روڈ پر کھڑی کرنا وکلاء گردی کے سوا کچھ نہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے تجاوزات کیخلاف بلاامتیاز کارروائی پر سیخ پا ہونے کے بجائے صبح شام قانون کی بالادستی کے دعوے کرنے والوں کو اے سی کا ساتھ دینا چایئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء کی جانب سے بلا جواز احتجاج سے ایماندار افسروں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے ۔
حکومت ایک طبقہ کی خاطر اسسٹنٹ کمشنر کو عہدے سے برطرف کرنے کی بجائے وکلاء کو قانون پر عمل کرنے کا پابند بنائے انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے وکلاء کے بلاجواز احتجاج پر سوموٹو نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ۔
کوئٹہ، خاتون اے سی کے ساتھ ناروا سلوک کیخلاف سول سوسائٹی کا احتجاج
![]()
وقتِ اشاعت : September 30 – 2018