کوئٹہ: بلوچستان کی خواتین وکلاء رہنماؤں نے کہا ہے کہ وکلاء کے خلاف جھوٹی اور غیر قانونی ایف آئی آر درج کی گئی ہے اس کو فوری طور پر ختم کیا جائے ۔
اسسٹنٹ کمشنر اور اس کے عملے کو گرفتار کیا جائے اگر ایسا نہ کیا تو ہم سخت اقدام اٹھانے پر مجبور ہونگے جس کی تمام تر ذمہ دای انتظامیہ پر عائد ہوگی۔بلدیہ پلازہ کے سامنے پارکنگ کے لئے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اور ڈی سی کوئٹہ کی تحریری ا جازت ہمارے پاس ہے ۔
ان خیالات کا اظہا خواتین وکلاء رہنماؤں قمر النساء ایڈووکیٹ نے کچہری بارروم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر وکلاء رہنماء بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ بلدیہ پلازہ کے سامنے پارکنگ کیلئے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور ڈی سی کوئٹہ کی تحریری اجازت ہے ایک ہی واقعہ کی دو ایف آئی آر درج کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے ۔
اسسٹنٹ کمشنر سٹی ایف آئی آر میں نامزد ہیں اسکے باوجود انکی مدعیت میں دوسری ایف آئی آر درج کی گئی بیوروکریسی میں لوگ آکر خود کو خدا سمجھنے لگتے ہیں2اکتوبر تک اے سی کوئٹہ کو گرفتار نہ کیا گیا تو وزیراعلی ہاؤس کا گھیراؤ کرینگے۔
تمام معاملے میں ایس ایچ او کا رویہ معتصبانہ رہاایس ایچ او سٹی تھانہ کو گرفتار کرکے کاروائی کی جائے خواتین وکلا وکلا برادری کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تجاوزات کی آڑ میں وکلاء کو نشانہ بنا یا گیا جبکہ اے سی کو یہ علم ہی نہیں کہ تجاوزات میں دکانوں کے سامنے کھڑی ریڑھیاں اور پتھارے وغیر آتے ہیں نہ کہ پارکنگ ٹریفک کے حوالے سے سارے امور ٹریفک پولیس کے دائرہ کار میں آتے ہیں ۔
اے سی یا کسی اورادارے کو با لکل اختیار نہیں کہ کسی شہری کی گاڑی کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچائے جیسے ہمارے سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء کی گاڑیوں کے ٹائر برسٹ کئے گئے یہ ناصرف غیر قانونی عمل بلکہ قابل جرم فعل ہے جبکہ نو پارکنگ کیلئے قانون موجود ہے۔
خواتین وکلاء کا اے سی سٹی کی عدم گرفتاری کیخلاف وزیراعلی ہاؤس کا گھیراؤکا اعلان
![]()
وقتِ اشاعت : September 30 – 2018