|

وقتِ اشاعت :   October 5 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں افسران کے پرموشن اورہمسایہ ممالک سے پھلوں اور سبزیوں کی روک تھام سے متعلق اقدامات کا فیصلہ عدالتی حکم پر انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی تعمیرکرانے کا فیصلہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سرداسر بابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں پشتونخوا میپ کے رکن نصراللہ زیرے کا یوان میں توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے ہوئے کہنا تھاکہ صوبائی پروموشن اور سلیکشن بورڈ کا آخری اجلاس چیف سیکرٹری بلوچستان کی زیر صدارت29مئی2018ء کو منعقدا تھا جس کے منٹس تقریباً تین ماہ کی تاخیر سے 3اگست2018ء کو جاری ہوئے اور اب تقریباً چارماہ گزرنے کے بعد تاحال صوبائی پروموشن اور سلیکشن بورڈ کا کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا حکومت اس بارے میں کیا اقدامات اٹھانے کاارادہ رکھتی ہے جس پر صوبائی وزیر خزانہ میر عارف محمد حسنی کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صوبائی سلیکشن بورڈ کا اجلاس منعقد نہیں ہوا چیف سیکرٹری سے بات کرکے جلد ہی اجلاس طلب کرلیا جائے گا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی ملک نصیر شاہوانی کا بلوچستان کے زمینداروں کے مسائل اور سرحدی علاقوں سے غیر قانونی درآمدات کی روک تھام سے متعلق تحریک التوء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارے صوبے میں اسی فیصد عوام کا روزگاراور صوبے کی معیشت کادارومدار زراعت پر ہے ہمارے صوبے میں سیب ، انگور ، کھجور ، پیاز ، ٹماٹر کی سالانہ پیداوار لاکھوں ٹن ہے مگر ایک جانب ان کی قیمتیں نہ ہونے کے برابر ہیں تو دوسری جانب مختلف پھل اور سبزیاں جب تیار ہوتی ہیں تو غیر قانونی طور پر ہمسایہ ممالک سے سبزیا ں اور پھل لائے جاتے ہیں جس سے ہمارے زمینداروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے حکومت زمینداروں کے مفادات کا تحفظ کرتے غیر قانونی انداز میں پھل اور سبزیاں کی درآمد کا سلسلہ روکنے کیلئے اسلام آباد جا کر حکام سے بات کرکے زمینداروں کو مزید نقصانات سے بچا ئے، صوبائی مشیر مٹھا خان کاکڑ نے زمینداروں کو تجویز دی کہ وہ باغات و زمینداری چھوڑ دیں تاکہ عوام اور حکومتوں کو ان کی مشکلات کا احساس ہو ۔ جمعیت علماء اسلام کے اصغرخان ترین کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارے زمیندار شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں سال بھر بھرپور محنت کے باوجود فائدہ تو درکنار انہیں نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت صوبے میں فوری طور پر خشک سالی کے حوالے سے ایمرجنسی نافذ کرے ہمسایہ ممالک سے پھل لانے پر پابندی عائد کی جائے ۔ پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے کا کہناتھا کہ جب ہمارے اپنے صوبے میں پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار لاکھوں ٹن ہے تو پھر ہمسایہ ممالک سے انہیں لانے کی اجازت دے کر ہمارے زمینداروں کا معاشی قتل کیا جاتا ہے ہمسایہ ممالک میں ہمارے پھلوں اور دیگر اجناس پر بھاری ٹیکس ہیں مگر وہاں سے لائے جانے والے پھلوں اور سبزیوں پر کوئی ٹیکس نہیں حکومت نے زرعی ٹیوب ویلوں کو سولر پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر اب تک یہ بھی نہیں ہوسکا زرعی ٹیوب ویلوں پر بھاری سبسڈی بھی دی جارہی ہے اس جانب توجہ دی جائے بلوچستان عوامی پارٹی کے محمدخان لہڑی کا کہنا تھا کہ نصیرآباد ڈویژن میں پچاس ہزار ایکڑ پر ٹماٹر کاشت کیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں ٹماٹر تیار ہونے کے ساتھ ہی ہمسایہ ممالک سے ٹماٹر لانے سے ہمارے زمیندار مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں ۔صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران کا کہنا تھا کہ زمینداروں سے متعلق مشکلات کے تدارک کے لئے چیمبر آف کامرس اورزمیندار ایکشن کمیٹی کو آ ن بورڈ لے کر فیصلہ کریں گے جس کے بعد بحث نمٹا دی گئی ۔25ستمبر کے اجلاس میں باضابطہ شدہ تحریک التواء پر بحث کا آغا ز کرتے ہوئے تحریک کے محرک نصراللہ زیرئے کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 2009ء میں کوئٹہ میں انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے قیام کا اعلان کیا تھا جس کے لئے سپنی روڈ پر 22ایکڑ اراضی مختص کی گئی ہے ہسپتال کے قیام کے لئے دو ارب روپے پنجاب حکومت نے دینے تھے جس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں اور اب بھی اس کا سلسلہ جاری ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے ہسپتال کوئٹہ شہر کی بجائے کہیں اور منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو عوام کے ساتھ ناانصافی اور عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ پی ایس ڈی پی میں ہسپتال کے قیام کے لئے دو ارب روپے جبکہ موجودہ پی ایس ڈی پی میں پچاس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جس پر صوبائی وزیر خزانہ میر عارف محمد حسنی نے تحریک التواء کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک التواء کے محرک کا تعلق جس جماعت سے ہے نواں کلی میں جہاں ہسپتال بن رہا ہے وہاں ان کے کارکنوں کی تعداد زیادہ ہے اور اس کا فائدہ ان کی جماعت کو ملے گا ۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں بلوچ پشتون سمیت ہر زبان بولنے والے لوگ آکر مستفید ہوں گے ۔ حکومت پنجاب کی جانب سے ہسپتال کے قیام کے لئے فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث منصوبہ گزشتہ کئی سالوں سے زیرالتواء تھا جس پر پاک فوج نے حکومت کو تجویز دی کہ وہ اراضی فراہم کرتے ہوئے ہسپتال کی تعمیر ، مشنری کی فراہمی اور عملے کو تربیت دے گی اگر پاک آرمی کی معاونت سے زیر التواء منصوبہ اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے تو اس کی مخالفت کرنے کی بجائے اراکین اسمبلی کواس کی حمایت کرنی چاہئے ۔ وزیراعلیٰ میر جام کمال نے ایوان میں واضح کیا کہ ہسپتال کی کینٹ منتقلی کے حوالے سے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا ۔ ہم نے واضح فیصلہ کیا کہ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں جو گائیڈ لائن دی تھی اس کے عین مطابق اس ادار ے کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔نصراللہ زیرئے نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ اور وزیرخزانہ کے جواب سے مطمئن نہیں جس پر صوبائی وزیرسردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ معزز رکن کو چیمبر میں مطمئن کریں گے تاہم نصراللہ زیرئے کے اپنے موقف پر اصرار کے بعد انہوں نے عدالت کا فیصلہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ کے حوالے سے کوئی نیا فیصلہ نہیں ہوا کابینہ اجلاس کے منٹس موجود ہیں اور کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ اپوزیشن رکن ثناء بلوچ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرانے کے بعد معاملے کو نمٹادیا جائے جس پر سپیکر نے تحریک التواء کی رولنگ دی ۔دریں اثناء بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سیندک گولڈ اینڈ کاپر پراجیکٹ کا کنٹرول بلوچستان کے حوالے کرنے سے متعلق قرارداد منظور معاہدوں سے متعلق امور کا جائزہ لینے کیلئے9رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ صوبائی کابینہ سیندک معاہدے سے متعلق تمام امور کا جائزہ لے گی وزیراعلیٰ بلوچستان کی ایوان کو یقین دہانی اجلاس میں اندورن ملک سے کوئٹہ کیلئے پی آئی اے اور نجی ائیرلائن کے کرایوں میں کمی سے متعلق قرار داد منظور جمعرات کو ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد پر ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں سیندک معاہدے کا از سرنو جائزہ لیا جائے گاقدرتی معدنیات ہمارے صوبے کا اہم ترین اثاثہ ہیں جن کے فیصلوں سے متعلق صوبائی حکومت خود مختار ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پی پی ایل ، سیندک اورریکوڈک سے متعلق ہونے والے معاہدوں پر تحفظات پائے جاتے ہیں وفاقی سطح پر ہونے والے غیر ذمہ دارانہ معاہدوں سے نقصان ہمیں اٹھانا پڑرہا ہے خضدار اور سیندک میں منرل یونیورسٹیز کے قیام کے لئے اقدامات کئے جائیں گے حکومت ریکوڈک اور سیندک معاہدوں سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے عمل میں اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے گی ۔اس سے قبل قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے ثناء بلوچ کا یوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سیندک اور ریکوڈک کا شمار دنیا کے ذخائر میں پہلے اور سیندک کا تیسرے نمبر پر ہوتا ہے ان مقامات سے 48سے زائد اقسام کی معدنیات پائی جاتی ہیں جن میں ایسے منرلز شامل ہیں جن کی جن کی فی کلو قیمت عالمی منڈی میں 6کروڑ تک ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ 1960ء کی دہائی میں ذخائر کی تلاش کے لئے جیالوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے سروے کاکام شروع کیا گیاجس کے بعد1974ء میں ریسورس ڈویلپمنٹ کارپوریشن بنایا گیا جسے 30سال کے لئے ایک لاکھ3ہزار174ایکڑ اراضی کو6ہزار ایک سو65روپے کی سیکورٹی ڈیپازٹ پر دی گئی یہ معاہدہ ملک کا سب سے بڑا اور تاریخی جرم ہے ۔ معاہدہ کاپر کے ذخائر نکالنے کے لئے کیا گیا تھا جس میں سونے کے ذخائر کا کہیں ذکر نہیں ہے 1990ء سے2003ء کے عرصے میں ایک کے بعد ایک معاہدات میں بلوچستان کو یکسر نظر انداز کیا گیا ۔ ان کا کہنا تھا2017ء میں ہونے والے ایک اور معاہدہ کے تحت سیندک پروجیکٹ اور مذکورہ کمپنی کے درمیان معاہدہ کو 2022ء تک توسیع دی گئی ہے ۔2017 میں ہونے والے معاہدہ میں بلوچستان کی نمائندگی کرنے والے ایک سیکرٹری نے بحیثیت گواہ دستخط کئے ہیں ۔معاہدہ پر سیکرٹری کا بطور گوہ دستخط کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وفاق بلوچستان کے وسائل پر بلوچ قوم کی ملکیت تسلیم کر کے وسائل کا مالک بنانے پر رضا مند نہیں ہے ۔ انہوں نے ایوان سے اپیل کی کہ اس قرار داد کو متفقہ طو رپر منظور کرتے ہوئے اکتوبر2017ء کو ہونے والے معاہدے کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے حکومت اس ضمن میں ایک کمیٹی قائم کرے جو وفاق سے قدرتی وسائل پر حق ملکیت کا اختیار حاصل کرے۔ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھاکہ گزشتہ حکومت میں ساحل ووسائل کی بات کرنے والے قوم پرستوں نے ایک سیکرٹری کو معاہدے کی توسیع کے لئے بھیجا جو دنیا کا سب سے بڑا سکینڈل ہے۔ ا ن کا کہنا تھا کہ ہم شروع دن سے بلوچستان میں ایک نئی سمت کا تعین کرنے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ ان کا ایوان میں اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ثناء بلوچ سے زیادہ میرے پاس سیندک اور ریکوڈک سے متعلق دستاویزات ہیں سابق حکومتوں نے لندن اور سوئٹزر لینڈ میں بیٹھ کر معاہدے کرتے ہوئے قومی خزانے کو وکلاء کی فیسوں کی مد میں جتنا نقصان پہنچایا ایوان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا اپوزیشن ہمیں وقت دے ہم تمام معاملات بہتر بنائیں گے۔پشتونخوا میپ کے رکن اسمبلی نصراللہ زیر ے کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سیندک ، ریکوڈک سمیت صوبے کے دیگر معدنی منصوبوں پر عوام کے مفادات کے برعکس کئے گئے معاہدہ قابل قبول نہیں ۔ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے تمام معاہدوں کے حوالے سے قوم پرستوں پر تنقید کی وہ بتائیں کہ کیا تمام منصوبوں پر معاہدوں میں قوم پرستوں کی حکومتیں تھیں ؟انہوں نے کہا کہ ماضی میں جو کچھ ہوتارہا اس سے سب آگاہ ہیں ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی اختر حسین لانگو کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سیندک پر ہونے والا معاہدہ کوئی پہلا اور واحد معاہدہ نہیں اس سے پہلے سوئی گیس سمیت دیگر منصوبوں کے حوالے سے معاہدے کئے گئے ان تمام معاہدوں کو دیکھا جائے ۔ قلات میں ہربوئی کے مقام پر پی پی ایل کی جانب سے گیس اور تیل کی تلاش کے لئے کام جاری ہے مگر وہاں مقامی لوگوں کو پی پی ایل نے اپنی ہی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نظر انداز کیا ہے اٹھارہویں ترمیم کے تحت تمام معاہدوں پر از سرنو غور کیا جائے ۔جمعیت علماء اسلام کے یونس عزیز زہری کا کہنا تھا کہ خضدار میں بولان مائننگ عرصہ دراز سے کام کررہا ہے مگر وہاں پر مقامی لوگوں سے معاہدوں پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا وہاں سے معدنیات نکالی جارہی ہیں یہی کچھ لسبیلہ میں دودر پراجیکٹ میں ہورہا ہے ریکوڈک سیندک سمیت تمام معدنی منصوبوں پر یہی صورتحال ہے تمام معاہدوں کو از سرنو دیکھا جائے ، بلوچستان نیشنل پارٹی کی رکن شکیلہ نوید دہوار کا قرارداد پر ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایوان کو نظر انداز کرکے سیندک پر کوئی معاہدہ یا ایم او یو نہ کیا جائے ایوان کو بتایا جائے کہ سیندک سے صوبے کو کتنی رائلٹی ملتی ہے کیونکہ صورتحال یہ ہے کہ سیندک کے عوام بھی سہولیات سے محروم ہیں۔ صوبائی وزیر اسد بلوچ کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل کسی نواب سردار کے نہیں بلکہ یہاں کے غریب عوام کے ہیں گزشتہ پانچ سال کے دوران اس ایوان میں 120قرار دادیں منظور ہوئیں مگر کسی ایک پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا بلوچستان سے زیادتی چاہے قوم پرستوں یا وفاق پرستوں نے کی ہو ہم سب کی مذمت کرتے ہیں۔ صوبائی وزیر ظہور بلیدی کا قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صوبائی حکومت بلوچستان کے وسائل کو بلوچستان کے عوام کے لئے بروئے کار لائے گی ریکوڈک کا مسئلہ عالمی عدالت میں گیا اگر ماضی میں یہ معاہدہ ٹھیک ہوتا تو آج اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا بلوچستان کے ساحل اور وسائل کا ہر حال میں دفاع کریں گے ۔ جمعیت علماء اسلام کے رکن عبدالواحد صدیقی کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ماضی میں پالیسی سے ہٹ کر سیندک پر معاہدہ کیا گیا جس میں عوام کے مفادات کو نہیں دیکھا گیا ایسے معاہدے جن میں عوام کے مفاد کو نظر انداز کیا گیا انہیں منسوخ کرکے نئے معاہدے کئے جائیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے احمد نواز بلوچ کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان قدرتی معدنی منصوبوں پر ہونے والے پرانے معاہدوں کواسمبلی میں لائیں اس حوالے سے کوئی کمیٹی بنتی ہے تو اس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی نمائندگی ہو جو وفاق میں جا کر ان معاہدوں پر بات کرے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن بلوچستان اسمبلی ثناء بلوچ کا کہنا تھا معاہدوں میں سقم کی نشاندہی اور کمیٹی کے قیام کی تجویز بھی دی ہے اگر ہمیں لیگل اور ٹیکنیکل تجاویز کی ضرورت پڑی تو اس کے لئے بھی کام کریں گے اگر ہم نے اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا تو عوام کے مسائل کا مداوانہیں ہوسکے گا ۔ قائد ایوان اور اراکین اسمبلی کے اظہار خیال کے بعد قرار داد متفقہ طور پر منظور ہونے کے بعد اجلاس کی صدارت کرنے والے میر یونس عزیز زہری نے اراکین کی تجویز پر نو رکنی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ قائد ایوان میر جام کمال اورثناء بلوچ مشاورت سے کمیٹی کے دیگر اراکین کا چناؤ کریں ۔اجلاس میں جے یوآئی کے ملک سکندر ایڈووکیٹ کی عدم موجودگی کے باعث کوئٹہ شہر میں پینے کے صاف پانی سے متعلق ان کی قرار داد موخر کی گئی جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی کی رکن بشریٰ رند کی کوئٹہ سے اسلام آباد ، کراچی اور لاہور کے درمیان چلنے والی پی آئی اور دیگر ایئر لائنز کے کرایوں سے متعلق یکساں پالیسی ترتیب دینے کے لیے ایوان میں پیش کی گئی قرار داد ایوان نے متفقہ طو رپر منظور کرلیا۔