کوئٹہ : پنجاب میں اینٹوں کے بھٹوں کی بندش سے بلوچستان کے 10 لاکھ افراد متاثر ہوگئے مزدوروں کے معاشی استحصال کیخلاف مزدورتنظیموں کا احتجاج عدلیہ سے پنجاب حکومت کی اینٹوں کے بھٹوں کی بندش سے متعلق فیصلہ نوٹس اور بلوچستان میں کان کنی کے شعبے کو صنعت کا درجہ دیئے جانے کا مطالبہ کیا ۔
مائنز لیبر ،سینٹرل یونین ،پاکستان مائنز ورکرز فیڈریشن ،نیشنل لیبر فیڈریشن، کوئلہ کان میں کام کرنیوالے مزدور ،گڈز ٹرانسپورٹ کے عہدیداروں عبدالرحیم میر داد خیل ،حبیب الرحمان یوسفزئی ،ملک بخت نظر ،جعفر خان کاکڑ و دیگر کے مطابق ملک کی معیشت میں ریڑھ کے ہڈی کی حیثیت رکھنے والی صنعت میں کام کرنیوالے مزدوروں کو نان شبینہ کا محتاج کرنا باعث تشویش ہے ۔
ان کے مطابق بلوچستان میں بے روزگاری کے خاتمہ کیلئے حکومت صوبے میں کان کنی کے شعبے کو صنعت کا درجہ دیکر کوئلہ کانوں میں کام کرنیوالے کان کنوں کے جان ومال کاتحفظ کو یقینی بنایاجائے ۔
مزدور تنظیموں کے رہنماؤں کے مطابق پنجاب میں اینٹوں کے بھٹوں کی بندش سے ملک بھر میں لاکھوں مزدور بے روزگار ہوجائیں گے جن میں سے 10لاکھ کے قریب کوئلہ مزدور اور گڈز ٹرانسپورٹرز کا تعلق بلوچستان سے ہے۔
ان کے مطابق بلوچستان اورسندھ کے پی کے سے نکلنے والی کوئلے کی کانوں کو بند کرنے کی گھناؤنی سازش کی جارہی ہے کانکن مزدور اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر کوئلے کی کانوں سے کوئلہ نکالنے کا کام کرتے ہیں جنہیں اپنی جانوں کا تحفظ حاصل نہیں ہے لیکن پھر بھی اپنے بچوں کو روٹی روزی کیلئے اپنے جانوں پر کھیل کر ملک کی معیشت کو چلانے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
حکومت کول مائنز سے تعلق رکھنے والے پراجیکٹس کو کمزور کرنے کی بجائے حکومتی مفادات کی خاطر اس کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ان کو باقاعدہ ایک صنعت کا درجہ دیا جائے ۔ مظاہرے کے شرکاء نے ہاتھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر مطالبات کی منظورکیلئے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے ۔
اینٹوں کے بھٹوں کی بندش سے 10لاکھ افراد متاثر ہونگے ، عبدالرحیم
![]()
وقتِ اشاعت : October 19 – 2018