|

وقتِ اشاعت :   October 25 – 2018

کوئٹہ: کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے نجی اسکول پر فائرنگ کردی۔ چار کمسن طلبہ زخمی ہوگئے۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے اسکول میں داخل ہونے کی کوشش ناکام ہونے پر دروازے پر فائرنگ کی۔

تاہم ابتدائی تحقیقات میں پولیس حملے کی وجوہات سے متعلق کسی نتیجے پر نہیں پہنچی۔پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ بدھ کو دوپہر کے وقت کوئٹہ کے علاقے کلی شابو میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے دانش کدہ فیلو شپ کے نام سے قائم نجی اسکول کے دروازے پر فائرنگ کی۔ گولیاں لگنے سیتیسری اور چوتھی جماعت کے چار طلبہ زخمی ہوگئے۔ فائرنگ کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔ 

زخمیوں کو مقامی لوگوں نے رکشے میں سول ہسپتال کوئٹہ پہنچایا۔ سول ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق زخمیوں میں نو سالہ سلمان ولد مزار خان ،دس سالہ نسیمہ دختر فیض محمد ،بارہ سالہ گل محمد ولد عبدالوہاب اوردس سالہ مسعود اظہر ولد عبدالرؤف شامل ہیں۔ 

چاروں زخمیوں کو ٹانگوں میں گولیاں لگی ہیں اور انہیں سول ہسپتال کے شعبہ حادثات میں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد ٹراما سینٹر منتقل کردیا گیا۔چاروں بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ 

زخمی طالبہ نسیمہ نے بتایا کہ جب فائرنگ ہوئی تو اسکول میں تفریح کا وقفہ چل رہا تھا اور وہ اسکول کے کینٹین سے خریداری کررہی تھی جب فائرنگ ہوئی۔ صوبائی وزیر داخلہ سلیم احمد کھوسہ، صوبائی وزیر صحت نصیب اللہ مری، صوبائی وزیر عبدالرحمان کھیتران، مشیر تعلیم محمد خان لہڑی، رکن صوبائی اسمبلی اختر حسین لانگو اور دیگر سیاسی و قبائلی رہنماؤں اور اعلیٰ حکام نے بھی سول ہسپتال کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی۔ 

فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ایف سی اور ضلعی انتظامیہ کے افسران موقع پر پہنچے۔ سی ٹی ڈی، سی آئی اے اورحساس اداروں کی تحقیقاتی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچیں اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کئے۔

اسسٹنٹ کمشنر سٹی ثانیہ صافی نے بتایا کہ حملہ آورموٹر سائیکل سوار تھے جنہوں نے اسکول کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی مگر دروازہ اندر سے تالہ ہونے کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوسکی جس پر انہوں نے باہر سے ہی دروازے پر فائرنگ کی۔ گولیاں چادر کے دروازے میں سوراخ کرتے ہوئے اسکول کے اندر موجود بچوں کو لگیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ حملے کے وقت اسکول میں تین سو کے قریب طلبہ موجود ہوتے اگر حملہ آور اندر داخل ہوجاتے تو شاید زیادہ نقصان ہوجاتا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے مزید بتایا کہ یہ فیلو شپ اسکول 1996ء میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت(ڈبلیو ایچ او) نے کمیونٹی کیلئے قائم کیا تھا اور اب یہ ڈبلیو ایچ او کی نگرانی کی بجائے نجی طور پر چلایا جارہا تھا۔

اسکول کی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ ان کا کسی کے ساتھ کوئی تنازع نہیں۔ ثانیہ صافی کے مطابق اب کی تحقیقات میں پولیس اور انتظامیہ کسی نتیجے پر ہیں پہنچ سکی ہے کہ اس حملے کی وجوہات کیا ہے؟۔ 

انہوں نے بتایا کہ اس اسکول کی سیکورٹی ہونی چاہیے تھی مگر حملے کے وقت سیکورٹی کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ تحقیقات میں اس پہلو کو بھی دیکھا جائیگا۔ تفتیشی حکام کے مطابق حملے میں ٹی ٹی پستول کا استعمال کیا گیا۔ 

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے ٹیلیفون پر بتایا کہ پولیس، کاؤنٹر ٹیرراز ڈیپارٹمنٹ اوردیگرمتعلقہ اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھی کی ہیں مگر اب تک ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔فی الوقت کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ دہشتگرد حملہ ہے،ذاتی رنجشی یا کسی اور بناء پر کیا گیا ہے۔