کوئٹہ: کوئٹہ میں ایک روز قبل نجی اسکول پر ہونیوالے حملے کی تحقیقات میں کوئی پیشرفت نہ ہوسکی۔واقعہ کا مقدمہ دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کرلیا گیا ہے۔
بلوچستان پرائیوٹ اسکولز گرینڈ الائنس نے نجی اسکولوں کو سیکورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو کلی شابو میں نجی اسکول پر فائرنگ کے واقعہ میں چار بچے زخمی ہوئے تھے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسکول پر حملے کی تحقیقات میں اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ اب تک اس سلسلے میں کوئی گرفتاری بھی عمل میں نہیں لائی گئی تاہم واقعہ کا مقدمہ تھانہ ایئر پورٹ میں سکول پرنسپل امیر حمزہ کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمے میں انسداد دہشتگردی ایکٹ اور اقدام قتل کی دفعہ لگائی گئی ہے۔
دریں اثناء بلوچستان پرائیورٹ اسکولز گرینڈ الائنس کے رہنماؤں اسکول مالکان نذر محمد بڑیچ، حاجی سلیم ناصر، جعفر خان کاکڑ، حضرت علی کوثر، ملک رشید کاکڑاور ملک جمیل کاسی نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نجی اسکول پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ تعلیم دشمن اور بزدلانہ کارروائی ہے ۔
سیکورٹی ادارے دہشتگردانہ کارروائیوں کی روک تھام اور دہشتگردوں کے خلاف فوری کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ستائیس سو سے زائد نجی تعلیمی اداروں میں ساڑھے چھ لاکھ سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں جو تعلیم کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کررہے ہیں مگر نجی تعلیمی اداروں کو حکومتی سطح پر رائج قالے قوانین کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔
ایک جانب نامناسب قوانین اور دوسری جانب دہشتگردی اور حکومت کی جانب سے سیکورٹی کا مناسب انتظام نہ ہونا ہے جس سے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ صوبے میں قائم نجی سکولوں میں تمام تر سیکورٹی اقدامات اپنے طور پر اٹھائے گئے ہیں ور نوے فیصد سکولوں میں سیکورٹی گارڈز، سی سی ٹی وی کیمرے وغیرہ لگائے گئے ہیں ۔
کوئی بھی اسکول چار دیواری، گیٹ اور چوکیدار کے بغیر نہیں مگر نجی اسکولوں کے باہر خصوصاً سکول لگنے اور چھٹی کے وقت گشت بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانات قریب ہیں اور ایسے میں دہشتگرد حملے سے طلبہ ذہنی اذیت کا شکار ہوگئے ہیں ۔ حکومت فوری طور پر اقدامات اٹھائیں۔
کوئٹہ ، اسکول پر حملے کی گرینڈ تحقیقات میں کوئی پیشرفت نہ ہوسکی
![]()
وقتِ اشاعت : October 26 – 2018