|

وقتِ اشاعت :   October 29 – 2018

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر میر حاصل خان بزنجو کا کہنا ہے کہ ملک میں اب عمران خان،الیکشن میں دھاندلی اور نیب پر بھی تنقید کی اجازت نہیں دی جارہی۔سیاسی جماعتوں نے اس صورتحال میں مزاحمت نہ کی تو ملک میں انتہاء پسندوں کی حکومت ہوگی۔

یہ بات انہوں نے بوائے اسکاؤٹس ہیڈ کوارٹرکوئٹہ میں نیشنل پارٹی کے مرکزی اور صوبائی کونسل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ،پارٹی کے دیگر سینئر رہنماء اور ملک بھر سے آئے ہوئے پارٹی کے سینکڑوں مندوبین موجود تھے۔ 

حاصل خان بزنجو کا کہنا تھا کہ پاکستان خاموش مارشل لاء کی زد میں ہے اور یہاں صرف اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بیانییکی سیاست اور صحافت کی اجازت ہے۔ پہلے اداروں اور عدالت پر تنقید کی اجازت نہیں تھی اب تو نیب ، عمران خان اور الیکشن میں دھاندلی سے متعلق بات کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی۔ 

حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی جماعتوں نے ملک میں زبان بندی کرنے والی قوتوں کو نہ روکا تو پھر یہاں مذہبی انتہاء پسندوں کی حکومت ہوگی۔ سیاسی جماعتیں اس صورتحال کا ادراک کریں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور نیشنل پارٹی کو بلوچستان کی حکومت اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر نہیں بلکہ جمہوری قوتوں کی مدد سے ملی۔ ڈاکٹر مالک کو وزیراعلیٰ بنائے جانے کا علم صرف میاں نواز شریف اور محمود خان اچکزئی کو تھا۔ نیشنل پارٹی کی حکومت نے غیر فعال بلوچستان کو فعال بنایا اور صوبے کی خدمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل پارٹی سیاسی مزاحمتی جدوجہد جاری رکھے گی۔ حاصل بزنجو نے کہا کہ ہم ڈاکٹر شفیع اور ڈاکٹر یاسین کی کمی محسوس کررہے ہیں۔ 

گزشتہ تین سالوں کے دوران نیشنل پارٹی کو بہت سی کامیابیوں اور ناکامیوں سے دوچار کرنا پڑا۔ بلوچستان میں ہم لوگوں نے انتخابات بھی جیتے۔ جمہوری قوتوں کا ساتھ بھی دیا اور جمہوری قوتوں کے ذریعے ہمیں بلوچستان میں حکومت ملی ۔ 

ہم نے اپنی بساط اور طاقت کے مطابق صوبے کی خدمت کی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کو یہاں پر حکومت ملی تو ہمیں اس وقت ایک غیر فعال بلوچستان دیا گیا۔ حالات اس قدر خراب تھے کہ ڈپٹی کمشنر چھپ کر رہ رہے تھے اور آئی جی اور ڈی آئی جی اپنے کیمپ سے باہر جانے کو تیار نہ تھے۔ 

نیشنل پارٹی نے ڈاکٹر مالک بلوچ کی قیادت میں ایک فعال بلوچستان بنایا جو ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں پنجاب میں چالیس سے پچاس نشستوں پر نیشنل پارٹی نے انتخاب لڑا اور اس میں اگرچہ کامیابی نہیں ملی مگر پہلی دفعہ پنجاب میں پارٹی کو اچھے طریقے سے متعارف کرایاگیا۔ خیبر پشتونخوا اور سندھ میں بھی کام کررہے ہیں اس میں ہمیں آگے جاکر کامیابی ملے گی۔ نیشنل پارٹی فیڈریشن کی جماعت ہے صوبائی سطح کی جماعت نہیں۔ 

جس طرح پیپلز پارٹی کی ساری طاقت سندھ میں ہے، مسلم لیگ ن کی زیادہ طاقت پنجاب میں اوراے این پی خیبر پشتونخوا میں مضبوط جڑیں رکھتی ہیں مگر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ وفاقی جماعت نہیں۔ ہمارا آئین اور پروگرام ایک وفاقی جماعت کا ہے۔ 

ہمارے مخالفین بار بار سوال اٹھاتے ہیں کہ نیشنل پارٹی فیڈریشن کی جماعت نہیں۔ حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ ہمیں بلوچستان حکومت ملی تو ہمارے مخالفین نے ایک پروپیگنڈہ شروع کیا کہ نیشنل پارٹی کو حکومت اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر دی گئی۔ بد قسمتی سے ہمارے کچھ دوستوں بجائے بات کی تردید کرتے وہ بھی کسی حد تک یہی سمجھنے لگے۔ یہ محض مخالفین کا پروپیگنڈہ تھا۔

اس کونسل سیشن کو پوری ایمانداری سے یقین دلاتا ہوں کہ جب ڈاکٹر مالک وزیراعلیٰ بنا تو سوائے دو آدمیوں میاں محمد نواز شریف اور محمود خان اچکزئی کے کسی فوجی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ڈاکٹر مالک وزیراعلیٰ بن رہے ہیں مگر ہمارے خلاف بڑے پیمانے پر پروپیگنڈہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہمارے سامنے آنے والا وقت ہے۔ عملی طور پر اس وقت پاکستان ایک خاموش مارشل لاء کی زد میں ہے ۔

یہ مارشل لاء ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے لگائے گئے مارشل لاء سے زیادہ سخت ہے۔ ایوب خان کے زمانے میں لوگوں کو گرفتار کرکے ٹارچر کیا جاتا تھا مگر ہر کسی کو معلوم تھا کہ میرے لوگ کہاں پر ہیں۔ 

ضیاء الحق آئیے تو لوگوں کو سرعام کوڑے مارے۔ مشرف کا مارشل لاء آیاتو جلسے جلوس کی اجازت نہیں تھی اور سیاستدانوں کو باہر کرنے کیلئے نیب آرڈیننس اورباسٹھ تیرسٹھ جیسے قوانین بنائے گئے۔مگر موجودہ مارشل لاء عجیب قسم کا ہے۔ اس بات پر زور ڈالا جارہا ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت سیاست کرے گی تو اس کا بیانیہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کا ہونا چاہیے۔ 

اگر کوئی لکھاری اس ملک میں لکھنا چاہتا ہے تو اس کا بیانیہ بھی وہی ہوگا جو اس کو اسٹیبلشمنٹ دے گا۔ تمام اینکرز کو یہ حکم آتا ہے آپ وہ بیانیہ دوگے یا اس بیانیے کے لوگوں کو لاؤگے جو اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے کو آگے لائیں گے۔ 

پہلے کہا گیا کہ آپ فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے خلاف کچھ نہ بولیں۔ پھر کہا گیا کہ آپ سپریم کورٹ پر تنقید نہیں کرسکتے۔ اب نیا حکم نامہ آیا کہ نیب پر بھی تنقید نہیں کرسکتے۔ اور معاملہ اس حد تک آگیا کہ عمران خان اور الیکشن میں دھاندلی سے متعلق تنقید نہیں کی جاسکتی۔ تمام ٹی وی چینلز اور اخبارات کو بھی ایسی کوئی تنقید نشر اور شائع کرنے کی اجازت نہیں۔ 

اگر کوئی سیاسی جماعت حکم عدولی کرتی ہے تواس کی جماعت کے کسی رہنماء کے بچے یا بھائی کو اٹھالیا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ مارشل لاء کیا ہوسکتا ہے کہ یہاں سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں توموجود ہے مگر اظہار رائے کی آزادی نہیں۔ بلوچستان میں جس قسم کا کھیل کھیلا گیا وہ پورے پاکستان کے سامنے عیاں ہے۔ 

حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ نیشنل پارٹی پاکستان میں جمہوری قوتوں کے ساتھ ملکر اپنی سیاسی مزاحمتی جدوجہد جاری رکھے گی کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اس وقت سیاسی جماعتوں نے مزاحمت نہ کی اور ان قوتوں کا راستہ نہ روکا تو پھر اس ملک میں جو حکومت ہوگی وہ مذہبی دہشتگردوں کی ہوگی۔ 

ہماری سیاسی جماعتوں کو اس کا ادراک کرنا ہوگا۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ کا کہناتھا کہ یہ نیشنل پارٹی کی خاصیت ہے یہاں کھلے عام تنقید ہوسکتی ہے۔ تنقید برائے تعمیرنیشنل پارٹی کی روح ہے جس دن پارٹی کے اندر تنقید ختم ہوئی تو اس کی روح نکل جائے گی۔