|

وقتِ اشاعت :   October 30 – 2018

کوئٹہ: صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے یونیورسٹی آف گوادر کا مسودہ قانون مصدرہ2018ء مسودہ قانون نمبر31کو بلوچستان اسمبلی کے قاعدہ 84کے تقاضوں سے مستثنیٰ قرار دینے کی تحریک پیش کی ۔

جس پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ ہمیں یہ مسودہ قانون آج ہی ملا ہے اور ہم اسے پوری طرح سے پڑھ بھی نہیں پائے ہیں سرسری مطالعے میں بھی کافی خامیاں نظر آرہی ہیں اسے اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کے سپرد کیا جائے جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے ارکان شامل کئے جائیں ۔

صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے کہا کہ اپوزیشن یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت نہ کرے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ ہم یونیورسٹی کے قیام کے مخالف نہیں تاہم بہتر قانون سازی چاہتے ہیں۔ ثناء بلوچ نے کہا کہ ہم قانون کے حق میں ہیں مگر چاہتے ہیں کہ ایک جامع اورماڈرن بل بناسکیں ۔

ظہور بلیدی نے کہا کہ ہم نے بڑی مشکل سے وفاقی پی ایس ڈی پی میں یونیورسٹی کا منصوبہ شامل کرایا ہے وزیراعظم نے اس کے لئے ایک ارب روپے کی جبکہ وزیراعلیٰ پانچ سو ایکڑ اراضی دینے کی منظوری دے چکے ہیں تاخیر سے وفاقی حکومت کے فنڈز لیپس ہوجائیں گےْ 

اس بل کو منظور کیا جائے اور اگر اس میں کوئی خامی ہوئی تو مل کر اسے دور کردیں گے اس موقع پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان بیک بولتے رہے جس سے کان پڑی آواز سنائی نہ دی۔