کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس نئے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے رقبہ ، غربت اور پسماندگی شامل کرکے فنڈز کے اجراء سے متعلق تحریک التواء نمٹا دی گئی حکومت اور اپوزیشن نے کوئٹہ میں قلب آب سے متعلق پالیسیاں بنانے پر اتفاق کرلیا ۔
سی پیک منصوبہ میں بلوچستان کو نظر انداز کرنے سے متعلق اپوزیشن کی قرار دادپر آئندہ اجلاس میں بحث کیا جائیگا ۔ قومی شاہراؤں پر ٹریفک حادثات کی روک تھام سے متعلق قرار داد پر ایوان میں بحث کی گئی ۔
ایوان نے آسیہ بی بی کیس سے متعلق قرار داد کو منظور کرتے ہوئے کیس کا ازسر نو جائزہ لینے کیلئے علماء کرام ومشائخ پر مشتمل کمیٹی قائم کرکے قوم کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ شعبہ تعلیم سے متعلق قرارداد 3 نومبر کے اجلاس میں بحث کیلئے منظور اپوزیشن اراکین نے محکمہ مواصلات وتعمیرات سے ملازمین کی برطرفی سے متعلق فیصلے، بلوچی اکیڈمی کے گرانٹ میں کمی، ایوب اسٹیڈیم اسپورٹس کمپلیکس کے اراضی کی الاٹمنٹ سبزی و فروٹ منڈی میں ماشہ خوروں ، زمینداروں اور کمیشن ایجنٹ کے چھاپڑیوں کو مسمار کرنے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس ایوان میں پیش کیا ۔
گزشتہ روز ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر خان موسیٰ خیل کی زیر صدارت میں ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی ، پشتونخوامیپ کے اراکین اسمبلی اختر حسین لانگو، نصرا للہ زیرے کا پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کوئٹہ کے واحد اسپورٹس کمپلیکس ایوب اسٹیڈیم کی اراضی پرعدالتی فیصلے کو پسے پشت ڈال کر مختلف محکموں کی جانب سے غیر قانونی طور پر قبضہ کیا جارہا ہے ۔
2016 ء میں اے ٹی ایف کی جانب سے قبضہ کرنے کوششوں پر ہم نے عدالت سے رجوع کیاتھا جس پر عدالت نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ اسپورٹس کمپلیکس کی زمین کسی بھی محکمہ کو الاٹ نہ کی جائے ،کوئٹہ کے واحد اسپورٹس کمپلیکس میں دوسرے محکموں کودفاتر الاٹ کرنا باعث افسوس ہے ۔
حکومت محکمہ ریونیو کو اس متعلق رپورٹ پابندز فراہم کرنے کی ہدایت کرے جس پر صوبائی وزیر مواصلاحات وتعمیرات نوابزادہ طارق مگسی نے اپوزیشن اراکین کو وزیراعلیٰ بلوچستان سے معاملہ پر بات کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔
رکن صوبائی اسمبلی سید فضل آغا کا ایوان میں حکومت کی جانب سے سنجیدہ نوعیت کے معاملات پر جوابات نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایوان میں سوالات اور جوابات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائیگا تو اس سے صوبے کو درپیش مسائل میں مزید اضافہ ہوگا ،جس پر صوبائی وزیر طارق مگسی نے رکن اسمبلی کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ اجلاس میں تمام محکموں سے درست جوابات آئیں گے۔
چیف آف سراوان رکن بلوچستان اسمبلی نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ ہم بلوچستان سے منتخب ہوکر آئے ہیں اور تمام منتخب نمائندوں کو اپنے لوگوں کے مسائل کا احساس ہے ، حکومتی وزراء کو پابند کیاجائے کہ وہ کورم کومدنظر رکھتے ہوئے اسمبلی اجلاس میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں ۔
انہوں نے اسپیکر چیمبر میں اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے حوالے سے اجلاس طلب کرکے کمیٹیاں تشکیل دینے سے متعلق ایوان میں اپنی تجاویز پیش کی جس پر ۔ ڈ پٹی اسپیکر سردار بابر خان موسیٰ خیل کا کہنا تھا کہ جب تک اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی نہیں ہوتی تب تک قائمہ کمیٹیاں نہیں بن سکتیں۔
بی این پی کی خاتون رکن اسمبلی شکیلہ نوید دہوار کا ایوان کی توجہ بلوچی اکیڈیمی کے گرانٹ میں کمی سے متعلق مبذول کراتے ہوئے کہنا تھا کہ 1958میں قائم ہونیوالے بلوچی اکیڈیمی کا سالانہ گرانٹ ایک کروڑ روپے ہیں جس سے اکیڈیمی شعراء ادیب و دانشوروں کو معاونت فراہم کرتی ہے ۔
اکیڈیمی میں طلباء و طالبات کو ریسرچ سمیت مختلف امتحانات میں تیاری سے متعلق کتب بھی فراہم کرتے ہیں اور پی سی ایس سمیت دیگر امتحانات میں اسی اکیڈیمی سے 70فیصد مواد دیا جاتا ہے تاہم افسوس کہ اپنے مقامی زبان اور ثقافت کو فروغ دینے کے لئے حکومت اقدامات اٹھانے کی بجائے بلوچی اکیڈیمی کے گرانٹ میں کمی کرکے پنجگور میں واقعہ ایک اکیڈیمی کو نواز رہی ہے جس کا ایوان کو نوٹس لینا چائیے ۔
رکن بلوچستان اسمبلی نصرا للہ زیرے کا ایوان میں توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 25 ستمبر کو سبزی منڈی ہزار گنجی میں سبزی فروشوں ، ماشہ خوروں ، زمینداروں اور کمیشن ایجنٹ کیلئے مختص گراؤنڈ میں قائم چھاپڑیوں کو بلڈوز کرکے آگ لگائی گئی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں غریب لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں اور محکمہ ذراعت اور مارکیٹ کمیٹی نے اس سلسلہ میں کیا اقدامات اٹھائے ہیں ۔
اورمحکمہ زراعت کی جانب سے درست جواب نہیں دیا گیا آکشن گراؤنڈ پر سب کا حق بنتا ہے مگر بدقسمتی سے غیر قانونی طور پر لیز دیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ آگے من پسند افراد کے حوالے کئے گئے ہیں ۔ زمیندار جب صبح مال لاتے ہیں تو ماشہ خور آگئے سپلائی کردیتے ہیں اگر ماشہ خوروں کو بے روزگار کیا جائے گا ۔
قوم پہلے ہی معاشی حالات سے دوچار ہے اور صوبے کی مالی حالت درست نہیں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے زراعت کو شعبہ بھی تباہی کی جانب چلی گئی ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ مسئلہ کو حل کیاجائے گا ۔جس پر صوبائی وزیر داخلہ میر سلیم کھوسہ نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ معاملہ متعلق کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جلد ازالہ کیاجائے گا۔
رکن صوبائی اسمبلی نواب اسلم رئیسانی نے معاملہ سے متعلق کمیشن قائم کرنے کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ثناء بلوچ نے مارکیٹ کمیٹی سے متعلق معاملات میں اراکین اسمبلی کو کمیٹی میں شامل کر نے کا مطالبہ کیا ۔وزیر داخلہ کی یقین دہانی پر دپٹی اسپیکر نے توجہ دلاؤ نوٹس نمٹادی ۔
اراکین اسمبلی ملک نصیر احمد شاہوانی اور ثناء بلوچ نے ایوان میں توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ مواصلات و تعیمرات میں 8 سال قبل 61 3ملازمین بھرتی ہوئے تھے اور اب 8 سال کے بعد ان ملازمین کو برطرف کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے تمام ملازمین کو برقرار رکھنے کی سفارش کی ہے ۔
صوبائی وزیر مواصلاحات و تعمیرات نے نوابزادہ طارق مگسی کی قوائد وضوابط کے تحت تعینات ہونے والے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کی یقین دہانی پر توجہ دلاؤ نوٹس کو نمٹا دیا گیا ۔
اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے اپنی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ شہر وہ گردونواح کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کی غرض سے 7 ارب روپے سے زائد لاگت کا ایک بڑا منصوبہ کوئٹہ واٹر سپلائی پراجیکٹ کے نام سے شروع کیا گیا جس میں شہر کے دیگر علاقوں کے علاوہ حلقہ نمبر 25 کی یونین کونسلز جن میں نواں کلی کوتوال ،کلی عمر شیخ ماندہ خیری ، سمنگلی اور ان سے ملحقہ علاقے شامل ہیں ۔
میں پانی کے پائب بھی بچھادیئے گئے لیکن تاحال ان یونین کونسلز اور ان سے محلقہ علاقوں کو پینے کا پانی فراہم نہیں کیا جارہا علاوہ ازیں یہ بھی طے پایا تھا کہ تکتو کے دامن میں مزید بور لگائے جائیں گے لیکن اب تک مذکورہ علاقہ میں حسب ضرورت بور نہیں لگائے گئے ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں افراد پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں نیز عوام کی بنیادی ضروریات اور حقوق فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے اس طرح اربوں روپے کی رقم ضائع ہونے کا اندیشہ ہے ۔
لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ وہ کوئٹہ شہر اور گردونواح اور حلقہ نمبر 25 کی یونین کونسلز جن میں نواں کلی کوتوال ، کلی عمر ، شیخ ماندہ ، خیزی، سمنگلی اور ان سے ملحقہ علاقے جہاں پانی کے پائب بچھائے گئے ہیں کو پانی کی فراہمی کیلئے جلد از جلد یقینی بنایا جائے نیز تکتو کے دامن میں حسب ضرورت مزید بور لگانے کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ کوئٹہ کے عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور احساس محرومی کا ازالہ ممکن ہوسکے ۔
اراکین اسمبلی نواب اسلم رئیسانی ،نصراللہ زیرے ،اختر حسین لانگو ، سید فضل آغا نے بھی قلت آب سے معلق ایوان میں اظہار خیال کیا جس پر صوبائی وزیر نوابزادہ طارق مگسی نے تجویز دی کہ قرار داد میں جن علاقوں کا ذکر کیا گیا ہے اس حوالے سے قرار داد منظور کی جائے بعدازاں ایوان نے قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ کا ایوان میں قرار داد پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ چین پاکستان اکنامک کوری ڈور کی مد میں ملک بھر میں62 ارب ڈالر کے قریب سرمایہ کاری کی گئی لیکن بلوچستان کو نظرانداز کیا گیا جس کی وجہ سے صوبے کے عوام میں احساس محرومی پائی جاتی ہے ۔
لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کے وہ سی پیک کی مد میں کی جانے والی غیر منصفانہ تقسیم کی بابت فوری طور پر ایک قومی کمیشن کی تشکیل کا اعلان کرکے بلوچستان کو سی پیک منصوبہ کی تفصیلات اور رقبہ کی بنیاد پر اس کا حق ادا کرنے کو یقینی بنائے تاکہ صوبے کے عوام میں پائی جانیوالی احساس محرومی کا ازالہ ممکن ہو۔
وزیراعلیٰ کی ایوان میں عدم موجودگی پر ڈپٹی اسپیکر نے ایوان کی رائے سے قرار داد آئندہ سیشن کیلئے ملتوی کرنے کی رولنگ دی۔ اجلاس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرے کا قرار داد پیش کرتے ہوئے کہنا تھاکہ صوبے کے مختلف قومی شاہراؤں کوئٹہ چمن ، کوئٹہ سبی ، کوئٹہ کراچی، کوئٹہ ژوب ، کوئٹہ ڈی جی خان سمیت دیگر قومی شاہراؤں پر آئے روز تیز رفتاری کے باعث حادثات رونما ہوتے ہیں اور اب تک کئی قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں ۔
لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ صوبے کے تمام قومی شاہراؤں کو موٹر وے پولیس کے حوالے کرنے کو یقینی بنائے تاکہ تیز رفتاری کی روک تھام اور حادثات میں کمی ممکن ہوسکے ۔ قرار داد پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے اکبر مینگل ، تحریک انصاف کے مبین خلجی نے اظہار خیال کیا ۔
اجلا س میں جمعیت علماء اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی ملک سکندر ایڈووکیٹ نے آسیہ بی بی فیصلے سے متعلق سپریم کورٹ میں نظر ثانی کیلئے قرار داد ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مسئلہ سپریم کورٹ کا نہیں اسلامی اقدار اور روایات کا ہے اسلامی اقدار پر کوئی سودا بازی نہیں کرینگے ۔
قرار داد پر اراکین اسمبلی اصغر علی ترین ،ثناء بلوچ سید فضل آغانے بھی اظہار خیال کیا ایوان نے جمعیت علماء اسلام کے رکن ملک سکندر ایڈووکیٹ کی پیش کی گئی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی ۔
اجلاس میں پشتونخوامیپ کے رکن نصراللہ خان زیرے کا گزشتہ اجلاس میں اپنی باضابطہ شدہ تحریک التواء کی موزونیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 18 اکتوبر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں این ایف سی کے تحت صوبوں کے فنڈز پر کٹ لگانے کی بات کی گئی اس بات کا اظہار ہم پہلے بھی کرتے آئے ہیں کہ موجودہ حکمرانوں کو اقتدار میں اس لیے لایا گیا کہ وہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم اور اٹھارویں ترمیم کو واپس لیں گے جو اٹھارہ اکتوبرکے اجلاس میں ثابت ہوگی ۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین میں صوبوں کا حصہ طے ہے اگر صوبوں کیخلاف اقدام کیا گیا تو اس کی مخالفت کرینگے انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے صوبوں کے فنڈز کی کٹوتی پر سوائے سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں کی جانب سے مخالفت بہت مشکل ہے ایک جانب ہم اس بات سے پریشان ہیں کہ ہمارے عوام بینادی سہولیات سے محروم ہیں ہمارے پاس فنڈز کی کمی ہے ۔
دوسری جانب فنڈز میں کٹوتی کی باتیں ہورہی ہیں انہوں نے کہا کہ ہم 18 ویں ترمیم سے بھی آگئے جانا چاہتے ہیں مگر صورتحال یہ کہ وفاق اس سے پیچھے جانا چاہتا ہے جو ممکن نہیں اگر ایسا ہوا تو سخت مخالفت کرینگے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کو غربت کی بنیاد پر زیادہ فنڈز دیئے جائیں ہمارا رقبہ اور پسماندگی کو بھی شامل کیا جائے اگر ایسا نہیں ہوا اور صوبہ کے فنڈز پر کٹ لگایا گیا تو پھر ترقیاتی منصوبہ تو دور کی بات ہے ۔
پھر شائد صوبائی حکومت کے پاس ملازمین کی تنخواہوں کیلئے بھی فنڈز نہ ہونگے ۔ تحریک التواء پر اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان چیف آف سراوان نواب اسلم رئیسانی کا کہنا تھا کہ گزشتہ8 سال سے نیا این ایف سی نہیں آرہا ہم کسی کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیتے لیکن کہنا ہوگا کہ این ایف سی ایوارڈ کیوں نہیں آرہا آیا معاملہ این ایف سی ایوارڈ کا کہا یا اس سے بڑھ کر اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنے کا ہے صدارتی نظام ملک میں لانے کی بات ہورہی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ سابق دور حکومت میں وفاقی وزارت داخلہ سے لائسنس منسوخ کرنے کے حوالے سے ایک لیٹر سوشل میڈیا میں آیا اتنا حساس لیٹر کیسے باہر نکلا اگر یہ ہوا تو پھر 18 ویں ترمیم کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جب میں وزیراعلیٰ تھا تو جاتے ہوئے صوبے میں 27 ارب روپے سرپلس چھوڑ کر گیا تھا آج 63 ارب روپے کے خسارہ کی باتیں ہورہی ہیں یہ بھی دیکھا جائے کہ یہ پیسے کہاں سے گئے انہوں نے ذور دیا کہ ایوان کی کارروائی کو موثر انداز میں اگئے بڑھانے کیلئے جلد اسٹینڈنگ کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے ۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے گزشتہ ماہ ہماری ایک قرر داد منظور ہوچکی ہے ہم نے اس وقت ہی صوبائی حکومت کو آگاہ کیا تھاوفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے وسائل پر کٹ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ہم نے حکومت کو اس وقت اس صورتحال اور مشکلات سے بچھانے کیلئے ہم نے قرار داد منظور کی اور حکومت کو یہ راستہ دیا کہ وہ ہماری قرار داد کو ساتھ لیکر وفاقی حکومت کے سامنے زیادہ بہتر انداز میں صوبے کے موقف کو پیش کریں ۔
قرار داد پر رکن بلوچستان اسمبلی شکیلہ نوید دہوار نے بھی اظہار خیال کیا ۔قرار داد سے متعلق صوبائی وزیر داخلہ میر سلیم کھوسہ کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اپوزیشن کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ اس مسئلہ کوسنجیدگی سے لیں گے اور این ایف سی ایورڈ میں کٹوتی کو کسی صورت برداشت نہیں کرینگے اور حکومت بھی تحریک کی حمایت کرتی ہے بعدازاں تحریک التواء کو متفقہ طور پر ایوان نے منظور کرلیا ۔
اجلا س میں شعبہ تعلیم سے متعلق منظور ہونے والے تحریک التواء پر ثناء بلوچ کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تحریک التواء نمبر ایک کے حوالے سے ثناء بلوچ کا کہنا تھا کہ مذکورہ تحریک کی کاپی ابھی ہمارے ٹیبل پر آئی ہے آج ہونے والے اسمبلی اجلاس کی کارروائی میں ہمارے پاس اسمبلی کے ایجنڈے میں بہت ساری قراردادیں اور تحریک التواء زیر بحث ہیں میری استدعا ہے کہ تعلیم سے متعلق ایک اچھی پالیسی بنے۔ شعبہ تعلیم کو سیکنڈری ہائیر سیکنڈری سے متعلق بہت سے مسائل درپیش ہیں ۔
میری گزارش ہے کہ منظور کی گئی تحریک التواء کو آئندہ اجلاس میں زیر بحث لایا جائے تاکہ تمام اراکین تحریک سے متعلق اپنی تجاویز دیں جس پر ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابرموسیٰ خیل نے تحریک کو تین نومبر کے اجلاس میں زیر بحث لانے کی رولنگ دیتے ہوئے تحریک نمٹا دی۔ ڈ پٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 3 نومبر سہہ پیر تین بجے تک ملتوی کرنے کی رولنگ دی ۔
این ایف سی ایوارڈ میں رقبہ کے اعتبار سے فنڈز رکھے جائیں ، آسیہ بی بی کیس کا ازسر نو جائزہ اور علماء پر مشتمل کمیٹی بنا یا جائے ، بلوچستان اسمبلی
![]()
وقتِ اشاعت : November 2 – 2018