|

وقتِ اشاعت :   November 2 – 2018

کوئٹہ: کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں ہیپاٹائٹس کی ویکسین اور ادویات چار ماہ سے غائب ہیں مگر محکمہ ماحولیات کو ایک چھاپے کے دوران لاکھوں روپے مالیت کی ویکیسن اور ادویات کچرے سے ملی ہیں۔وزیر صحت بلوچستان نصیب اللہ مری نے معاملے کا نوٹس لے لیکر تحقیقات کا حکم دیدیا۔

ادارہ تحفظ ماحولیات بلوچستان کے انسپکٹر ماحولیات عصمت شاہ کے مطابق انہوں نے کوئٹہ کے علاقے اسپنی روڈ پر بی ایم سی ہسپتال کے عقب میں ہسپتالوں کا فضلہ تلف کرنے کے مرکز (انسنریٹر) پر چھاپہ مارا اورہیپاٹائٹس بی کی تین ہزار عدد سرکاری مہر شدہ ویکیسن برآمد کیں۔ 

برآمد ہونیوالی ویکسین کی انتہائی مدت مارچ 2020تک ہے مگر اسے زائد المعیاد ادویات میں شامل کرکے ضائع کیا جارہا تھا۔عصمت شاہ نے بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ لاکھوں روپے کی سرکاری مہر شدہ ویکسین ایکپسائری سے قبل کس طرح تلف کرنے کیلئے لائی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ ایکسپائر شدہ ادویات کے سو سے زائد کاٹن بھی ملے ہیں۔

ہر کاٹن میں درجنوں پیکٹس ہوتے ہیں اور فی پیکٹ کی قیمت 745 روپے ہے۔ یہ ادویات مئی 2018ء کو ایکسپائر ہوئی تھیں۔ یہ ادویات مئی 2016ء میں بنائی گئی تھیں اس دوران یہ ادویات متاثرہ مریضوں تقسیم کیوں نہیں ہوئیں۔

انسپکٹر ماحولیات نے ویکسین اور ادویات قبضے میں لیکر بولان میڈیکل ہسپتال اور محکمہ صحت کے حکام کو آگاہ کردیا۔ رابطہ کرنے پر ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام بلوچستان کے سربراہ ڈاکٹر اسماعیل میروانی نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس کی ویکسین کو 2 سینٹی گریڈ سے لیکر 8 سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ 

مذکورہ ویکسین سول ہسپتال کوئٹہ کے ہیپاٹائٹس سینٹر میں بجلی کی ٹرپنگ کی وجہ سے بارہ سے چوبیس گھنٹے تک بجلی کی فراہمی معطل رہی اور مطلوبہ درجہ حرارت نہ ملنے کے باعث ناقابل استعمال ہوگئی تھیں۔ اگرچہ ویکسین کی ایکپسائری ڈیٹ میں ابھی کئی سال باقی تھے مگر مطلوبہ درجہ حرارت نہ ملنے کی وجہ سے یہ ویکسین ناکارہ ہوگئی تھیں اور اسے استعمال کرنے کی صورت میں مریضوں پر مضر صحت اثرات مرتب ہوسکتے تھے۔ 

ویکسین بازار میں فروخت ہونے سے بچانے کیلئے تلف کرنے کیلئے بی ایم سی کے سرکاری انسنریٹر کو بھیجی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس کی ویکسین اور ادویات کا ریلیز آرڈر چار ماہ سے جاری نہیں ہوا تھا جس کی وجہ سے ادویات کی قلت تھی مگر اب ہمیں ریلیز آرڈر مل گیا ہے ایک ماہ کے اندر ادویات خرید کر ادویات کی کمی کا مسئلہ حل کرلیا جائیگا۔ 

انہوں نے بتایا کہ صوبے بھر میں ہیپاٹائٹس کنٹرول کے چالیس کے قریب سینٹرز ہیں۔ کوئٹہ میں ہمارے تین سینٹرز قائم ہیں۔ ان سینٹرز سے عوام کو کٹس ،ویکیسن ،سرنج اور ادویات ملتی ہیں۔ کوئٹہ کے سول ہسپتال کے ہیپاٹائٹس سینٹر سمیت ہمارے کئی سینٹرز میں سولر ، یو پی ایس یا بجلی کا کوئی متبادل انتظام موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے یہ ویکسین استعمال کرنے سے پہلے ہی ضائع ہوگئیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ ہم نے انسنریٹر کو مذکورہ ویسکین بھیج کر تحریری طور پرضائع کرنے کی ہدایت کی تھی مگر ایک ماہ گزرنے کے باوجود یہ ویکسین ضائع کیوں نہیں کی گئیں یہ سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کی آٹھ سے دس فیصد آبادی ہیپاٹائٹس سے متاثرہ ہے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں نصیرآباد اورجعفرآباد شامل ہے۔وزیر صحت بلوچستان نصیب اللہ مری نے ویکسین استعمال ہونے سے پہلے ہی ضائع ہونے کا نوٹس لے لیا۔ 

انہوں نے کہا کہ ویکسین ضائع کیسے ہوئی اس کی تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ صوبے میں ہیپاٹائٹس کی ادویات اور ویکسین کی قلت ہے جسے جلد دو ر کرلیا جائیگا۔ 

وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی سربراہی ہماری وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں اور ہسپتالوں میں سہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔