کوئٹہ: بلوچستان کی سیاسی جماعتوں اور طلباء تنظیم کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد قومی اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں ،بلوچستان کے جملہ مسائل کے حل کیلئے حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بناتے ہوئے بلوچستان مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کیا جائے ۔
عوام کی آواز دبانے کی کوششوں سے لوگوں کی مایوسی اور بے چینی میں اضافہ فطری عمل ہوگا ۔ ہمیں بتایا جائے کہ ہمارے جو لوگ لاپتہ ہیں ہم انکی زندگی کیلئے دعا کریں یا مغفرت کیلئے بی ایس او کا آج کراچی سمیت بلوچستان بھر میں لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیلئے کیمپ قائم کرنے کا اعلان ۔
گزشتہ روز لاپتہ افراد کے کیمپ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ کا کہنا تھا کہ وفاق میں بلوچستان کے جملہ مسائل حل نہ ہونے تک وزارتیں اور مراعات نہیں لینگے ۔
پارٹی پر تنقید کرنے والوں نے گزشتہ دور حکومت میں بلوچ قومی اجتماعی مفادات کو پس پشت ڈال کر ذاتی مراعات میں اضافہ کیلئے وفاق سے ڈھائی ڈھائی سال صوبے میں حکومت کرنے کا معاہدہ کیا ۔
وفاقی میں دو وزارتوں کی پیش کش کو ٹھکراتے ہوئے وفاقی حکومت کی حمایت کے بدلے ہم نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی اور اجتماعی قومی مفادات کیلئے چھ نکات سامنے رکھ کر ملک کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے فلو ر پر پانچ ہزار سے زائد لاپتہ افراد کے ناموں کی فہرست ایوان میں پیش کرکے اسے قومی اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بنایا ہے ۔
آغا حسن بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ بی این پی نے 2012 ء میں بلوچستان کے جملہ مسائل کے حل کیلئے لاپتہ افراد کی بازیابی ، صوبے کے طول وعرض میں جاری مبینہ آپریشن کی بندش حکمرانوں کے نارواسلوک سے متعلق سپریم کورٹ میں اپنے چھ نکات پیش کئے تھے جس کے نتائج 6 سال گزرنے کے باوجود سامنے نہیں آئے ہیں ۔
پارٹی لاپتہ افراد کے لواحقین کی آواز بن کر انہیں بازیاب کرانے میں اپنا سیاسی کردار ادا کرتی رہے گی ۔ ملکی آئین کے تحت اگر کسی شخص نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے گرفتار کرکے عدالت میں فری ٹرائل کا موقع دیا جائے ۔
ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کا سپریم کورٹ تک تاریخی لانگ مارچ کے دوران سردار اختر جان مینگل وہ واحد قومی لیڈر تھے جنہوں نے اس میں شرکت کی تھی ۔لاپتہ افراد سے متعلق سپریم کورٹ بلوچستان رجسٹری میں پارٹی کے وکلاء لاپتہ افراد کے کیسوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں ۔
بی این پی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے پرآشوب حالات میں لاپتہ افراد کے لواحقین کا اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے احتجاج انسانی حقوق کے عالمی اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ حکمرانوں کی خواہش ہے کہ ملک میں کالا قانون نافذ کرکے بلوچستان میں سیاسی جدوجہد کرنے والی پارٹیوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارے بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیکر صوبے میں جاری مظالم کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھائیں ۔ بلوچستان نیشنل موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال کی بجائے بلوچستان مسئلہ کا پر امن حل نکالا جائے ۔
لاپتہ افراد کامسئلہ بلوچستان کے سیاسی مسئلے کیساتھ جڑا ہے ،لاپتہ افراد میں ڈاکٹرز ، انجینئرز ، طالب علم شامل ہیں اگرلاپتہ افراد کسی بھی دہشت گردی میں ملوث ہیں ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے تمام جماعتوں کو لاپتہ افراد کے لئے ایک ہونا پڑے گا پارلیمنٹ اور اسمبلیاں بے اختیار ہیں آپریشن کے نام پر بے گناہ لو گوں کو اٹھانا قابل مذمت ہے عوام کو سیاسی جدوجہد کرنا ہو گی۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کی خاتون رہنماء ثانیہ حسن کشانی کا کیمپ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سمجھ نہیں آرہا کہ ہمارے جو بھائی لاپتہ ہیں ہم انکی زندگی کیلئے دعا کریں یا مغفرت کیلئے سالوں سے لاپتہ افراد کے لواحقین محض ملک میں آئین کی بالادستی قانون کی حکمرانی کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں مگر انہیں نظرکچھنہیںآرہا ۔
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین نذیر بلوچ کا کیمپ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی میں حکمرانوں کی عدم سنجیدگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ لاپتہ افراد کی گمشدگی میں حکمران برابر کے شریک ہیں۔ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں جس کے تحت سالوں تک لوگوں کو لاپتہ رکھا جائے ۔
گونگے اور بہرے حکمرانوں کو خود میں قوت گویائی اور سمات پیدا کرنا ہوگی ۔ بی ایس او کے وائس چیئرمین خالد بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آج کراچی سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع میں لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیلئے ایک روزہ احتجاجی کیمپ لگائے گی ۔