|

وقتِ اشاعت :   January 3 – 2019

کوئٹہ : بلوچستان کے ضلع دکی کے قریب چمالانگ میں کوئلہ کان میں حادثے سے دو بھائیوں سمیت چار کانکن جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔

تفصیل کے مطابق واقعہ دکی کے قریب چمالانگ کے علاقے اکرام بورڈ چھ فٹی میں پیش آیا جہاں پانچ کانکن کوئلہ نکالنے کا کام کررہے تھے اس دوران گیس بھر جانے سے اچانک دھماکا ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں کان میں آگ بھڑک اٹھی اور کان کا ایک حصہ بھی بیٹھ گیا۔ ملبے تلے دبنے اور جھلسنے کے نتیجے میں چار کان کن جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔ 

جاں بحق کانکنوں میں حبیب الرحمان ولد غلام محمد اور اس کا بھائی محمد صدیق ،جاوید ولد حبیب الرحمان ،خالد ولد نجیب اللہ شامل ہیں۔ زخمی کی شناخت رحمت اللہ ولد زیارت گل کے نام سے ہوئی ہے۔ جاں بحق اور زخمی ہونیوالے پانچوں کانکن افغانستان سے کانکنی کرنے آئے تھے اور ان کا تعلق وردگ قبائل کے ایک ہی خاندان سے ہے۔

لاشوں اور زخمی کانکنوں کو مقامی مزدوروں نے اپنی مدد آپ کے تحت باہر نکالا اور اسپتال منتقل کیا۔ زخمی کانکن کو ابتدئای طبی امداد کے بعد مزید علاج کیلئے کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔ جبکہ جاں بحق مزدوروں کی میتیں آبائی وطن افغانستان روانہ کر دی گئیں۔ 

چیف انسپکٹر مائنز کا کہنا ہے کہ حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے مزدوروں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی ہیں کہ کوئلہ کانوں میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لئے موثر حفاظتی انتظامات کئے جائیں۔یاد رہے کہ چمالانگ میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کوئلہ کان میں پیش آنیوالا یہ تیسرا حادثہ ہے۔تینوں حادثات میں اب تک آٹھ کانکن جاں بحق ہوچکے ہیں۔ 

بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں مزدوروں کی زندگیوں کے تحفظ کیلئے مناسبت انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے آئے دن ایسے حادثات پیش آتے ہیں۔ صرف گزشتہ سال مختلف کوئلہ کان حادثات میں ستر سے زائد کانکن اپنی زندگی گنواچکے ہیں۔