|

وقتِ اشاعت :   January 5 – 2019

کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء اوروزیراعلیٰ میڈیا سیل کے سربراہ محمد عظیم کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستا ن حکومت صوبے کے عوام کی فلاح وبہبود کیلئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لارہی ہے ۔ حکومت نے گزشتہ سو دنوں میں عوام کے مفاد میں 40 سے زائد ہم فیصلہ کئے ہیں ۔

صوبے میں پانی سے متعلق مسائل کے حل کیلئے واٹر ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے 85قوانین میں اصلاحات کی گئیں ہیں 20ہزار خالی اسامیوں تعیناتیوں کیلئے فارمولاواضح اور وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ 

گزشتہ روز کوئٹہ پریس کلب میں حکومت بلوچستان کے سو دنوں کی کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے عظیم کاکڑکا مزید کہنا تھا کہ صوبے کے مفاد میں حکومت نے گزشتہ چار مارہ کے دوران 85قوانین میں اصلاحات کی ہیں مختلف سرکاری محکموں میں خالی 20ہزاراسامیوں پر تعیناتیوں کیلئے فارمولا طے کیا گیا ہے ۔

بلوچستان میں 7سوسے زائد ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈزکے اجراء اورمختلف محکموں کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ وزیراعلیٰ بلوچستان کو پیش کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کے ہمراہ دورہ چین ،کوئٹہ اور اسلام آباد میں چینی حکام سے ملاقاتوں کے دوران سی پیک منصوبے میں بلوچستان کیلئے خصوصی 9فیصد حصے کا مطالبہ اور آٹھویں جے سی سی میٹنگ میں ماہی گیری ، معدنیات اوردیگر شعبوں میں معاونت کا مطالبہ کیا ہے۔

صوبائی کابینہ کے اجلاس میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ہنگامی صورتحال جاری کیاگیا ہے،پانی سے متعلق مسائل کے حل کیلئے واٹر ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیاہے ماحولیات اور خشک سالی سے متعلق امداد کیلئے 50کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں بلوچستان میں 85قوانین اور اصلاحات کی گئیں ہیں سرکاری محکموں میں ملازمت کیلئے حصول کیلئے عمرکی بالائی حد بڑھا کر 43سال مقرر کی گئی ہے ۔

وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ صوبے کے 7سوسے زائد ترقیاتی منصوبوں اور ڈیپارٹمنٹس کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کی گئی ہے سرکاری ملازمین کیلئے بلوچستان اسمبلی میں انڈومنٹ فنڈ اصلاحات،1961کا ایکٹ منسوخ کرکے 57سال بعد نیا قانون بنایا گیاہے ۔ 

صوبائی حکومت نے گوادر میں یونیورسٹی کے قیام کیلئے 5سوایکڑ زمین اورایک ارب کا اعلان کرکے منصوبہ سے متعلق اسمبلی سے قرار داد منظور کرائی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام اضلاع کے کمشنر اورڈپٹی کمشنرکو خصوصی اختیارات دیئے گئے ہیں ڈپٹی کمشنرز کو کھیل ،خشک سالی و دیگرہنگامی صورتحال کیلئے خصوصی فنڈز جاری کئے گئے ہیں ۔ 

بلوچستان حکومت نے تمام اضلاع کیلئے 1سو50ملین اضافی ترقیاتی فنڈز اور کمشنرز کوسوملین تک کے اہم منصوبے بنانے کے اختیارات دیئے ہیں۔ 3 ماہ کی قلیل مدت میں بلوچستان ریوینیوایکٹ کی ریکارڈ آمدن 4ارب روپے ہوئی منرل انڈسٹری ،ماہی گیری ،محکمہ ماحولیات اور محکمہ حیوانات زراعت و ٹرانسپورٹ محکمے سے موثر آمدنی کمانے کیلئے اہم منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ صوبائی دارالحکومت کی صفائی کیلئے جاری مہم کے دوران ابتدائی مرحلے میں 20وارڈ کی صفائی کا کام مکمل کیا گیا ہے ۔ 

سریاب کیلئے 1ہزار84ملین مختص ،کچلاک میونسپل کمیٹی کی تشکیل ،سبزل روڈ کیلئے 4ہزار4سو81ملین ،جوائنٹ روڈ کیلئے 4ہزار8سو14ملین اورسمگلی روڈ کی توسیع کا فیصلہ کیا گیا حکومت کی جانب سے معذور فراد کیلئے سرکاری ملازمتوں میں پانچ فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ۔عظیم کاکڑنے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر بلوچستان بھر میں ناقص ادویات بیچنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن ،ڈرگ مافیا کے خلاف کارروائی کے دوران درجنوں لیبارٹریز ،کلینک اور میڈیکل سٹور سیل کردیئے گئے ہیں ۔